کوئٹہ: صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے کہا ہے کہ 250ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ ملک کے 44فیصد حصے کو ترقی دینے کے لیے بہت کم ہے، پورٹ اور مائننگ کے شعبے چلیں تو بلوچستان کی مالی پوزیشن بہتر ہوسکتی ہے،
آئی ایم ایف کی شرائط پر آئندہ مالی سال کا بجٹ بھی سرپلس ہوگا، این ایف سی ایوارڈ کے تحت بلوچستان میں غربت کے ساتھ ساتھ رقبے کو بھی ملحوظ خاطر رکھنے کا مطالبہ کریں گے، صوبوں کی کوشش ہے کہ پاکستان کے مفاد میں فیصلہ کیا جائے ۔یہ بات انہوں نے کوئٹہ میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی ۔ میر شعیب نوشیروانی نے کہا کہ کفایت شعاری مہم کے تحت بلوچستان حکومت نے موجودہ وزراء کے زیر استعمال گاڑیوں کی تعداد محدود کردی ہے حکومت الیکٹرک گاڑیوں کی جانب جارہی ہے سابق وزراء سمیت دیگر حکام کے زیر استعمال گاڑیوں کی واپسی سے متعلق فیصلے پر عملدآمد کریں گے ۔
انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت قائم گروپس کے اجلاس ہو ئے ہیں اب تک ہونے والی پیش رفت سے مستقبل میں بہتری کے امکانات ہیںبلوچستان کا سب سے اہم مسئلہ غربت ہے ابھی تک ہم 1998کے اعداد وشمار کے مطابق چل رہے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ نئے فارمولے میں بلوچستان کے رقبے کو بھی ملحوظ خاطر رکھا جائے آنے والے اجلاس میں ہم اپنا موقف رکھیں گے ۔انہوں نے کہا کہ تمام صوبوں کے مسائل ہیں سابقہ فاٹا اضلاع کے حوالے سے بھی خیبر پختونخواء کے مسائل موجود ہیں اس وقت ہم سب کی کوشش ہے کہ تمام صوبے قومی مفاد میں اکھٹے ہوں تاکہ اسکا فائدہ پاکستان کو پہنچے ۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاری میں کسی قسم کی مشکلات نہیں ہیں وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی سربراہی میں خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے یہ کہنا کہ صوبہ خود کفیل ہے درست نہیں ہے صوبے کی اہم ترین انڈسٹری مائننگ اور پورٹ ہیں یہ دونوں چیزیں چلیں گی تو صوبے کی مالی پوزیشن بہتر ہو سکتی ہے فی الحال ہم ڈی ویزایبل پول کی جانب دیکھ رہے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال بھی سرپلس بجٹ پیش کیا اب بھی آئی ایم ایف سمیت دیگر لواضمات ہیں کوشش ہوگی کہ خسارہ کی جانب نہ جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں اسکیمات کی مسلسل نگرانی سے ترقیاتی کاموں کی پیش رفت میں بہتری آئی ہے آئندہ بجٹ میں تعلیم، صحت کے علاوہ دیگر شعبوں کو بھی ترجیح دیں گے تاہم 250ارب ملک کے 44فیصد حصے کو ترقی دینے کے لیے بہت کم ہیں ۔
Leave a Reply