|

وقتِ اشاعت :   December 11 – 2018

کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کی زیرصدارت منعقدہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ سی پیک کی جوائنٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کے چین میں منعقد ہونے والے اجلاس کی تیاری کے لئے اسلام آبادمیں منعقد ہونے والے جوائنٹ ورکنگ گروپ کے اجلاس میں مغربی روٹ کے منصوبے شامل کرنے کے لئے مضبوط موقف اپنایا جائے گا اور سی پیک میں صوبے کی سماجی ترقی کے لئے نئے منصوبے پیش کئے جائیں گے۔

کابینہ کو سی پیک میں شامل بلوچستان کے منصوبوں اور جوائنٹ کوآرڈینشن کمیٹی کے اس ماہ منعقد ہونے والے آٹھویں اجلاس کے ایجنڈے میں شامل بلوچستان کے منصوبوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔

صوبائی کابینہ نے فیصلہ کیا کہ جوائنٹ ورکنگ گروپ کے اجلاس میں چار لائن کی ڈی آئی خان ژوب کوئٹہ شاہراہ، چار لائن کی خضدار بسیمہ شاہراہ، چار لائن کی نوکنڈی ماشکیل پنجگور مند تربت گوادر شاہراہ، لورالائی موسیٰ خیل تونسہ روڈ، خضدار تا حب دورویہ روڈ، مکران ٹرانسمیشن لائن، برج عزیز ڈیم اور حلک ڈیم کے منصوبوں اوربوستان اسپیشل اکنامک زون میں چینی صنعتوں کے قیام کے لئے چین کی ۔

حکومت کی وعدے کی تکمیل کو جوائنٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کے ایجنڈے میں شامل کرنے کی منظوری کے لئے پیش کیا جائے گا جبکہ اجلاس میں سی پیک کے تناظر میں عام آدمی کی معاشی حالت بہتر بنانے کے لئے منرل زونز، فشنگ زونز، انڈسٹریل زونز اور فوڈ پراسیسنگ جیسے منصوبوں کو بھی ناگزیر قرار دیا گیا۔

کابینہ نے اس بات سے اتفاق کیا کہ گذشتہ پانچ سال کے دوران سی پیک میں بلوچستان کے مفادات کو تحفظ نہیں دیا گیا، تاہم موجودہ حکومت بلوچستان کے مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے ہرممکن کوشش کرے گی اور بلوچستان کے جغرافیائی محل وقوع، وسیع وعریض اراضی اور معدنی وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے گا، کابینہ کا موقف تھا کہ اگر معدنیات، خوراک، لائیواسٹاک، سیاحت، ماہی گیری اور زراعت کے شعبوں کی ترقی کے منصوبے سی پیک میں شامل ہوں گے تو عام آدمی کی معاشی حالت بہتر ہوسکے گی۔ 

کابینہ نے اس امر سے اتفاق کیا کہ جوائنٹ ورکنگ گروپ میں بلوچستان کے موقف کو تسلیم کئے جانے کی صورت میں صوبائی حکومت جوائنٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کرے گی۔ 

صوبائی کابینہ نے محکمہ تعلیم کو لازمی سروس قرار دینے کے بل 2018کی بھی منظوری دی جسے اسمبلی کی حتمی منظوری کے بعد ایکٹ کی صورت میں نافذ کیا جائے گا اس اقدام کا مقصد تعلیمی اداروں میں بلاتعطل تعلیمی سرگرمیوں کو جاری رکھنا اور تعلیمی شعبہ میں ہڑتالوں کے رحجان کی حوصلہ شکنی کرنا ہے کابینہ نے بلوچستان پرائمری ایجوکیشن سپورٹ پروگرام کی منظوری بھی دی۔

اس پروگرام کے تحت غیر فعال 1800پرائمری اسکولوں کو فعال کیا جائے گااور کمپنی موڈ پر مجموعی طور پر 11432پرائمری اسکولوں کو بہتر بنایا جاسکے گا جن میں سے 5000پرائمری اسکول جن میں صرف ایک ٹیچر تعینات ہے ان میں کم از کم دو ٹیچر تعینات کئے جائیں گے جس سے روزگار کے مواقعوں میں بھی اضافہ ہوگا۔

صوبائی کابینہ نے 1500ملین روپے کی لاگت کے بلوچستان انڈومنٹ فنڈ کے قیام کی منظوری بھی دی جس کے تحت غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے عام آدمی کو سماجی تحفظ حاصل ہوگا اور فنڈ کے ذریعہ انہیں سات موذی امراض کے علاج کے لئے مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔ 

