اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان سے اختر مینگل کی سربراہی میں بی این پی مینگل کے وفد نے ملاقات کی جس میں نعیم الحق اور جہانگیر ترین نے بھی شرکت کی۔
ملاقات میں بی این پی مینگل اور حکومت کے درمیان معاہدے پر عمل درآمد کے حوالے سے بات کی گئی۔ دونوں وفود نے 6 نکاتی ایجنڈے پر پیشرفت سے متعلق گفتگو کی جب کہ بلوچستان کے ترقیاتی منصوبوں پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔وزیراعظم نے کہا کہ گذشتہ دس ماہ میں جو مشکلات سامنے آئی ہیں ان کے حل کے لیے طریقہ کار مرتب کر لیا گیا ہے، مقصددونوں جماعتوں کے درمیان طے شدہ معاملات پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنایا جاسکے۔
جہانگیر ترین نے کہا کہ اختر مینگل اور ان کے وفد کو مطمئن کر لیا گیا ہے، آئندہ دوری نہ ہو اس کیلیے بھی طریقہ کار بنا لیا گیا ہے، لاپتہ افراد کے معاملے میں بہت جلد پیشرفت ہوگی، وفاقی ملازمتوں میں بلوچستان کے 6 فیصد کوٹے پر بھی اتفاق ہوا ہے، 10 ارب کا ترقیاتی بجٹ ملنا بی این پی کا حق ہے۔حکومتی ٹیم نے گزشتہ روز بی این پی مینگل کو بجٹ کی حمایت کے لیے منالیا تھا جس کے بعد اختر مینگل نے اپوزیشن کی اے پی سی میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
دریں اثناء قومی اسمبلی اجلاس میں بلوچستان کے مسائل کے لیے پارلیمانی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ بدھ کو پارلیمانی کمیٹی بنانے کی تحریک وزیرمملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے ایوان میں پیش کی جس کی ایوان نے متفقہ طورپر منظور ی دیدی،اسپیکر قومی اسمبلی پارلیمانی کمیٹی کے ممبران کا انتخاب کریں گے۔
علی محمد خان نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان نے اپنا ایک اور وعدہ پورا کر دیا ہے،اسپیشل کمیٹی بنے گی جو بلوچستان کے تمام مسائل دیکھے گی۔اختر مینگل نے کہاکہ بلوچستان کے مسائل کے حوالے سے کمیٹی کا قیام خوش آئند اقدام ہے۔
انہوں نے کہاکہ کمیٹی کو دو مہینے کا وقت دیا جائے،دو مہینے بعد کمیٹی کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے۔انہوں نے کہاکہ ہم بلوچستان کے مسائل کا حل جمہوری انداز میں چاہتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ نہیں چاہتے کہ اس کمیٹی کی رپورٹ کا بھی حال حمود الرحمن کمیشن جیسا ہو۔
اختر مینگل نے کہاکہ ارکان قومی اسمبلی اور عوام کو جاننا چاہیے کہ ان مسائل کے اصل ذمے دار کون ہیں اسلام آباد (این این آئی)بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ اے پی سی کے ایجنڈے کا علم نہیں، آل پارٹیز کانفرنس آ ئین کی بالادستی، آزاد عدلیہ اور صوبوں کے حقوق کے حوالہ سے ہوتی تو ضرور شرکت کرتے،تحریری طور پر اے پی سی کیلئے اپنے مطالبات بھجوا دیئے ہیں اگر مثبت جواب آیا تو بعد میں ہونے والی اے پی سی میں شرکت کریں گے۔
بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سردار اختر مینگل نے کہا کہ سیاسی جماعتیں مسائل کے حل کیلئے اکٹھی ہوتی رہتی ہیں،مولانا فضل الرحمان کی طرف سے ہمیں بھی اے پی سی میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی ہم نے فی الحال شرکت سے معذرت کرلی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ابھی تک اے پی سی کے ایجنڈے کا علم نہیں ہے تاہم اس سے پہلے ہونے والی اے پی سی میں ہمیں دعوت نہیں دی گئی تھی، یہ گلہ بھی ہم نے ان تک پہنچایا، ہمارے کچھ خدشات تھے جس سے ان کو آگاہ کر دیا ہے، ہم نے تحریری طور پر اے پی سی کیلئے اپنے مطالبات بھجوا دیئے ہیں اگر مثبت جواب آتا ہے تو اس کے بعد ہونے والی اے پی سی میں شرکت کریں گے۔
سردار اختر مینگل نے کہا کہ اگر اے پی سی آئین کی بالادستی، آزاد عدلیہ اور صوبوں کے حقوق کے حوالہ سے ہوتی تو ضرور شرکت کرتے۔ا نہوں نے کہاکہ ہم نے ہمیشہ یہ چاہا ہے کہ جمہوری ادارے مضبوط ہوں اور ملک کے مستقل مسائل کو حل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اکثر اے پی سی کے فیصلوں پر عملدرآمد نہیں ہوا۔