کوئٹہ : سینئر سیاست دان وسابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میرلشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ ایران کی فتح چھوٹے محکوم قوموں کی فتح ہے، جنہیں بین الاقوامی سامراج کے ماتحت نظام نے غلام بنایا ہے، ایرانی ملت نے بیرونی جارحیت کیخلاف قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے شعوری مزاحمت سے صہیونی نوآبادیاتی نظام کو پسپا کیا۔
یہ بات انہوں نے جمعرات کو خانہ فرہنگ ایران کوئٹہ کے زیراہتمام کوئٹہ پریس کلب میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے چہلم کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے ایرانی ملت سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے باعزت ابدی زندگی قبول کرکے اپنے اور اپنے خاندان کے خون سے صہیونی نو آبادیاتی نظام کے خلاف مزاحمت کو طاقت بخشی،
انہوںنے ایرانی عوام کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ جنہوں نے بیرونی جارحیت کے خلاف قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شعوری مزاحمت کے ساتھ صہیونی نوآبادیاتی نظام کو پسپا کیا، انہوں نے کہا کہ یہ جنگ گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری ہے جس میں لوگوں نے اپنی قیادت، سفید ریش، معززین کی قربانیاں دے کر سیاسی، علمی اور شعوری مزاحمت کو آگے بڑھایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ جنگ ایران، امریکہ اور اسرائیل کی نہیں بلکہ فلسطین کی آزادی کی جنگ ہے، جہاں فلسطین اور غزہ میں لوگ قربانیاں دے رہے ہیں
وہاں حزب اللہ کے قائد شیخ حسن نصراللہ نے بھی اپنے ساتھیوں کے ساتھ قربانی دی ان کی قربانی نے فرقہ واریت کے تفرقہ کو دفن کردیا، انہوں نے کہا کہ اسرائیل کا نوآبادیاتی نظام قطعاً بات چیت نہیں چاہتا وہ قتل عام کے ذریعے دنیا پر قبضہ کرنا چاہتا ہے 40 دن سے امریکی صدر مسلسل جھوٹ بول رہا ہے، امریکی صدر چاہتا ہے کہ ایران ایٹم بم نہ بنائے لیکن اسرائیل جس نے فلسطین، غزہ اور لبنان میں قتل عام کیا اس کے پاس موجود ایٹم بم کی بات نہیں کرتا، انہوں نے کہا کہ امریکہ، اسرائیل عالم اسلام میں کسی آزاد، خودمختار ملک کا وجود نہیں چاہتے، تاہم ایران نے اس کے خلاف مزاحمت کی، ایران نے اپنے رہبر اعلیٰ اور قیادت کی قربانیاں دی اور متحد ہوکر امریکہ اور اسرائیل کو پسپا کیا،انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ گریٹر اسرائیل بنے گا نہیں بن گیا ہے، کیا سعودی عرب سمیت کسی اسلامی ملک نے اسرائیل کے خلاف مزاحمت کی؟ انہوں نے کہا کہ سیکورٹی کونسل میں بار بار فلسطینی قتل عام کے خلاف قرارداد کو ویٹو کیا گیا،
آئی اے ای ائے اور عالمی عدالت انصاف نے بھی کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران نہ صرف عالم اسلام بلکہ محکموں قوموں کی جنگ لڑرہا ہے، ایران کی فتح چھوٹی محکوم قوموں کی فتح ہے، انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور امریکہ کی شکست ایران اور عرب دنیا کی فتح ہوگی، علماء کرام کو چائیے کہ قوموں، مذاہب، طبقات کو یکجا کرکے سیاسی مزاحمت کا آغاز کرکے نوآبادیاتی صہیونی نظام کوشکست دیں۔
بلوچستان کے سیاسی و مذہبی رہنمائوں کہا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای امریکہ کے سامنے سرنڈر کرنے کی کی بجائے اپنی جان قربان کرکے ہمیشہ کے لئے امر ہوگئے، ایرانی عوام نے بھرپور قومی یکجہتی کا مظاہرہ اور شعوری مزاحمت کرکے دنیا کے سامنے امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کو بے نقاب کیا۔ یہ جنگ ایران، امریکہ اور اسرائیل کی نہیں بلکہ فلسطین کی آزادی کی جنگ ہے، علماء کرام قوموں، مذاہب، طبقات کو یکجا کرکے سیاسی مزاحمت کا آغاز کرکے نوآبادیاتی صہیونی نظام کوشکست دیں، ایران پر حملے کے بعد تمام ممالک کو اقوام متحدہ کی ناکامی کو تسلیم کرتے ہوئے اس کا ازسرنو جائزہ لیکر موثر اقدامات اٹھانے کے لئے اپنا کردار اد اکرنا ہوگا۔
