ملتان : وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کیلئے آئین میں ترمیم کی ضرورت ہے ٗترمیم کیلئے ہمارے پاس اکثریت نہیں ٗ نوازشریف کے خلاف کیسز تحریک انصاف نے نہیں بنائے ٗ عدالتیں آزاد ہیں ٗ 27،28دسمبرکو دفترخارجہ میں سفیروں کی کانفرنس ہوگی ٗ ۔
وزیراعظم بھی تشریف لائیں گے،چین، افغانستان، ایران اورروس کے دورے کے دوران دوطرفہ امورپربات چیت ہوگی ۔ اتوار کو یہاں میڈیاسے بات چیت کرتے ہوئے وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہاکہ ہاتھی کے دانت کھانے کے اوردکھانے کے اورہیں، وہ لوگوں کے سامنے یہ کہتے ہیں کہ جنوبی پنجاب کی قررارداد لائیں ہم ساتھ دیں گے مگروہ پھردراڑیں بھی ڈالتے ہیں‘انہوں نے ماضی میں بھی دراڑیں ڈالیں اوراب بھی ڈال رہے ہیں۔
‘جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کیلئے آئین میں ترمیم ضروری ہے۔آئین میں ترمیم کے لئے ہمارے پاس اکثریت نہیں ہے ۔انہوں نے کہاکہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ بننے سے ڈیرہ غازیخان، راجن پوراور رحیم یارخان والوں کو لاہور کے مقابلے میں ملتان زیادہ قریب پڑے گاان کے لئے آسانی پیدا ہوگی۔
تحریک انصاف اپنے منشور کے مطابق ایک اچھی پیش رفت کرناچاہتی ہے مگرلوگ سیاسی مصلحتوں کے ساتھ اس مسئلے کو الجھادیتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ہم جنوبی پنجاب کاسیکرٹریٹ اس لئے بنارہے ہیں تاکہ ہم اپنے ایگزیکٹواختیارات کواستعمال کرتے ہوئے صوبے کے معاملے کو آگے بڑھائیں ۔سیکرٹریٹ بننے اورعلیحدہ ترقیاتی بجٹ سے اس علاقے کی محرومی دورہوگی۔ایک سوال کے جواب میں وزیرخارجہ نے بتایاکہ وہ کل علاقائی ممالک کے دورے پرروانہ ہورہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ چین، افغانستان، ایران اورروس کے دورے کے دوران دوطرفہ امورپربات چیت ہوگی‘ میں نے چارممالک کاسفردودنوں میں کرناہے۔ہم دیکھیں گے کہ ہم مل کر اس خطے میں امن کیسے قائم کرسکتے ہیں اوراستحکام کیسے آسکتاہے۔
انہوں نے کہاکہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ ترقی کی دوڑمیں یہ خطہ جوپیچھے رہ گیا ہے یہ بھی آگے بڑھ سکے۔اگرہم کہتے ہیں کہ 21ویں صدی ایشیاء کی صدی ہو تواس کے لئے ضروری ہے کہ یہاں امن قائم ہو۔انہوں نے کہاکہ ہم علاقائی ملکوں کے ساتھ دوطرفہ تعلقات چاہتے ہیں ‘ خطے میں امن ہوگاتوسرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا۔
علاقائی ممالک کے ساتھ بہترتعلقات خارجہ پالیسی کاحصہ ہیں ۔خطے میں امن واستحکام سے سرمایہ کاری آئے گی ۔غیرملکی سرمایہ کاری سے کرنسی مستحکم ہوگی‘ ہماری کوشش ہے کہ غیرملکی سرمایہ کاروں کو ملک میں سرمایہ کاری کی جانب راغب کریں۔
انہوں نے کہاکہ جب ملک میں سرمایہ کاری آتی ہے توملک میں روزگاربڑھتاہے اور روپے کی قدر مستحکم ہوتی ہے ا ورغربت میں کمی بھی آتی ہے۔غربت میں کمی آئے گی تو یہ خطہ آگے بڑھے گا‘ ہم اپنے وسائل ہتھیاروں کی بجائے صحت،تعلیم اورلوگوں کی خوشحالی پرخرچ کرسکیں گے ۔
انہوں نے کہاکہ براہ راست سرمایہ کاری توہرملک چاہتاہے ۔اگربراہ راست سرمایہ کاری کی اہمیت نہ ہوتی تومختلف ممالک اس کے لئے تگ ودونہ کرتے ۔انہوں نے کہاکہ جوملک ہم سے آگے نکل گئے ہیں ان کی ترقی کے اوربھی عوامل ہوں گے لیکن اس میں ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ وہاں باہر کے لوگوں نے آکر سرمایہ کاری کی، لوگوں کے لئے روزگارکے مواقع پیداکئے اورمعیشت کاپہیہ تیز کیا۔
