|

وقتِ اشاعت :   July 28 – 2020

کوئٹہ: بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جناب جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس جناب جسٹس نذیراحمد لانگو پرمشتمل بینچ نے مشرقی بائی پاس بکرا منڈی میں جانوروں کی خرید وفروخت کی اجازت دیتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ قانونی تجارت ہر شہری کا آئینی حق ہے،مشرقی بائی پاس مویشی منڈی میں میٹروپولیٹن کے شرائط پرکاروبارکی اجازت ہے شرائط کی خلاف ورزی پر مجاز اتھارٹی کارروائی کرسکتی ہے۔یہ ریمارکس بینچ کے ججز نے مشرقی بائی پاس پر قائم مویشی منڈی کی بندش کے خلاف دائر ائینی درخواست کے موقع پر دیا۔

سماعت کے دوران درخواست گزار کے کونسل محمد عامر نواز رانا ایڈووکیٹ،بیرسٹر ظہور حسن جاموٹ ایڈووکیٹ،ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان ارباب محمد طاہر ایڈووکیٹ،ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل شہک بلوچ،نادر چھلگری ایڈووکیٹ، ایڈمنسٹریٹر طارق جاوید مینگل اور لاء آفیسر میٹروپولٹین عبداللہ پیش ہوئے،عدالت نے استفسار کیاکہ کس قانون کے تحت بکرا منڈی بند اور معاہدہ کو ختم کردیاگیا۔

جس پرایڈمنسٹریٹر نے عدالت کوبتایاکہ چند شرپسند نے سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا اور معاہدے کی خلاف ورزی پرمشرقی بائی پاس پر جانوروں کی خریدوفروخت پرپابندی عائد کردی گئی اور واقعہ میں ملوث افراد اور ٹھیکیدار کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے،انہوں نے عدالت کوبتایاکہ کے معاہدے کی شق 12کے تحت ٹھیکیدار عوامی املاک کو نقصان پہنچانے کے برپائی کے پابند ہیں۔اس موقع پردرخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایاکہ درخواست گزار کی جانب سے بھی سرکاری املاک کونقصان پہنچانے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے۔

جہاں تک معاہدے کی شق 12کا تعلق ہے تو قانونی طورپر اس کو لاگو نہیں کیاجاسکتا۔اس موقع پر بینچ کے ججز نے ریمارکس دئیے کہ قانونی تجارت ہر شہری کا آئینی حق ہے جب تک کوئی غیر قانونی نہ پایاجائے کاروبار کو بند نہیں کیاجاسکتا، عدالت نے ریمارکس دئیے کہ ایڈمنسٹریٹر قانونی طورپر درخواست گزار ہو یا کوئی دوسرا جرم میں ملوث ہو تو اس کے خلاف کارروائی کرسکتاہے،معاہدے کے تحت درخواست گزار قانونی کاروبار کرسکتاہے،اس موقع پر ایڈمنسٹریٹر نے عدالت کوبتایاکہ مذکورہ پراپرٹی حکومت کا ہے لیکن اس کے کچھ حصے پر کچھ لوگوں کی جانب سے غیر قانونی طورپر قبضہ کیاگیاہے۔

سڑک کو واگزار کرالیاگیاہے لیکن کچھ زمین اب بھی ان کے قبضے میں ہے،عدالت نے ایڈمنسٹریٹر کو ہدایت کی کہ میٹروپولیٹن کارپوریشن سرکاری اراضی کو واگزار کرانے کیلئے کارروائی کریں اور ایس پی پولیس مکمل مدد فراہم کرے،جس پر طارق جاوید مینگل نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ غیرقانونی طورپر قبضہ کرنے والوں کے خلاف پولیس کی مدد سے کارروائی کی جائیگی،بینچ نے درخواست گزار کو بکرا منڈی میں کاروبار کی اجازت دیتے ہوئے ہدایت کی کہ ایڈمنسٹریٹر کی جانب سے دئیے گئے شرائط کے مطابق درخواست گزار کو کاروبار کی اجازت ہے۔

شرائط کی خلاف ورزی پر مجاز اتھارٹی کارروائی کرسکتی ہے۔دریں اثناء بلوچستان ہائی کورٹ کے احکامات کی روشنی میں میٹروپولٹین کارپوریشن کوئٹہ نے مشرقی بائی پاس پر بکرا پیڑی کی اجازت دیدی جس میں این سی او سی کی جانب سے جاری کردہ ایس او پیز کے تحت مویشی منڈی میں جانوروں کی خرید وفروخت کی اجازت ہوگی۔چیف میٹروپولٹین آفیسر کے دستخط سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہاگیاہے کہ گزشتہ روز مشرقی بائی پاس پر بکرا پیڑی میں ناخوشگوار واقعہ میں شرپسند وں نے پی ڈی ایم اے اور میٹروپولٹین کارپوریشن کی تنصیبات کو آگ لگایاتھا۔

جس پر میٹروپولٹین کارپوریشن کی جانب سے کسی بھی ناخوشگوار واقعہ اور بدامنی سے بچنے کیلئے بکرا منڈی کو کسی بھی طرح کے جانوروں کی خرید وفروخت کیلئے بند کردیاگیا،نوٹیفکیشن کے مطابق بلوچستان ہائی کورٹ کے احکامات کی روشنی میں این سی او سی کی جانب سے جاری کردہ ایس او پیز کے تحت مویشی منڈی میں جانوروں کی خرید وفروخت کی اجازت دیدی۔نوٹیفکیشن میں کہاگیاہے کہ ایس او پیز کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی جائیگی۔