کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں سکولوں میں بچوں کو کتابوں کی عدم فراہمی اور فارم47کے حکمرانوں کی جانب سے تعلیمی انقلاب لانے کے دعوں پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یکم مارچ سے بلوچستان کے سرد علاقوں میں سکولوں میں تدریسی عمل کا آغا ز ہونے کے باوجود ہنوز تعلیمی درس گاہوں میں کتابو ں کی عدم فراہمی اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ موجودہ حکمرانوں کے اقتدار پر قابض ہونے کے بعد عوام سماجی ، معاشی ، معاشرتی مسائل کے دلدل میں دھنستے جا رہے ہیں
حکمران بلند و بالا دعوے کرتے ہوئے نہیں تھکتے مگر عملی طور پر بلوچستان میں انسانی بنیادی ضروریات ناپید تعلیم کے حوالے سے حکمرانوں کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں
ایک ماہ گزرنے کے باوجود بھی سکولوں میں بچوں کوتعداد کے حساب سے کتابیں فراہم نہیں کی گئیں پہلے لاکھوں کتابیں چھاپ کر طلباو طالبات میں تقسیم کر جاتی تھیں مگر اب کتابوں کی تقسیم میں مخصوص سکولوں تک محدود ہے جس سے درس و تدریس کیلئے قائم سکول ، کالجز ، یونیورسٹیز میں تعلیمی عمل تعطل کا شکار رہا ہے
بیان میں کہا گیا کہ ہزاروں بلوچ طلباو طالبات ، بلوچستان شہریوں کے نام فورتھ شیڈول میں ڈالنے کے مقصد یہی ہے کہ تعلیم کے زیور سے بلوچستان کے عوام کو آراستہ ہونے سے روکا جائے موجودہ حکومت عوام کو بنیادی سہولیات دینے سے قاصر ہے لفاظی باتیں تو کی جاتی ہیں
مگر ان کا کردار مایوس کن ہے بیان میں کہا گیا ہے کہ فوری طور پر بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کوئٹہ و بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں طلباو کتابوں کی فراہمی یقینی بنائیں تاکہ بچوں اور والدین میں پائی جانے والی بے چینی ختم ہو سکے ۔
Leave a Reply