|

وقتِ اشاعت :   October 1 – 2019

لاہور: وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ ریکوڈک پر 6ارب ڈالر کا جرمانہ جذباتی فیصلوں کا نتیجہ ہے،فیصلے کیخلاف اپیل میں جارہے ہیں، صوبے کی سطح پر اتھارٹی قائم کی گئی ہے جس کے ذریعے مقامی سرمایہ کاروں کو راغب کیا جارہا ہے۔

گوادر کا ماسٹر پلان منظور ہو گیا ہے اور گوادر بہت جلد ترقی کرے گا جس سے ہماری معیشت بھی مضبوط ہو گی،سی پیک کے بارے میں منفی پراپیگنڈا کیا جارہا ہے، سابقہ ادوار میں انفراسٹر اکچر اور ترقی کو نظر انداز کیا گیا تاہم موجودہ حکومت اس پر بھرپور توجہ دے رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنر ہاؤس لاہو ر میں گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کے ہمراہ سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر وزیر اطلاعات پنجاب میاں اسلم اقبال، وزیر خوراک سمیع اللہ چوہدری، سینئر صحافی مجیب الرحمان شامی، ارشاد احمد عارف، عطاء الرحمان،ذوالفقار رحت، سلمان غنی، ایثار رانا سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال میں کافی بہتری آئی ہے۔ کوئٹہ میں اربوں روپے سے سیف سٹی پراجیکٹ شروع کیا گیا ہے۔

اور مرحلہ وار اس کا دائرہ بڑھایا جائے گا۔ شیخ زید ہسپتال میں کینسر اور کارڈیک یونٹ لگا رہے ہیں جس سے مقامی لوگوں کو سہولیات میسر آئیں گی۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ریکوڈیک پر 6ارب ڈالر کا جرمانہ جذباتی فیصلوں کا نتیجہ ہے، حکومت اس میں اپیل میں جارہی ہے،اتھارٹی قائم کر کے مقامی سرمایہ کاروں کو راغب کر رہے ہیں، کوہلو میں 4ارب روپے سے روڈ انفراسٹر اکچر بنایا جارہا ہے، یہاں بھی وسیع پیمانے پر خائر ملے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت تمام منصوبوں میں شفافیت لا رہی ہے اور اس پر فوکس کیا ہوا ہے۔ ایمر جنسی 1122سروس کو کوئٹہ میں لے کر جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپنے ملک کا مفاد سب سے پہلی ترجیح ہے اور اس پر کسی طرح کا سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔دریں اثناء وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ اتحادی میرے ساتھ ہیں اور صوبائی حکومت مضبوط ہے جب تک وزیراعلیٰ ہوں پوری دیانت سے کام کرتا رہونگا۔

بلوچستان حکومت نے وہ کام کئے ہیں جو شاید دیگر صوبوں کی حکومتیں نہیں کر رہیں صوبے میں گورننس، شفافیت، مانیٹرنگ کے نظام وضع کئے گئے ہیں،ہم خوشحال بلوچستان بنا رہے ہیں، وہ ناراض لوگ جو غیر مسلح ہیں سے بات چیت ہو رہی ہے، پاکستان کو نقصان پہنچانے والوں سے بات چیت کی گنجائش موجود نہیں،معاونین خصوصی کی صوبائی حکومت میں کوئی مداخلت نہیں،ماضی کی نسبت وزراء کی تعداد ایک چوتھائی بھی نہیں۔

یہ بات انہوں نے پیر کی شب نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے کہی، وزیراعلیٰ جام کمال خان نے کہا کہ بلوچستان کے اندر یا یہاں سے باہر رہنے والے وہ لوگ جو حکومت یا اداروں پر تنقید کرتے ہیں اور انکے حقیقی سیاسی،سماجی تحفظات ہیں ایسے لوگوں سے بات چیت ہوسکتی ہے اور ہو رہی ہے انکے جائز تحفظات دور کئے جارہے ہیں لیکن وہ لوگ جو ایک منصوبے کے تحت فنڈز حاصل کرکے لوگوں کو مسلح کرتے ہیں۔

