کوئٹہ: سینئر سیاست دان سابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے حقوق سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے نہ ہی اپنے موقف سے دستبردار ہوں گے ،
ہماری کوشش ہے کہ ماینز اینڈ منرلز ایکٹ کیموجودہ قانون کو واپس کرکے بلوچستان کے حقوق کا تحفظ کریں ۔یہ بات انہوں نے’’آن لائن‘‘کے رابطہ کرنے پر بات چیت کرتے ہوئے کہی ۔
نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری کی زیر صدارت بدھ کو مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کے حوالے سے اپوزیشن اراکین سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے مشاورتی اجلاس سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ ایکٹ کے حوالے سے ہونے والے اجلاس میں شریک سیاسی جماعتوں کے نمائندوں سے بات چیت اس نکتہ پر ہوئی کہ ایسی قانون سازی ہو جو بلوچستان کے ایک عام شہری کے حقوق اور بلوچستان کے مستقبل کا تحفظ کرے ،
اس لیے ہم جدوجہد کررہے ہیں ۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ازسر نو قانون سازی کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں ہماری طرف سے بیرسٹر محمد اقبال کاکڑ ، سید اختر شاہ کھرل شامل ہوں گے جو ایکٹ میں ترمیم کے حوالے سے ہونے والے اجلاس میں شریک ہوں گے ہماری کوشش ہوگی کہ بلوچستان کے حق کا دفا ع کریں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ کسی ایک مائن اونر یا طبقے کا مسلہ نہیں بلکہ قومی وسائل اور اختیار کا مسلہ ہے ، اس لیے ہم سنجیدہ ہیں مائنز اینڈ منرلز ایکٹ جدید نوابادیاتی قانون ہے جس کی آڑ میں بلوچستان کے وسائل کو کو ملٹی نیشنل کمپنیوں اور غیروں کو الاٹ کیا جارہا ہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اسمبلی سیمنظور ہونے والا مائنز اینڈ منرلز ایکٹ دوبارہ اسمبلی کے ہی فورم پر ختم ہوگا ہماری کوشش ہے کہ اس قانون کو جلد اسمبلی کے فورم پر واپس لایا جائے ۔
Leave a Reply