انہوں نے کہاکہ 27،28دسمبرکو دفترخارجہ میں سفیروں کی کانفرنس ہوگی اوراس کانفرنس میں وزیراعظم تشریف لائیں گے،کانفرنس میں وزیراعظم کے تجارت کے وزیراورمشیر بھی شریک ہوں گے ۔ہم مل بیٹھ کر سوچیں گے کہ ہم کس طرح اس ملک میں سرمایہ کاری لاسکتے ہیں اوردوطرفہ تجارت کیسے بڑھاسکتے ہیں ۔
انہوں نے کہاکہ ماضی کی حکومتیں غیرملکی سرمایہ کاری لانے میں ناکام رہیں ۔کوشش ہے کہ ہم غیرملکی سرمایہ کاروں کوملک میں لائیں ۔انہوں نے کہاکہ براہ راست سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہماری ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے چند برسوں سے ہمارے ہاں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں کمی ہورہی تھی اوریہ معیشت کے لئے خوش آئندبات نہیں ہے۔جب ملک میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری ہوتی ہے تواس سے لوگوں کااعتماد بڑھتاہے،روزگارمیں اضافہ ہوتاہے ۔
نوازشریف کیس کے متوقع فیصلے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ان کے خلاف کیسز پی ٹی آئی کی حکومت نے نہیں بنائے۔عدالتیں آزادہیں اوروہ آزادی سے اپنے فیصلے کررہی ہیں ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ضلع کونسلوں کے 15چیئرمین جن کاتعلق مسلم لیگ ن سے تھا پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوئے ہیں ۔
ان کے آنے سے ان 15اضلاع میں پی ٹی آئی کو پہلے سے زیادہ تقویت ملے گی ۔انہوں نے کہاکہ 2015کابلدیاتی الیکشن پی ٹی آئی کی تاریخ کاپہلاالیکشن تھااس سے پہلے توہمیں بلدیاتی الیکشن کاتجربہ ہی نہیں تھا۔ہم چاہتے ہیں کہ بلدیاتی سطح پرپارٹی کو فعال کیاجائے اورنئے چیئرمینوں کے آنے سے پارٹی مضبوط ہوگی ۔
دریں اثناء سر کاری ریڈیو سے گفتگو کزرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان پر امن ہمسائیگی پر بھر پور یقین رکھتا ہے اور مذاکرات کے ذریعے پڑوسی ممالک کے ساتھ تصفیہ طلب مسائل حل کرنا چاہتا ہے ۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت کے ساتھ تمام مسائل کے حل کیلئے پاکستان کا رویہ نپا تلا اور بالغ نظری پر مبنی ہے کیونکہ پاکستان خطے میں امن ترقی اور خوشحالی چاہتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان بار بار کہہ رہا ہے کہ کنٹرول لائن پر جارحیت اور سرحد پار سے فائرنگ سے خطے کے امن کو بری طرح نقصان پہنچا رہا ہے ۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ سرحد پار فائرنگ سے شہری آبادی متاثر ہو رہی ہے اور بھارت کو ایسی خلاف ورزیوں سے گریز کرنا چاہئے ۔ شاہ محمود قریشی نے بھارتی فورسز کے ہاتھوں بے گناہ کشمیریوں کی شہادتوں کے واقعات پر گہری تشویش ظاہر کی ۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ بھارت ظلم و جبر کی کارروائیاں اورکشمیریوں کی شہادتوں کے واقعات فوری طور پر بند کرے ۔ وفاقی وزیرنے کہا کہ بھارت میں انتخابات ہو رہے ہیں اور بھارتی قیادت اپنے داخلی معاملات سے عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے پاکستان پر تنقید کر رہی ہے جو غلط سوچ ہے ۔
جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کیلئے ہمارے پاس اکثریت نہیں ، شاہ محمود قریشی
![]()
وقتِ اشاعت : December 24 – 2018