کوئٹہ : بلوچستان نیشنل پارٹی کے سینئر رہنماؤ ں کا ایک اہم اجلاس پارٹی کے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبر ثناء بلوچ کی رہائش گاہ پر منعقد ہوا، جس کی صدارت مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل ملک نصیر شاہوانی نے کی
اجلاس میں مرکزی فنانس سیکرٹری اختر حسین لانگو، مرکزی لیبر سیکرٹری موسیٰ بلوچ،مرکزی ہیومن رائٹس سیکرٹری احمد نواز بلوچ، مرکزی خواتین سیکرٹری شکیلہ نوید دہوار، ٹکری شفقت لانگو، چیئرمین واحد بلوچ،حاجی باسط لہڑی،میر مقبول لہڑی، ملک عبدالولی کاکڑ، ضلعی آرگنائزرحاجی وحید لہڑی نے شرکت کی اجلاس میں شرکاء نے بلوچستان کی موجودہ علاقائی، سیاسی اور انسانی حقوق کی صورتحال کا تفصیلی اور تنقیدی جائزہ لیا۔
پارٹی قیادت نے صوبے بھر میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا، خاص طور پر سیکیورٹی کے نام پر جاری اقدامات کے تناظر میں۔
اجلاس میں جبری گمشدگیوں اور نوجوانوں و نہتے شہریوں کے قتل کے بڑھتے ہوئے واقعات کو نہایت تشویشناک قرار دیا گیا۔ پنجگور اور کوئٹہ کے حالیہ واقعات سمیت اسرار قلنڈرانی کی حراستی ہلاکت پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا، جسے ناقابل قبول قرار دیا گیا۔پارٹی رہنماو ¿ں نے صوبے میں جاری بدعنوانی اور گورننس کے بحران پر بھی تفصیلی گفتگو کی اور کہا کہ ان مسائل نے بلوچستان کے عوام کو درپیش مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ بدانتظامی، احتساب کی کمی اور وسائل کے غلط استعمال نے صوبے کو اس کے جائز حق سے محروم کر رکھا ہے۔اجلاس میں افغانستان اور ایران کی موجودہ صورتحال اور اس کے بلوچستان پر ممکنہ سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی اثرات پر بھی غور کیا گیا۔
بلوچستان نیشنل پارٹی نے جمہوری اقدار کے ساتھ اپنی وابستگی کو دہراتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ دیگر جمہوری قوتوں کے ساتھ مل کر ایک پرامن اور جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی، تاکہ موجودہ ظالمانہ اور غیر نمائندہ صوبائی حکومت کا مقابلہ کیا جا سکے۔
پارٹی نے اپنے کارکنوں اور حامیوں پر زور دیا کہ وہ اتحاد کو برقرار رکھیں، نچلی سطح پر تنظیم سازی کو مضبوط کریں، اور عوام کو متحرک کریں تاکہ موجودہ نظام سے نجات حاصل کی جا سکے اور بلوچستان کے عوام کے سماجی، سیاسی اور معاشی حقوق کو لوٹ مار اور استحصال سے محفوظ بنایا جا سکے۔
Leave a Reply