کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان جام کما ل خان نے کہا ہے کہ بلوچستان میں کورونا وائرس کی تشخیص کے لئے کٹس کی کمی کا سامنا ہے، اگر کٹس مل جائیں تو ایک دن میں 1200سے زائد ٹیسٹ کر سکتے ہیں این ڈی ایم کی 1000کٹس آئی تھیں جو کوئٹہ اور تفتان میں تقسیم کی گئی ہیں مزید کٹس کی بھی ڈیمانڈ کی گئی ہے، حکومت بلوچستان کورونا وائرس کے تدارک کے لئے اقدامات بہتر کر رہی ہے۔
تفتان ایک دور افتادہ پسماندہ علاقہ ہے وہاں جتنے بھی انتظامات کئے کوئٹہ اور کراچی سے چیزیں منگوا کر کیے،عوام سے گزارش ہے کہ 10دن احتیاطی تدابیر اپنائیں احتیاطی تدابیر سے اس وباء پر 90فیصد تک قابو پا یا جا سکتا ہے، یہ بات انہوں نے ہفتہ کو پی ڈی ایم اے کے دفتر کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی، اس موقع صوبائی وزیرداخلہ میر ضیا ء لانگو، وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی میر عبدالرؤف رند بھی انکے ہمرا ہ تھے۔
وزیراعلیٰ جام کمال خان نے کہا کہ جب کورونا وائرس پھیلا تو صوبے کے پاس صرف 3سو کٹس موجود تھیں جس کے بعد وفاقی حکومت سے کٹس فراہم کرنے کا مطالبہ کیاگیا اب بھی بلوچستان کو کٹس کی کمی کا سامنا ہے حکومت نے تین دن پہلے ٹیسٹ کرنے والی مشینوں کو اپ ڈیٹ کیا ہے جس کے بعد اب ٹیسٹ کرنے کی سہولت میں تیزی آئی ہے اگر کٹس مل جائیں تو ایک دن میں 1200سے زائد ٹیسٹ کر سکتے ہیں۔
این ڈی ایم کی 1000کٹس آئی تھیں جو کوئٹہ اور تفتان میں تقسیم کی گئی ہیں مزید کٹس کی بھی ڈیمانڈ کی گئی ہے انہوں نے کہا کہ شیخ زید میں 80سے 100لوگوں کو داخل کردیا گیا ہے، حکومت بلوچستان کورونا وائرس کے تدارک کے لئے اقدامات بہتر کر رہی ہے،تفتان کے حوالے بہت سے چیزیں کہی گئی ہیں لیکن تفتان ایک دور افتادہ پسماندہ علاقہ ہے وہاں جتنے بھی انتظامات کئے کوئٹہ اور کراچی سے چیزیں منگوا کر کیے گئے۔
، ایران کی جانب سے زائرین کی واپسی پر ہمیں انتظامات کرنے کا انتہائی کم وقت ملاحکومت نے اپنے تمام وسائل بروئے کا ر لاتے ہوئے چار ہزار ٹینٹ،باتھ رو م، میڈیکل سہولیات،کھانا فراہم کیا ہم ابھی تک تفتان میں سہولیات فراہم کر رہے ہیں اور چمن میں بھی 3ہزار سے زائد افراد کو رکھنے کی سہولت فراہم کردی گئی ہے چمن میں ہمارے پاس عمارت موجود تھی لیکن تفتان جیسے ریگیسان میں سہولیات مہیا کرنا چیلنج تھاہم نہیں کہتے کہ تفتان میں بہترین سہولیات دی گئی ہیں لیکن حکومت کے پاس جتنے وسائل تھے انکے حساب سے سب کچھ فراہم کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جتنے بھی زائرین تھے وہ انکے صوبوں کے پاس ہیں ہم سے ایک بھی زائرین باہر نہیں گیا انہوں نے کہا کہ 9لاکھ ایسے افراد جوسعودی عرب، امریکہ،یورپ سمیت دیگر ممالک سے آئے ہیں وہ بھی احتیاط کریں اور اپنے گھروں میں رہیں 10دن اپنی حالت کا اندازہ لگائیں اگر طبعیت ٹھیک نہیں ہے تو حکومت سے رابطہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ 100کے قریب زائرین کو انکے علاقوں میں روانہ کردیا ہے جولوگ صوبے کے ہیں انکے بھی ٹیسٹ کئے جارہے ہیں ایران میں موجود طلباء کے لئے بھی سسٹم مرتب کیا جارہا ہے جس پر ایرانی حکومت سے بات کی جائیگی،انہوں نے کہا کہ قرنطین کا مطلب صرف محدود رکھنا ہے اس مدت کو مکمل کرنے کے بعد ٹیسٹ کئے جاتے ہیں یکم مارچ کو جب لوگ بارڈر پر لوگ آئے تو انہیں قرنطینہ میں رکھا گیا۔
