|

وقتِ اشاعت :   August 5 – 2019

کوئٹہ: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر جام کمال خان عالیانی نے کہا کہ اداروں کو مضبوط کئے بغیر مسائل کا حل ممکن نہیں پولیس کو دہشت گردی سے نمٹنے اور امن کے قیام کے لئے تمام وسائل فراہم کر رہے ہیں۔

شہداء کے لواحقین کے مسائل اور ان کے بچوں کو تعلیم کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے ہمارا مقابلہ ایسے دشمنوں سے جن کو ہم جانتے اور نہیں بھی اپوزیشن جماعتیں عوام کی جانب سے ملنے والے مینڈیٹ کے مطابق کام کریں آئندہ الیکشن میں عوام ا نہیں کامیاب کر تی ہے تو کام کریں ہارس ٹریڈنگ کی باتیں بے معنی ہیں انھیں سوچنا چاہیے۔

کہ ان کے نمائندوں نے پارٹی قیادت اور فیصلوں کی روگردانی کیوں کی ہے پولیس کی اپ گریڈیشن کا نوٹیفیکشن دو روز میں جاری ہوجائیگااور شہداء پیکج کو دیگر صوبوں کے برابر کرنے کے حوالہ دیگر مراعات بھی دینگے لیویز کے حوالے سے جو پروپیگنڈاکیا جارہاہے وہ غلط ہے پولیس نے بی ایریا کی ذمہ داریاں سنبھال کر کام شروع کر دیا ہے ان خیالات کا اظہا ر پولیس کے یوم شہداء کے موقع پرپولیس لائن یاد گار شہداء پر فاتحہ خوانی کے بعد منعقدہ تقریب سے اظہار خیال اور میڈیا سے گفتگو کے دوران کیا۔

اس موقع پرایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حید ر علی شکوہ انسپکٹر جنر ل پولیس بلوچستان محسن حسن بٹ، ایڈیشنل آئی جی پولیس جہانزیب جوگیزئی، ریجنل پولیس آفیسرو ڈی آئی جی پولیس کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ،ڈی آئی جی اسپیشل برانچ جاوید اوڈو، وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری نوالاامین مینگل دیگر سینئر پولیس آفسیران اور شہداء کے لواحقین بھی موجود تھے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پولیس کی قربانیاں کسی سے دکھی چھپی نہیں ان قربانیوں کانعم البدل نہیں۔

پولیس آفیسران اور جوانوں نے اپنے فرائض سر انجام دیتے ہوئے شہادت کا رتبہ پایا ہیں ان قربانیوں کی بدولت آج صوبے میں امن قائم ہوا ہے ان کے لواحقین اور خاندان کی بھی قربانیاں ہیں جنہیں ہم بھولا نہیں سکتے ہیں کہ حکومت اپنی ترجیحات مقرر کر رہی ہے۔

تا کہ پولیس کو زیادہ سے زیادہ سہولیات دی جاسکے فورس موثر حکمت عملی کے ذریعے اپنی کارکردگی کو بہتر بنا کر کم نقصان اٹھاتی ہے ہم پولیس کو سہولیات دیکرمزید بہتر بنائے گے ہمیں تفرقے میں پڑنے کے بجائے متحد ہو کر دشمنوں کا مقابلہ کرنا ہے کیونکہ ہم اپنے دشمنوں کو جانتے بھی ہے اور نہیں بھی حکومت تما م دستیاب وسائل کو بروکار لا رہی ہے۔

شہداء کے بچوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ انہیں سہولیا ت فراہم کر یں کیونکہ شہداء کی قربانی کو ہمیشہ یا د رکھا جائے گا انہوں نے کہا کہ شہداء پیکج کو دیگر صوبوں کے برابر کرنے کے حوالہ دیگر مراعات بھی دینگے اس موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت موثر طور پر اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے اور خوش اسلوبی سے بجٹ پاس کروایا ہے اور پولیس کی اپ گریڈیشن کا نوٹیفیکشن بہت جلد ہوجائیگا حکومتی معاملات اور پراسس میں کچھ تاخیر ہوسکتی ہے۔

لیویزکو پولیس میں ضم ہونے میں کوئی رکاوٹ نہیں دونوں ادارے حکومت کے ہیں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سینٹ میں ہارس ٹریڈنگ کی باتیں بے معنی ہے ہم نے ایک جمہوری طریقے سے پراسس پورا کیا یہ اپوزیشن کی روایا ت رہی ہے کہ وہ بے بنیاد پروپیگنڈا کر کے جمہوری عمل کو سبوتاز کر تے ہیں اپوزیشن جماعتوں کو یہ سوچنا چاہیے کہ ان کے ممبران اپنی قیادت اور ان کے فیصلوں سے خوش کیوں نہیں۔

ہر ایک نے اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ دیا انہوں نے کہا کہ ہم نے چیزوں کونمبر بنا دیا ہے بلوچستان اسمبلی میں ہماری اتحادی جماعتوں نے متحد ہو کر تمام حربے ناکام بناتے ہوئے بجٹ کو منظور کیا بلوچستان عوامی پارٹی کو ملک گیرپذیرائی مل رہی ہے جس کی مثال کے پی کے کے تین ممبر ان کی ہماری پارٹی میں شمولیت ہیں۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان نے شہداء کے لواحقین کے مسائل سنے اور ان کے حل کے لئے فوری حکامات بھی جاری کر دیں۔