اور انکی فنڈنگ کر تے ہیں سے کوئی بات نہیں کی جاسکتی وہ لوگ جنہوں نے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی قسم کھا رکھی ہے اور انکی وجہ سے کئی لوگوں نے جانیں قربان کی ہیں ان سے بات چیت کی گنجائش موجود نہیں ان سے بات چیت کرکے ہم ملک کے لئے جانیں قربان کرنے والوں کو کیا پیغام دیں گے،انہوں نے کہا کہ10سال پہلے اور آج کے بلوچستان میں واضع فرق موجود ہے۔

چیزیں اگر 100نہیں تو 70فیصد ضرور بہتر ہوئی ہیں،حالات کی بہتری کے لئے سکیورٹی فورسز نے اہم کردار اداکیا ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ایک سال کے دوران گورننس لاگو کی گئی ہے، معاملات میں شفافیت لائی گئی ہے،پلاننگ اور مانیٹرنگ کے نظام بہتر کئے گئے ہیں جولائی میں پی ایس ڈی پی اسکیمات پر ٹینڈز کا آغاز کر کے بلوچستان نے وہ کام کیا جو پاکستان میں کہیں نہیں ہوتا ہم نیا نہیں بلکہ خوشحال بلوچستان بنا رہے ہیں۔

اتحادی میرے ساتھ ہیں اور حکومت مضبوط ہے میں سیاسی معاملات سے ہٹ کرکام پر دیہان دیتا ہوں اور جب تک وزیراعلیٰ ہوں کام کرتا رہونگا، انہوں نے مزید کہا کہ ماضی کی نسبت صوبائی حکومت کے وزراء کی تعدا ایک چوتھائی بھی نہیں صوبائی حکومت میں وزراء کی تعداد16جبکہ مشیر بھی ہیں وزیراعلیٰ کے معاونین خصوصی بھی مختلف امور میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔

اگرچہ کہ بلوچستان میں معاونین خصوصی غیر منتخب ہیں لیکن وہ تمام لو گ سیاسی ہیں یہ تاثر درست نہیں کہ حکومت پر غیر منتخب افراد کااثر یا کوئی مداخلت ہے، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گوادر میں پینے کے پانی کا مسئلہ حل کردیا ہے،گوادر کے حوالے سے ماضی میں حقیقی کام کرنے کے بجائے زبانی جمع خرچ سے کام لیا گیا موجودہ حکومت نے تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے گوادر ماسٹر پلان تشکیل دیا ہے۔

گوادرمیں جیٹی بھی تعمیر کی جارہی ہے جبکہ گوادر کی پرانی آبادی کو متاثر نہیں ہونے دیں گے، گوادر کو نیشنل گرڈ سے منسلک کردیا جائیگا جبکہ ایئر پورٹ کی تعمیر بھی شروع کردی گئی ہے انہوں نے کہا کہ گوادر میں سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے یہ سرمایہ کاری بلوچستان کی حکومت اور لوگوں نے کرنی ہے تاکہ باہر سے کوئی آکر اسکا فائدہ نہ اٹھا سکے انہوں نے کہا کہ کوئٹہ شہر میں سیف سٹی منصوبے کے تحت کیمرے لگائے جارہے ہیں۔

سیف سٹی منصوبہ چند ماہ میں مکمل ہو جائیگا،بدقسمتی سے پچھلی حکومتوں نے بلوچستان کو ترجیح دینے کے بجائے سی پیک منصوبے میں صوبے کو نظر انداز کیا موجود ہ حکومت کے دور میں کوئٹہ کراچی شاہراہ کو دو رویہ کرنے، مغر بی راہداری روٹ، خصوصی اقتصادی زونز پر کیا جانے والا کام گزشتہ اداروں میں ہونا تھا جو نہیں کیا گیا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ کوئٹہ میں 35سڑکوں کی مرمت اور تعمیر کا کام جاری ہے۔

شہر میں انفراسٹرکچر کی بہتری کا کام تاخیر کاشکار رہا ہے جسے اب بہتر کیا جارہا ہے برج عزیز ڈیم سے کوئٹہ کا 35فیصد پانی کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے لیکن اسکی فیز یبلٹی رپورٹ ہی نہیں بنائی گئی،حلق ڈیم وفاق کے توسط سے بنانے کے لئے کام جاری ہے کوئٹہ شہر میں 8نئے پارکس بنانے جارہے ہیں