تفتان میں کسی بھی شخص کا کورونا وائرس کا ٹیسٹ نہیں کیا اور ایسا کرنا ممکن بھی نہیں تھا ہم نے انہیں صرف محدود رکھا تفتان سے جانے والے افراد میں 25سے 30فیصد لوگوں میں کورونا کی تشخص ہوئی،انہوں نے کہا کہ 100بسیں دینے والے ٹرانسپورٹرز انکے عملے کو سلام پیش کرتا ہوں کہ جنہوں نے1500کلو میٹر تک زائرین کو اپنی گاڑیوں میں ڈیرہ غازی خان اور سکھر پہنچایا۔انہوں نے کہا کہ اٹلی میں اب تک چار ہزار لوگوں کی اموات ہوچکی ہیں کورونا وائرس ملک سمیت تمام صوبوں کے لئے بہت بڑا چیلنج ہے عوام سے گزارش ہے کہ 10دن احتیاطی تدابیر اپنائیں احتیاطی تدابیر سے اس وباء پر 90فیصد تک قابو پا یا جا سکتا ہے۔
عوام او پی ڈیز،بازاروں، ہوٹلز میں جانے سے بھی گریز کریں کیونکہ یہ بیماری وہ باہر سے اپنے گھر تک لیکر جاسکتے ہیں انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں لوگوں کی جانب سے قرنطینہ مراکز بنا نے پر احتجاج کیاگیااور حاجی کیمپ کو جلا دیا گیا یہ افسوس ناک بات ہے یہ سہولیات صرف زائرین یا چند لوگوں کے لئے نہیں ہیں ان سہولیات سے ہم سب آج اور مستقبل میں بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں ہمیں ذمہ دار قوم ہونے کا ثبوت دینا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ہم انتظار نہیں کر سکتے جن ممالک نے انتظار کیا وہاں آج ریکارڈ اموات ہوئی ہیں پاکستان میں حالات اتنے خراب نہیں ہیں لیکن اگر احتیاط نہ کی گئی تو ہم بھی کسی بڑی مصیبت سے دوچار ہو سکتے ہیں لوگ گھروں میں رہ کر کام کریں اپنے اہلخانہ کے ساتھ وقت گزاریں 10دن گھر پر رہنا ایسا کام نہیں کہ ہم نہ کرسکیں۔انہوں نے کہا کہ۔
قرنطین مدت پوری کرنے کے بعد گھروں کو جانے والے لوگ کم از کم 10دن تک اپنے آپ کو تنہائی میں رکھیں اور اپنی طبیعت کو دیکھیں،انہوں نے کہا کہ پاک افغان سرحد بہت بڑا چیلنج ہے وہاں سے لوگوں کی آمد و رفت بہت زیادہ ہے چمن میں ایک قرنطینہ مرکز قائم کیا گیا ہے جبکہ بارڈر پر ایک کیمپ سٹی بھی بنا رہے ہیں جسکے لئے تمام تر سہولیات مہیا کی جارہی ہیں اگرافغانستان میں کوروناپر بہتر انداز میں کنٹرول کیا گیا تو وہاں سے پاکستان وائرس منتقل ہونے کا خدشہ کم ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ہم جزوی لاک ڈاؤن پر اس لئے گئے ہیں کیونکہ وہاں شاپنگ مالز اور مراکز ہیں جنکے نہ کھلنے سے عوام کو براہ راست فرق نہیں پڑتا ابھی بھی محسوس کررہا ہوں کہ کچھ مقامات پر غیر ضروری رش ہے شوروم مالکان کو فوری طور پر اپنے شوروم بند کرنے چاہیئں اگر ضرورت پڑی اور لوگ احتیاط نہیں کرتے تو ہمیں مکمل لاک ڈاؤن پر جانا پڑیگا،انہوں نے کہا کہ روزانہ اجرت پر کا م کرنے والوں کی فہرست بنا کر انکی معاونت کرنے کے حوالے سے طریقہ کاربنا رہے ہیں۔
انڈسٹری مالکان کو بھی اپنے ڈیلی ویجز ملازمین کی مدد کرنی چاہیے، حکومت ٹرانسپورٹ سمیت دیگر کاروباروں کے لئے بھی معاونت دے گی۔انہوں نے کہاا ب تک ایسی صورتحال نہیں کہ صوبے ایک دوسرے کی مال بردارگاڑیوں کو نہ چھوڑیں اگرچہ صرف چیکنگ کی جارہی ہے کوشش ہے کہ ذخیرہ اندوز عناصر اس صورتحال کا فائدہ نہ اٹھائیں