کوئٹہ: بی این پی کے مرکزی سینئرنائب صدرملک عبدالولی کاکڑنے کہاہے کہ پارٹی رہنماء نواب امان اللہ خان زہری پرقاتلانہ حملہ صوبے کے روایات کے منافی ہے۔ 2009ء میں ریاض زہری کے قتل میں ملوث ملزمان کو حکومت گرفتار کرتی تو یہ واقعہ رونما نہ ہوتا۔نواب امان اللہ زہری کے قاتلوں کی گرفتاری تک صوبہ بھرمیں احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔ان خیالات کااظہارانہوں نے منگل کے روزکوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر پارٹی کی خواتین سیکریٹری و رکن اسمبلی زینت شاہوانی ایڈووکیٹ، مرکزی لیبرسیکریٹری منظوربلوچ،ہیومن رائٹس سیکریٹری موسیٰ بلوچ،،سینٹرل کمیٹی کے ممبران نوابزادہ حاجی میرلشکری خان رئیسانی،بی ایس او کے سیکریٹری جنرل منیرجالب، غلام نبی مری،عبدالرحمن خواجہ خیل،بی این پی ضلع کوئٹہ کے جنرل سیکریٹری آغاخالددلسوز ودیگر پارٹی رہنماء بھی موجود تھے۔
ملک ولی کاکڑ نے کہا کہ پارٹی کے بانی رہنماء شہید نواب نوروزخان زہری کے فرزندنوابزادہ امان اللہ خان زہری 17اگست کی شپ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے رکن سردارنصیراحمدموسیانی کے خالہ کی نمازجنازہ اور وتدفین میں شرکت کے بعد رات 1بجے اپنے خاندان کے دیگر افراد جن میں خواتین بھی شامل تھیں ان کے ہمراہ اپنے گھر نورگامہ زہری آرہے تھے۔
کہ بلبل زہری کے مقام پر گھات لگائے حملہ آوروں نے ان کی گاڑی کونشانہ بنا کر نواب امان اللہ زہری ان کے 14سالہ کمسن پوتے میرمردان زہری،دو محافظ نثاراحمدزہری اورسکندرمگسی کو شہید کیا انہوں نے کہا کہ حملہ کے وقت ایک گاڑی میں خواتین بھی موجودتھیں جوکہ معجزانہ طورپرمحفوظ رہے بلوچستان کی روایات میں خواتین کو قدرکی نگاہ سے دیکھاجاتاہے۔
دشمن طاقتورہویاکمزورخواتین کی موجودگی میں مخالف کوراستہ دیاجاتاہے تاہم حالیہ واقعے میں جس طرح قبائلی روایات کوپامال کیاگیا ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔انہوں نے کہا کہ سانحے کیخلاف پارٹی نے تین روزہ یوم سیاہ،دس روزہ سوگ اور20سے29اگست تک صوبے بھرمیں احتجاجی ریلیاں نکالنے کااعلان کیاہے جس کے بعد قاتلوں کی عدم گرفتاری کیخلاف شٹرڈاؤن،پہیہ جام ہڑتال کی تحریک چلائیں گے۔
واقعے کیخلاف آج خضدار،قلات،زہری،سوراب،مستونگ اورآواران میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے،22اگست کوپنجگور،تربت،گوادراورلسبیلہ،24اگست کوواشک،چاغی،خاران اورنوشکی،28اگست کونصیرآباد،جعفرآباد،صحبت پور،جھل مگسی،جیکب آباد،شہدادکوٹ جبکہ 29اگست کوکراچی،سبی،بولان،ہرنائی،کوہلو،بارکھان،موسیٰ خیل،ڑوب،لورالائی،ڈی جی خان،قلعہ عبداللہ اورقلعہ سیف اللہ میں مظاہرے کئے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں پارٹی کے زیر اہتمام احتجاجی جلسہ منعقدہ کیا جائیگا جس کی تاریخ کا اعلان بعد میں کرینگے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان قومی تحریک کے سرخیل شہیدبابونوروززہری کے نواسے وشہیدامان اللہ خان زہری کے جوانسال فرزندمیرریاض احمد زہری کو 25اکتوبر2009ء کونورگامہ زہری بازارمیں دن دیہاڑے شہیدکیاگیاواقعے کی ایف آئی آربھی درج کرائی گئی مگرملزمان کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔
اس وقت اگرحکومت حرکت میں آتی توشاید یہ سانحہ پیش نہیں آتا بلوچستان میں گزشتہ کئی سالوں سے کشت وخون کابازارگرم ہے تاہم حکومت اورریاست کی کمزوریوں کی وجہ سے اس ضمن میں کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھائے جاسکے ہیں نہ کہ کسی کو انصاف ملا ہے۔قبائلی تنازعات کی وجہ سے بلوچستان کے سرکردہ شخصیات اورعام لوگوں کی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات روزکامعمول بن چکے ہیں۔
آئے روزقتل وغاری کے واقعات کی وجہ سے بلوچستان کے قبائلی معتبرین اورعام عوام عدم تحفظ کاشکارہیں،پارٹی کے قائدین و معتبرین قبائلی تنازعات کے خاتمے کیلئے کوشاں ہیں تاہم اس ضمن میں حکومت اورریاست کاحرکت میں آناناگزیرہے،سابق ادوارمیں پیش آنے والے واقعات پر بروقت کارروائی کی جاتی توآج یہ سانحہ رونمانہیں ہوتا،انہوں نے کہا کہ بانی رہنماء نواب امان اللہ زہری اوران کے ساتھیوں کے قتل میں ملو ث لوگوں کو کیفرکردارتک پہنچانے اورلواحقین کوانصاف کی فراہمی کیلئے بی این پی سیاسی وجمہوری اندازمیں پارلیمنٹ سمیت تمام فورمزپرجدوجہدکرتے ہوئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔
دریں اثناء بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما نوابزادہ میرامان اللہ زہری اور ان کے ساتھیوں کے قتل کیخلاف پارٹی کے زیر اہتمام خضدار، وڈھ، سکندرآباد،قلات اور مستونگ میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں نے واقعہ کیخلاف پریس کلبز کے باہر احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے واقعہ میں ملوث افراد کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
منگل کے روز بلوچستان کے ضلع خضدار میں پارٹی کے مرکزی کال پر نوابزادہ میر امان اللہ زرکزئی اور ان کے ساتھیوں کی شہادت اور قاتلوں کی عدم گرفتاری کیخلاف پارٹی کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل لعل جان بلوچ اور سابق ایم این اے میر عبدالرؤف مینگل کی قیادت میں فیصل ہوٹل سے ریلی نکالی گئی جو مختلف شاہراؤں سے ہوتے ہوئے پریس کلب خضدار کے سامنے احتجاجی مظاہرے کی شکل اختیار کئی۔
مظاہرین سے بی این پی کے مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری چیئرمین لعل جان بلوچ،مرکزی کمیٹی کے رکن و سابق ایم این اے میر عبدالرؤف مینگل،ِمرکزی کمیٹی کے رکن رئیس عبدالقدوس بلوچ،ضلعی سینئر نائب صدر میر شفیق الرحمن ساسولی،تحصیل صدر حاجی محمد اقبال بلوچ،ڈاکٹر محمد بخش مینگل،کریم فریادی اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوابزادہ میر امان اللہ زرکزئی اور ان کی ساتھیوں کی شہادت ایک عظیم سانحہ اور بلوچ قوم کے لئے نا قابل تلافی نقصان ہے۔
بلوچ روایات میں خواتین کی موجودگی میں حملے کا تصور موجود نہیں مگر افسوس خواتین کی موجودگی میں حملہ کر کے انہیں شہید کرنے کے واقعہ نے یہ ثابت کر دیا کہ اب جھالاوان میں روایات کے امین باقی نہیں رہے روایت شکنی کی وجہ سے معاملات مزید طول پکڑتے ہیں اس موقع پر بی این پی کے مرکزی و ضلعی رہنماوں سیدسمیع اللہ شاہ،حیدر زمان بلوچ،عبدالنبی بلوچ،سفر خان مینگل،شوکت سیاہ پاد،خالد محمود ایڈووکیٹ،ندیم گرگناڑی،رئیس عبدالطیف کرد،سیف اللہ شاہوانی،کیپٹن علی احمد بلوچ،غلام نبی ایڈووکیٹ سمیت پارٹی کے دیگر رہنماء بھی موجود تھے۔
