|

وقتِ اشاعت :   April 13 – 2026

کوئٹہ:  حکومتِ پاکستان کی جانب سے 10 روپے سے 5000 روپے تک کے نئے پلاسٹک (پولیمر) کرنسی نوٹ متعارف کرانے کی تیاری جاری ہے، تاہم اس حوالے سے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے عوامی اور سماجی حلقوں میں ایک بار پھر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ ماضی کی طرح اس بار بھی نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن میں بلوچستان کے تاریخی اور قومی مقامات کو نظر انداز کیا جاسکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق نئے پولیمر کرنسی نوٹوں کے اجرا کا مقصد کرنسی کو زیادہ پائیدار، محفوظ اور جعلسازی سے محفوظ بنانا ہے، تاہم نوٹوں پر شائع کی جانے والی تصاویر کے انتخاب کے حوالے سے مختلف حلقوں کی جانب سے نمائندگی کے مسئلے کو اجاگر کیا جارہا ہے۔ ماضی میں پاکستانی کرنسی نوٹوں پر بلوچستان کے اہم تاریخی مقامات، خصوصاً زیارت ریزیڈنسی اور درہ بولان کی تصاویر نمایاں طور پر شامل رہی ہیں۔ تاہم ماضی میں نئے ڈیزائن متعارف کراتے وقت ان نوٹوں سے بلوچستان کے کئی تاریخی مقامات کی تصاویر ہٹا دی گئی تھیں، جس پر بلوچستان کے عوامی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔

بعد ازاں عوامی دباؤ کے نتیجے میں صرف سو روپے کے نوٹ پر زیارت ریزیڈنسی کی تصویر کو دوبارہ بحال کیا گیا تھا۔ اب جبکہ ایک بار پھر 10 سے 5000 روپے تک کے پولیمر کرنسی نوٹ متعارف کرانے کی تیاری کی جارہی ہے، بلوچستان سے تعلق رکھنے والے بعض حلقوں کی جانب سے خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ نئے ڈیزائن میں صوبے کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جاسکتا ہے، جس سے احساسِ محرومی میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔

ماہرین کے مطابق کرنسی نوٹ کسی بھی ملک کی صرف مالیاتی علامت نہیں ہوتے بلکہ وہ قومی شناخت، تاریخ اور ثقافتی تنوع کی نمائندگی بھی کرتے ہیں۔ پاکستان جیسے کثیرالثقافتی ملک میں مختلف صوبوں اور خطوں کی تاریخی اور جغرافیائی شناخت کو کرنسی نوٹوں میں جگہ دینا قومی یکجہتی کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔

بلوچستان، جو رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، تاریخی اور جغرافیائی اہمیت کے حامل بے شمار مقامات کا حامل ہے۔

ایسے میں اگر نئے کرنسی نوٹوں میں بلوچستان کے تاریخی مقامات کو شامل نہ کیا گیا تو اسے صوبے کے عوام میں مزید محرومی کے احساس کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ماضی میں زیارت ریزیڈنسی اور درہ بولان جیسے مقامات کی تصاویر کی موجودگی نہ صرف بلوچستان کی نمائندگی کا ایک ذریعہ تھیں بلکہ ملکی تاریخ کے اہم ابواب کی یاد دہانی بھی کراتی تھیں۔

ان تصاویر کی عدم موجودگی کو بعض حلقے علامتی طور پر صوبے کی نمائندگی میں کمی کے طور پر بھی دیکھتے ہیں۔

سیاسی و سماجی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن کی تیاری کے دوران ملک کے تمام صوبوں، بالخصوص بلوچستان کے تاریخی اور ثقافتی مقامات کو مناسب نمائندگی دی جائے تاکہ قومی شناخت میں تمام اکائیوں کی شمولیت کو یقینی بنایا جاسکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *