|

وقتِ اشاعت :   December 14 – 2018

کوئٹہ : وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ تعلیمی شعبہ میں انحطاط حکومت اور معاشرے کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے جس سے نمٹنے کے لئے حکومت پوری طر ح پرعزم ہے معاشرے کے بااثر حلقوں اور نوجوانوں کو بھی تعلیمی شعبہ کی بہتری کے اقدامات میں اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔ 

ان خیالات اظہار انہوں نے گذشتہ روز کوئٹہ انسٹیٹیو آف میڈیکل سائنسز کے طلباء اور طالبات میں بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کے تحت تعلیمی وظائف تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، رکن صوبائی اسمبلی مبین خان خلجی، سیکریٹری کالجز عبدالصبور کاکڑ، کوئٹہ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے کمانڈنٹ بریگیڈیئر محمد اکبر اور دیگر متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ سماجی شعبہ بالخصوص تعلیم کے معیار کی بہتری بے شک حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے ،حکومت اپنی اس ذمہ داری سے صحیح معنوں میں عہدہ برا بھی ہورہی ہے اور تعلیمی معیار کی بہتری کے لئے اصلاحات لائی جارہی ہیں جن کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہوں گے، ہمارے پاس ترقی کرنے کا واحد راستہ تعلیم کا ہے، ہمارے نوجوان بہتر تعلیم حاصل کرکے ہی صوبے اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرسکتے ہیں۔ 

وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے کے طلباء کی خوش قسمتی ہے کہ آج انہیں تعلیمی حصول کا بہتر ماحول اور وظائف کی صورت میں معاونت حاصل ہے جس سے وہ اپنا تعلیمی سلسلہ جاری رکھ سکتے ہیں، وزیراعلیٰ نے کہا کہ ماضی میں صوبے میں تعلیمی معیار بہت بہتر تھا ہمارے پاس قابل اساتذہ موجود تھے جو تعلیم کی فراہمی کو مقدس فریضہ سمجھتے تھے تاہم ناقص پالیسیوں کے باعث بتدریج تعلیمی شعبہ پسماندگی کا شکار ہوتا چلا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اب وہ تعلیمی ادارے بہتر مقام حاصل کریں گے جن کی کارکردگی نمایاں ہوگی، وزیراعلیٰ نے طلباء پر زور دیا کہ وہ تعلیم کے حصول کے مواقعوں سے بھرپور استفادہ کریں، انہیں چاہئے کہ وہ روشن پاکستان کی طرف دیکھیں،پروفیشنل اداروں کے طلباء عملی اور پیشہ ورانہ زندگی میں داخل ہورہے ہیں جہاں مقابلے کا رحجان زیادہ ہے، لہٰذا وہ وقت ضائع کئے بغیر اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنائیں۔

وزیراعلیٰ نے طلباء سے کہا کہ وہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعہ جدید ریسرچ تک رسائی پیدا کریں،وزیراعلیٰ نے بیف کو شعبہ تعلیم کی بہتری کی جانب اہم پیشرفت قراردیتے ہوئے کہا کہ حکومت اس پروگرام کی افادیت میں اضافہ کے لئے مزید اقدامات کرے گی تاکہ تحصیل سطح تک ہونہار طلباء اس سے استفادہ کرسکیں۔

قبل ازیں بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کے منیجر ڈاکٹر مسعود جعفر نے اپنے ادارے کی کارکردگی اور وظائف کے اجراء کے طریقہ کار حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کیا، بعدازاں وزیراعلیٰ نے طلباء اور طالبات میں وظائف تقسیم کئے۔

دریں اثناء وزیراعلیٰ کا کوئٹہ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز پہنچنے پر ادارے کے کمانڈنٹ اور دیگر حکام نے استقبال کیا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ کو ادارے کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ادارے کی بنیاد 2011ء میں رکھی گئی، اب تک دوبیچ پاس آؤٹ ہوئے ہیں، ہر بیچ میں طلباء کی تعداد ایک سو ہے، وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ کوئٹہ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں کالجز آف میڈیسنز، کالج آف نرسنگ اور کالج آف ڈینٹسٹری شامل ہیں۔

کالج آف میڈیسن اور کالج آف نرسنگ میں تدریسی عمل جاری ہے تاہم کالج آف ڈینٹسٹری کا قیام ابتدائی مراحل میں ہے، وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ کالج کے طلباء وطالبات کو ٹیچنگ ہسپتال کے طور پر کمبائنڈ ملٹری ہسپتال کی سہولت دستیاب ہے جبکہ ایف سی ہسپتال کے ٹیچنگ ہسپتال کے طور پر ادارے سے الحاق کے معاہدے پر دستخط ہوئے ہیں جس سے طلباء کی تعداد سو سے بڑھا کر ایک سو پچاس کردی جائے گی۔

وزیراعلیٰ نے ادارے کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہاں سے معیاری ڈاکٹر تیار ہوکر عملی زندگی میں آرہے ہیں جس سے ڈاکٹروں کی کمی پر قابو پانے میں مدد مل رہی ہے، انہوں نے محکمہ صحت کی نرسوں کو کالج آف نرسنگ کے ذریعہ تربیت کی فراہمی کاعمل شروع کرنے کی ہدایت کی۔ 

دریں اثناء وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے چینی سفیر مسٹر یاؤ جنگ اور وفاقی وزیر منصوبہ بندی خسرو بختیار کوان سے علیحدہ علیحدہ ہونے والی خصوصی ملاقاتوں میں سی پیک کے حوالے سے حکومت بلوچستان کے موقف اور صوبائی کابینہ کے فیصلوں سے آگاہ کیا ہے، ان ملاقاتوں کا مقصد سی پیک کی جوائنٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کے بیجنگ میں منعقد ہونے والے آئندہ اجلاس میں بلوچستان کے سماجی شعبے کی ترقی کے منصوبوں کو سی پیک کا حصہ بنانے کی منظوری کا حصول ہے۔

حکومت بلوچستان کا موقف ہے کہ گذشتہ پانچ سالوں کے دوران سی پیک میں بلوچستان کے مفادات کو تحفظ نہیں دیا گیا جس کے باعث صوبہ سی پیک کے ثمرات سے پوری طرح مستفید نہیں ہوسکتاہے، خاص طور سے سی پیک کے مغربی روٹ کے کسی منصوبے پر عملدرآمد نہیں کیا گیا جس سے مغربی روٹ کے موجود نہ ہونے کے حوالے سے شکوک وشبہات کو تقویت ملی ہے۔

چینی سفیر سے گفتگوکرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ سی پیک کی بنیاد گوادر بندرگاہ ہے اوراس تناظر میں بلوچستان کو بھی سی پیک میں بھرپور اہمیت اور حصہ ملنا چاہئے، خاص طور سے سماجی شعبوں کی ترقی کے منصوبوں کو سی پیک کا حصہ بناکر صوبے کے عوام کو معاشی طور پر فائدہ پہنچایا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی کابینہ نے مغربی روٹ کی سڑکوں کے منصوبوں اور ڈیموں کی تعمیر سمیت لائیواسٹاک، زراعت، ماہی گیری اور معدنیات کے شعبوں کی ترقی کے منصوبوں کو سی پیک میں شامل کرنے کی سفارش کی ہے جنہیں صوبائی حکومت جوائنٹ ورکنگ گروپ کے اجلاس میں پیش کرے گی تاکہ ان منصوبوں کو جے سی سی کے اجلاس میں لے جانے کی منظوری دی جائے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان سی پیک کو معاشی اور اقتصادی ترقی کا عظیم منصوبہ تصور کرتاہے اوراس کی تکمیل کا خواہشمند ہے تاہم ہم چاہتے ہیں کہ اس منصوبے میں بلوچستان کو اس کا بھرپور حصہ دیا جائے، چینی سفیر نے وزیراعلیٰ کے موقف کی تائید کرتے ہوئے اس حوالے سے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی خسرو بختیار سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ سی پیک کے حوالے سے بلوچستان کے لئے زیادہ منصوبوں کے حصول پر صوبائی حکومت اور تمام سیاسی جماعتیں میں مکمل اتفاق رائے ہے اور ہمارا موقف ہے کہ سابقہ حکومتوں نے بلوچستان کے ساتھ زیادتی کی اور ہمیں امید ہے کہ موجودہ وفاقی حکومت اس کا ازالہ کرے گی۔

وزیراعلیٰ نے وفاقی وزیر کو سی پیک میں شامل کرنے کے لئے صوبائی کابینہ کی جانب سے منظور کئے گئے سماجی شعبہ کے منصوبوں کی تفصیل سے آگاہ کرتے ہوئے اس بات کی ضرورت پر زوردیا کہ جوائنٹ ورکنگ گروپ کے اجلاس میں ان منصوبوں کو منظور کرتے ہوئے جے سی سی کے ایجنڈے میں شامل کیا جائے۔ 

وفاقی وزیر نے مغربی روٹ اور بلوچستان کے تحفظات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ سابق وفاقی حکومت نے مغربی روٹ کے حوالے سے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت سی پیک میں شامل صنعتی زونز کے قیام کو جلد از جلد یقینی بنانا چاہتی ہے جس میں بوستان اسپیشل اکنامک زون بھی شامل ہے، انہوں نے یقین دلایا کہ وفاقی حکومت سی پیک پر بلوچستان کے تحفظات کو دور کرنے اور صوبے کی سماجی ترقی کے منصوبوں کو سی پیک کا حصہ بنانے کے لئے سنجیدہ اقدامات کرے گی۔ وفاقی وزیر محترمہ زبیدہ جلال، اراکین سینٹ احمد خان خلجی، میرسرفراز بگٹی، انوارلحق کاکڑ، رکن قومی اسمبلی سردار اسرار ترین بھی ملاقاتوں میں موجود تھے۔