صوبائی کابینہ نے چیف منسٹر ڈسٹرکٹ ڈیویلپمنٹ پلان کے فیز۔II پر عملدرآمد کی منظوری بھی دی جس کے تحت صوبے کے تمام اضلاع کی یکساں ترقی کے لئے مختلف شعبوں میں ترقیاتی منصوبے شروع کئے جائیں گے اور ہر ضلع کا ڈپٹی کمشنر اس منصوبے کا پروجیکٹ ڈائریکٹر ہوگا۔ 

کابینہ نے پی ایس ڈی پی 2018-19ء کے جاری منصوبوں کی پیشرفت اور نئے منصوبوں کی ریشنلائزیشن کے عمل کا جائزہ بھی لیا اور محکمہ منصوبہ بندی وترقیات، محکمہ خزانہ اور ترقیاتی محکموں کو فنڈ کے اجراء کے عمل اور ترقیاتی منصوبوں کی پیشرفت کو تیز کرنے کی ہدایت کی گئی جبکہ کابینہ نے تمام محکموں کو مالی سال 2019-20ء کی پی ایس ڈی پی کی تیاری کے آغاز اور اسے مارچ 2019ء تک مکمل کرنے کی ہدایت کی۔

صوبائی کابینہ نے ڈویژنل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کے مالی اختیارات میں اضافہ کرکے اسے 100ملین روپے تک کرنے کی منظوری بھی دی۔ صوبائی کابینہ نے صوبے میں پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے نیوٹریشن ایمرجنسی کی منظوری دیتے ہوئے محکمہ صحت کو منصوبے کا پی سی۔I تیار کرنے کی ہدایت کی۔ 

نیوٹریشن ایمرجنسی کے نفاذ کا مقصد بچوں کی غذائی ضروریات پورا کرنے کے لئے ڈونرز کے تعاون کا حصول بھی ہے، کابینہ نے تحصیل دریجی ضلع لسبیلہ میں ولیج الیکٹریفیکیشن کے لئے تھانہ بولہ خان گرڈ اسٹیشن سے دریجی تک 33کے وی ٹرانسمیشن لائن کی تنصیب کے منصوبے کی تکمیل کی منظوری بھی دی۔ 

کابینہ نے بلوچستان گورنمنٹ رولز آف بزنس 2012ء میں ترمیم کی منظو ری بھی دی جس کے تحت اراکین اسمبلی کو پارلیمانی سیکریٹری مقرر کیا جاسکے گا۔ کابینہ نے بلوچستان پبلک سروس کمیشن ترمیمی بل 2018ء کی منظوری بھی دی جس سے اپنی تعیناتی کی میعاد پوری کرنے والے چیئرمین اور ممبر پبلک سروس کمیشن پر دوسری ملازمت کرنے پر عائد پابندی ختم ہوجائے گی۔ 

صوبائی کابینہ نے محکمہ مال کو گوادر میں 300میگاواٹ پاور پلانٹ کے لئے مطلوبہ اراضی خریدنے کی اجازت اور اراضی چینی کمپنی کو لیز پر دینے کے لئے معاہدہ کرنے کی منظوری بھی دی۔ یہ اراضی محکمہ توانائی کی ملکیت ہوگی جو اجارہ کی بنیاد پر 33سال کے لئے کمپنی کو دی جائے گی۔ جبکہ کمپنی پر بلوچستان کے تمام ٹیکس لاگو ہوں گے اور کمپنی ان ٹیکسوں کی ادائیگی کی پابند ہوگی۔ 

صوبائی کابینہ نے بلوچستان لینڈ ریونیو ایکٹ میں ترمیم کی منظوری بھی دی جس کے تحت خواتین کو وراثت میں ملنے والی جائیداد انتقال فیس سے مستثنیٰ ہوگی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ سی پیک کے فریم ورک میں شامل پٹ فیڈر سے کوئٹہ کو پانی کی فراہمی اور کوئٹہ ماس ٹرانزٹ ٹرین کے منصوبوں کے متبادل منصوبوں کا جائزہ لیا جائے ۔

جن میں چیک ڈیمز، واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ اور کچلاک تا سپیزنڈ ریلوے ٹریک کے اطراف میں ایکسپریس وے کی تعمیر اور میٹروبس جیسے منصوبے شامل ہیں۔ کابینہ کا طویل اجلاس تقریباً گیارہ گھنٹے جاری رہا۔