یہ بات ایرانی قونصلیٹ کے انچارج عبدالرحیم گلفام، نیشنل پارٹی کے سربراہ سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل عبدالرحیم زیارتوال، جمعیت علماء اسلام (نظریاتی) کے مرکزی امیر مولانا عبدالقادر لونی، بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ، صوبائی خطیب مولانا انوار الحق حقانی، جمعیت علماء اسلام کے رہنماء حاجی عین اللہ شمس، امام جمعہ علامہ ہاشم موسوی، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات عیسیٰ روشان، سابق سیکرٹری سرور جاوید، ڈائریکٹر جنرل خانہ فرہنگ ایران ابو الحسن میری، مسلم لیگ (ن) کے رہنماء چوہدری نعیم کریم، جماعت اسلامی کے رہنماء عارف دمڑ، سابق سیکرٹری منظور حسین سمیت دیگر نے جمعرات کو ایران کے سپریم لیڈرآیت اللہ خامنہ ای کے چہلم کے موقع پر کوئٹہ پریس کلب میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی،رہنمائوں نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو ان کی قربانی پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 40 دن کی جنگ میں امریکہ اور صہیونی قوتوں کے سامنے سرنڈر کرنے کی بجائے اپنے خاندان اور ساتھیوں سمیت خون کا نذرانہ دئے کر تاریخ رقم کرتے ہوئے ہمیشہ کیلئے امر ہوگئے،
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے باعزت ابدی زندگی قبول کرکے اپنے اور اپنے خاندان کے خون سے صہیونی نو آبادیاتی نظام کے خلاف مزاحمت کو طاقت بخشی، ایرانی عوام نے بیرونی جارحیت کے خلاف قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شعوری مزاحمت کے ساتھ صہیونی نوآبادیاتی نظام کو پسپا کیا،ایران نے جس طرح اپنے عوام کے ساتھ ملکر صہیونی طاقتوں کے عزائم کو ناکام بنایا اور دنیا میں اپنے وجود کو برقرار رکھا وہ سب کے سامنے عیاں ہے، ایرانیوں نے بھرپور قومی یکجہتی کا مظاہرہ اور شعوری مزاحمت کرکے دنیا کے سامنے امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کو بے نقاب کیا۔
رہنمائوں نے کہاکہ صہیونی طاقتوں نے ایران پر حملہ آور ہوکر اس پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جسے آیت اللہ خامنہ ای، ان کے خاندان، عوام سمیت فورسز نے یکجہتی کے ساتھ ناکام بنایا، انہوں نے کہا کہ امریکہ نے آیت اللہ خامنہ ای، حسن نصر اللہ، اسماعیل ہانیہ سمیت دیگر مسلم قائدین کو شہید کیا لیکن ایران پر قبضہ نہیں کرسکے حالانکہ خلیجی ممالک نے اڈے اور وسائل مہیا کررکھے تھے، اس صورتحال میں اقوام متحدہ، عالمی عدالت انصاف اور دیگر انسانی حقوق کے ادارے بھی بے نام رہ گئے جن کا ایسے حالات میں کوئی کردار نظر نہیں آیا۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کا نوآبادیاتی نظام قطعاً بات چیت نہیں چاہتا وہ قتل عام کے ذریعے دنیا پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ امریکی صدر چاہتا ہے کہ ایران ایٹم بم نہ بنائے لیکن اسرائیل جس نے فلسطین، غزہ اور لبنان میں قتل عام کیا اس کے پاس موجود ایٹم بم کی بات نہیں کرتا۔
امریکہ، اسرائیل عالم اسلام میں کسی آزاد، خودمختار ملک کا وجود نہیں چاہتے، تاہم ایران نے اس کے خلاف مزاحمت کی۔ ایران نے اپنے رہبر اعلیٰ اور قیادت کی قربانیاں دی اور متحد ہوکر امریکہ اور اسرائیل کو پسپا کیا۔
انہوں نے کہا کہ سیکورٹی کونسل میں بار بار فلسطینی قتل عام کے خلاف قرارداد کو ویٹو کیا گیا، آئی اے ای ائے اور عالمی عدالت انصاف نے بھی کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ ایران نہ صرف عالم اسلام بلکہ محکموں قوموں کی جنگ لڑرہا ہے، ایران کی فتح چھوٹی محکوم قوموں کی فتح ہے۔
اسرائیل اور امریکہ کی شکست ایران اور عرب دنیا کی فتح ہوگی۔مقررین نے کہا کہ ہمیں کسی تفرقہ میں پڑنے کی بجائے متحد ہوکر یکجہتی کے ساتھ امریکہ، اسرائیل اور عالم کفر کا مقابلہ کرنا ہوگا اگر مسلمان ممالک ایک چھتری تلے متحد ہوجائیں تو عالم کفر ان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کرسکتا اور ہم اتحاد و اتفاق سے انہیں ہر محاذ پر پسپا کرسکتے ہیں اس وقت ہم ایران اور فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔
Leave a Reply