|

وقتِ اشاعت :   April 14 – 2026

اسلام آباد : صدر مملکت آصف علی زرداری نے بلوچستان کے مسائل کے حل کیلئے مکالمے، بہتر طرزِ حکمرانی، بہتر روابط اور موثر آبی نظم و نسق کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کے استحکام اور ترقی کے بغیر پاکستان آگے نہیں بڑھ سکتا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو یہاں ایوانِ صدر میں 19ویں نیشنل ورکشاپ برائے بلوچستان کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں وفاقی وزیر سائنس ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی، سابق وزیراعظم و رکن قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف، بلوچستان کے سینئر سیاسی رہنماسردار یار محمد رند اور دیگر شخصیات نے شرکت کی۔ پاک فوج کی 12 ویں کور کے کمانڈر سگنلز بریگیڈیئر بلال غفور نے تقریب کی نظامت کی۔

صدر مملکت نے کہا کہ صوبے میں کام کے قابل ماحول کا پیدا کرنا ضروری ہے تاکہ لوگ روزگار کے مواقع کی تلاش میں نقل مکانی پر مجبور نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان معدنی وسائل سے مالا مال ہے لیکن اسے قلیل مدتی اقدامات کے بجائے طویل المدتی ترقیاتی منصوبوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد دریائے سندھ پر متعدد پلوں کی تعمیر سے بلوچستان کو ملک کے دیگر حصوں سے ملانے میں روابط بہتر ہوئے ہیں۔

صدر مملکت نے پانی کو ایک اہم مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ نہروں کی لائننگ کے منصوبوں پر عمل کیا جارہا ہے تاکہ پانی کے ضیاع کو کم کیا جاسکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پانی کا تحفظ زراعت اور کان کنی کیلئے ناگزیر ہے۔ انہوں نے آبی تحفظ کو اپنی ترجیحات میں شامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی آبپاشی ضروریات کیلئے علاقائی سطح پر تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ صدر آصف علی زرداری نے گوادر بندرگاہ کے حوالے سے کہا کہ ان کا وڑن ہے کہ بندرگاہ کی ترقی کے ثمرات مقامی قبائل اور برادریوں تک پہنچیں خصوصاً ان افراد تک جو گوادر جانے والی شاہراہوں کے اطراف میں آباد ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ بندرگاہ ایک بڑا معاشی مرکز بننے کی صلاحیت رکھتی ہے، اس کیلئے ضروری ہے کہ تمام فریق مل کر سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول پیدا کریں۔ صدر مملکت نے صوبے کے مسائل کے حل کیلئے اتحاد اور داخلی احتساب کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مکالمہ اور جمہوری عمل ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگ مسائل کا حل نہیں ہے۔

انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ اختلافات کو مشاورت اور تعاون کے ذریعے حل کیا جائے۔ صدر نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو چین۔پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت پیدا ہونے والے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہئے جسے انہوں نے مستقبل کی ایک تجارتی شاہراہ قرار دیا جو صوبے کو علاقائی اور عالمی منڈیوں سے جوڑتی ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان میں پائیدار امن کیلئے وسائل کے بہتر استعمال، سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول، نوجوانوں کی ترقی، زراعت کی جدت اور چھوٹے زمینداروں کی معاونت کیلئے ہدفی سبسڈیز اور جدید زرعی مشینری کی فراہمی پر توجہ دینا ضروری ہے۔

انہوں نے سیکیورٹی چیلنجز سے ذمہ دارانہ انداز میں نمٹنے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ غیر ملکی شہریوں خصوصاً چینی اساتذہ اور کارکنوں پر حملے افسوسناک اور پاکستان کے مفادات کیلئے نقصان دہ ہیں۔ صدر مملکت نے شورش کے خاتمے کیلئے قومی یکجہتی اور تعمیری مکالمے کی ضرورت کو بھی دہرایا۔ صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان علاقائی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کیلئے پرعزم ہے، انہوں نے بلوچستان اور سندھ کی بندرگاہوں کی قومی معیشت میں اہمیت کو اجاگر کیا جس سے دیگر صوبوں کو بھی سمندری تجارت تک رسائی کے ذریعے فائدہ ہورہا ہے۔ صدر مملکت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی یکجہتی اور ترقی بلوچستان کے استحکام سے جڑی ہوئی ہے اور حکومت صوبے کی ترقی اور قومی دھارے میں شمولیت کیلئے وسائل اور تعاون فراہم کرتی رہے گی۔

قبل ازیں کمانڈر سگنلز 12 کور بریگیڈیئر بلال غفور نے نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ ورکشاپ بلوچستان حکومتِ بلوچستان کا ایک قابلِ تحسین اقدام ہے جو 12 کور ہیڈکوارٹرز کوئٹہ کے اشتراک سے منعقد کیا گیا جس کا مقصد قومی ہم آہنگی اور صوبہ اور اس کے عوام سے متعلقہ امور پر تعمیری مکالمے کو فروغ دینا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ورکشاپ میں اراکین اسمبلی، صحافیوں، پالیسی سازوں، ماہرینِ تعلیم اور نوجوان قیادت کو ایک پلیٹ فارم پر لانے سے قومی یکجہتی کو فروغ ملتا ہے۔

19ویں نیشنل ورکشاپ برائے بلوچستان میں میڈیا سمیت مختلف اداروں سے 93 افراد شریک ہوئے جن کا تعلق بلوچستان سمیت ملک کے مختلف صوبوں سے ہے۔

انہوں نے کہا کہ شرکاء میں سے 60 فیصد کا تعلق بلوچستان جبکہ دیگر 40 فیصد کا تعلق پاکستان کے دیگر علاقوں سے ہے۔

صدر مملکت نے اس موقع پر نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء کے بلوچستان سمیت مختلف قومی امور کے متعلق سوالات کے جوابات بھی دیئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *