کوئٹہ : وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان کی جانب سے کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کے اعزاز میں الوداعی عشائیہ دیا گیا۔
گورنر بلوچستان جسٹس ریٹائرڈ امان اللہ خان یاسین زئی، ڈپٹی اسپیکر صوبائی اسمبلی سردار بابر خان موسیٰ خیل،قائد حزب اختلاف ملک سکندر خان ایڈووکیٹ،صوبائی وزراء، حزب اقتدار وحزب اختلاف کے اراکین قومی وصوبائی اسمبلی، کمانڈنگ افسران، آئی جی پولیس، آئی جی ایف سی، سیاسی وقبائلی عمائدین اور صوبائی سیکریٹروں نے عشائیہ میں شرکت کی۔
عشائیہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ آج ہم اس تقریب میں کسی سیاسی جماعت کے نمائندہ کے طور پرنہیں بلکہ بلوچستانی ہونے کے ناطے شریک ہیں اور ہمارے یہاں اکٹھا ہونے کا مقصد بلوچستان میں امن کے قیام کے ساتھ ساتھ تعلیم او رصحت سمیت دیگر شعبوں کی ترقی کے لئے لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنا ہے جنہوں نے خلوص اور احساس کے ساتھ بلوچستان کو اپنے دل کے قریب رکھتے ہوئے اس کے امن اور ترقی کے لئے بھرپور کام کیا۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کی سیاسی اور عسکری قیادت نے مکمل ہم آہنگی کے ذریعہ دیرپا امن کے قیام اور ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے عمل کو آگے بڑھایا، انہوں نے کہا کہ لیفٹینٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے بلوچستان کے مسائل کو سمجھا اور ان کے حل کے لئے جہاں بھی ضرورت پڑی صوبائی حکومت کو بھرپور معاونت فراہم کی۔
بلوچستان کو آگے لے جانا او رترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہم سب کا مشترکہ ہدف رہا ہے اور ہم نے مشترکہ طور پر بلوچستان کے موقف کو وزیراعظم اور وفاقی حکومت کے سامنے پیش کرتے ہوئے بہت سے اہم منصوبوں کی منظوری حاصل کی اور انہیں وفاقی پی ایس ڈی پی میں شامل کرنا ممکن ہوسکا، خاص طور سے کچھی کینال، چمن۔ کوئٹہ۔کراچی موٹر وے سمیت دیگر اہم منصوبوں کی منظوری کے لئے کمانڈر سدرن کمانڈ کی کاوشیں قابل تعریف ہیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے اس یقین کااظہار کیا کہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ بلوچستان کے لوگوں کے خلوص اور محبتوں کو ہمیشہ یاد رکھیں گے اور ریٹائرمنٹ کے بعدجس بھی حیثیت میں کام کریں گے بلوچستان کی ترقی میں اپنا کردار ضرور ادا کرتے رہیں گے۔
وزیراعلیٰ نے ان کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ انہوں نے بحیثیت کمانڈر سدرن کمانڈ وزیراعلیٰ بلوچستان کی قیادت میں صوبائی حکومت کو صوبے میں دیرپا امن کے قیام کے لئے بھرپور معاونت کی جس کے نتیجے میں آج امن وامان کی صورتحال ماضی کے مقابلے میں کہیں بہتر ہے، یہ کام فوج، ایف سی، پولیس، یا لیویز اکیلے نہیں کرسکتی تھی۔
ہم نے ایک ٹیم ورک کے طور پر امن کی بہتری کا ہدف حاصل کیا، انہوں نے کہا کہ فوج ایک ادارے کے طور پر صوبے کی بہتری کے لئے صوبائی حکومت کے ساتھ کھڑی ہے تاکہ بلوچستان میں جاری ترقیاتی عمل مکمل ہوسکے، انہوں نے کہا کہ وہ خود کو بلوچستانی تصور کرتے ہیں اور بلوچستان ان کے دل میں رہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے بہترین مفاد میں ہم سب کو ایک ہونا اور ایک دوسرے کا مکمل ساتھ دینا چاہئے، جو جس بھی حیثیت میں ہے سب سے پہلے بلوچستان اور بلوچستان کے عوام کو مقدم رکھے گا، تو ہی بلوچستان ترقی کرے گا، کمانڈر سدرن کمانڈ نے کہا کہ بلوچستان واحد صوبہ ہے جہاں ایک انچ بھی موٹر وے نہیں ہے وزیراعلیٰ بلوچستان کے ساتھ مل کر ہم نے چمن، کوئٹہ کراچی شاہراہ سمیت دیگر مواصلاتی منصوبوں کے لئے وفاقی حکومت کی توجہ حاصل کی۔
اسی طرح وزیراعظم سے حب اکنامک زون، اسپیشل اکنامک زون، گڈانی میں بندرگاہ کے قیام سمیت معدنیات کے شعبہ کی ترقی کے لئے منصوبے منظور کرائے، ان منصوبوں کے صوبے کی معاشی اور سماجی ترقی پر دوررس نتائج مرتب ہوں گے اور عام آدمی خوشحال ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ وہ بلوچستان کے لوگوں کی محبت اور خلوص کو کبھی فراموش نہیں کرسکیں گے، لوگ ان سے پوچھتے ہیں کہ بلوچستان میں ان کا گھر ہے تو ان کا جواب ہوتا ہے کہ پہلے نہیں تھا لیکن اب ہے اور وہ خود کو بلوچستانی ہی سمجھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد جس بھی حیثیت میں کام کریں گے بلوچستان ان کی اولین ترجیح ہوگا،تقریب سے قائد حزب اختلاف ملک سکندر خان ایڈووکیٹ، ڈپٹی اسپیکر بابر خان موسیٰ خیل، صوبائی وزیر زمرک خان اچکزئی، اراکین صوبائی اسمبلی سید احسان شاہ اور ملک نصیر احمد شاہوانی نے بھی خطاب کیا اور کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کو بلوچستان کے لئے ان کی خدمات پر خراج تحسین پیش کیا۔
بعدازاں وزیراعلیٰ نے کمانڈر سدرن کمانڈ کو تحائف پیش کئے۔ دریں اثناء وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ رواں مالی سال 2019-20ء میں شامل نئے اورجاری ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد اور بروقت تکمیل سے صوبے میں ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوگا اور بہترین مینجمنٹ سے تمام ترقیاتی منصوبوں کو احسن انداز میں پایہ تکمیل تک پہنچانے میں موثر مدد فراہم ہوگی۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے رواں مالی سال کے ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت کا جائزہ لینے کے لئے منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اجلاس میں صوبائی وزراء میرظہور احمد بلیدی، میر عارف جان محمد حسنی، نورمحمد دمڑ، انجینئر زمرک خان اچکزئی، محمد خان لہڑی، ایڈیشنل چیف سیکریٹری منصوبہ بندی وترقیات، متعلقہ محکموں کے سیکریٹریز اور دیگر نے شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ جو ڈویژن رقبے کے لحاظ سے بڑے ہیں ان کی بہترین مانیٹرنگ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دورافتادہ علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل میں کوئی رکاوٹ نہ ہو اور عوام ان ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات سے مستفید ہوسکیں، تعلیم اور صحت دونوں بنیادی شعبے ہیں جن کو قطعی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، موجودہ حکومت شعبہ تعلیم اور صحت سے متعلقہ ترقیاتی منصوبوں کو جلد مکمل کرنے کے حوالے سے سنجیدہ ہے۔
اس ضمن میں اسکولوں اور ہسپتالوں کے انفراسٹرکچر میں نمایاں تبدیلی اور بہتری لائی جارہی ہے جبکہ دیگر شعبے زراعت، پی ایچ ای، بلدیات، مواصلات، سیاحت، لائیو سٹاک میں بھی خاطر خواہ اقدامات کئے جارہے ہیں۔
اجلا س میں شریک ایڈیشنل چیف سیکریٹری منصوبہ بندی وترقیات نے اجلاس کو بتایا کہ کل 1796نئے اور 65جاری ترقیاتی منصوبے مالی سال کے ترقیاتی پروگرام کا حصہ ہیں، 1263نئے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری بھی دی گئی ہے اور مختلف محکموں کے ترقیاتی منصوبوزں کے ٹینڈرز بھی جاری کردیئے گئے ہیں۔