واقعہ کیخلاف خضدار کے تحصیل نال،کرخ میں بھی احتجاجی مظاہرے گئے ہیں۔ پارٹی کے مرکزی کال پر ضلع خضدار کی تحصیل وڈھ میں پارٹی دفتر سے احتجاجی ریلی نکالی گئی جو مختلف شاہراہوں سے ہوتے ہوئے وڈھ پریس کلب پہنچی جہاں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا مظاہرے کے شرکاء سے آرگنائزر عبدالرب بلوچ ڈپٹی آرگنائزر جبار حیدر مینگل سابق صدر مجاہد عمرانی سابق صدر ظہور مینگل،حاجی لیاقت مینگل،قبائلی رہنما حاجی جمال،خان محمودزئی،میر غلام قادر گمشادزئی احمد خان گزگی سمیت دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء نواب امان اللہ زہری کے قتل کے خلاف مرکزی کال پرسکندرآبادسوراب میں بھی احتجاجی ریلی نکالی گئی اورپریس کلب کے سامنے مظاہرہ کیا گیامظاہرے کے شرکاء سے بی ایس اوکے مرکزی چیئرمین نذیربلوچ بی این پی کے آرگنائزرامان اللہ مینگل عبدالطیف قلندرانی عبدالرحمن گرگناڑی محمدیاسین ماماغوث بخش سلطان احمداوردیگرنے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ نواب امان اللہ زہری کاقتل عظیم سانحہ سے کم نہیں۔
بلوچستان کے ایک عظیم مدبرسیاسی رہنماء اورقدآورقبائلی شخصیت سے محروم ہوچکاہے جس کاخلامدتوں پرنہیں ہوسکے گا انہوں نے کہاکہ نواب امان اللہ زہری کی قومی وسیاسی خدمات کوزبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیاکہ ا ن کے قاتلوں کوفوری گرفتارکرکے قرارواقعی سزاء دی جائے،قاتلوں کی گرفتاری تک بلوچستان نیشنل پارٹی کے کارکن خاموش نہیں بیٹھیں گے۔
بلوچستان کے ضلع قلات میں ضلعی صدر وڈیرہ خیرجان بلوچ اور سینٹرل کمیٹی کے رکن میر مراد مینگل کی قیادت میں ضلعی دفتر سے احتجاجی ریلی نکالی گئی ریلی کے شرکاء مختلف شاہراؤں سے ہوتے ہوئے پریس کلب پہنچے جہاں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا مظاہرے کے شرکاء سے بی این پی کے ضلعی صدر وڈیرہ خیر جان بلوچ میر مراد مینگل آغا قلندر خان احمد زئی ٹکری شفقت لانگورحیم مینگل ڈاکٹر یوسف بلوچ عبدالفتاح عالیزئی حنیف مینگل سلیم اختری احمدنواز بلوچ علی اکبر حاجی عظیم مینگل اور دیگر نے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کو تحفظ دینے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔
انہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ایف آئی آر میں نامزد تمام ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کرے بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ پورے ملک تک وسیع کیا جائیگا،مستونگ میں بھی پارٹی رہنماء اور انکے ساتھیوں کے قتل کیخلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی اور سراوان پریس کلب مستونگ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
اس موقع پر مظاہرین سے بی این پی کے مرکزی لیبر سیکریٹری منظور بلوچ ضلعی صدر میر عبداللہ جان مینگل سینٹرل کمیٹی کے رکن ملک عبدالرحمان خواجہ خیل ضلعی جنرل سیکریٹری میر محمد حنیف رستم زئی بی ایس او کے مرکزی جوائنٹ سیکریٹری شوکت بلوچ حاجی اونگزیب قمبرانی حاجی نور جان شاہوانی میر جنگی خان سرپرہ اسحاق علیزئی ایڈوکیٹ زبیر بلوچ و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ۔
شہید نواب امان اللہ خان زہری نے قائد بلوچستان سردار اختر جان مینگل کی بازو تھے جنھوں نے آمرانہ ادوار کی ظلم و جبر سے لے کر آخری سانس تک مشکل اور کھٹن حالات کے باوجود انتہائی جوانمردی اور خندہ پیشانی سے تکالیف اور جیل کی صعوبیتیں برداشت کر کے پارٹی پروگرم کے ساتھ ڈٹے رہے۔
انھوں نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ شہید نواب امان اللہ خان زہری شہید میر مردان زہری اور انکے دیگر دو ساتھوں کی قتل میں نامزد قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کرکے کیفرکردار تک پہنچایا جائے قاتلوں کی گرفتاری تک پارٹی کے کارکن چھین سے نہیں بٹھیں گے۔