کوئٹہ: صوبائی وزراء نے کہا ہے کہ دو سالوں کے دوران حکومت بلوچستان نے صوبے میں کرپشن کے خاتمے،گڈگورننس، محکموں کی استعداد کار میں بہتری، امن و امان کی صورتحال کو بہتر کے لئے اقدامات کئے ہیں، صوبائی حکومت نے15ارب روپے کے فلیگ شپ منصوبوں کے تحت کم آمدن والے افراد کے لئے ہاؤسنگ اسکیم، آسان اقساط پر بلا سود قرضے، قیدیوں کے معاوضے کی ادائیگی کے لئے 50کروڑ، قدرتی آفات سے نمٹنے کے لئے 2ارب روپے مختص کئے ہیں،اپوزیشن کا کام صرف تنقید ہے
جس پر کان نہیں دھرنے چاہئیں،اپوزیشن جن کاموں پر تنقید کرتی ہے بعد میں انہیں کا افتتاح کر رہی ہوتی ہے، یہ بات صوبائی وزیر خزانہ میر ظہور بلیدی، صوبائی وزیر تعلیم سردار یارمحمد رند، صوبائی وزیر خوراک و بہبود آبادی سردار عبدالرحمن کھیتران، صوبائی وزیر سماجی بہبود اسد بلوچ، وزیراعلیٰ کے مشیر برائے کھیل و ثقافت عبدالخالق ہزارہ نے بدھ کو آفیسر کلب کوئٹہ میں حکومت کی دو سالہ کارکردگی کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی
، اس موقع پر صوبائی وزیر میر سلیم کھوسہ، وزیراعلیٰ کے کوآرڈینیٹر بلال کاکڑ، سیکرٹری خزانہ نور الحق بلوچ، ڈائریکٹر جنرل محکمہ تعلقات عامہ نعیم بازئی سمیت دیگر بھی موجود تھے۔
صوبائی وزیر خزانہ میر ظہور بلیدی نے کہا کہ حکومت نے اپنے دو سال مکمل کر لئے ہیں دو سال قبل جب ہمیں حکومت ملی تو صوبے میں گڈگورننس کا فقدان تھا محکمے جمود کا شکار تھے صوبے میں ترقی کی سمت کا تعین نہیں تھا ان تمام مسائل کو حل کرنے کے لئے حکومت نے اقدامات کئے ہیں اب صوبے میں کرپشن میں کمی، محکمے اپنے پاؤں پر کھڑے ہورہے ہیں
جبکہ صوبے کی ترقی کی سمت کا تعین کیاگیا ہے، قوانین میں ترامیم کی گئی نئی پالیساں بنائی گئی ہیں اس عمل میں حکومتی اتحادیوں کے ساتھ ساتھ وفاقی حکومت کا بھی تعاون شامل رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے پی ایس ڈی پی کا پوسٹ مارٹم کرکے 2500غیر ضروری اسکیمات کو ختم کیا تھرو فارورڈ کو 250بلین تک لایا گیا ہے 2019-20کے بجٹ میں ریکارڈ 75ارب روپے استعمال کئے گئے کورونا وائرس کی وباء اور ٹڈی دل کے تدارک کیلئے بروقت فنڈز کے اجراء سے ان دونوں مشکلات سے نبرد آزما ہونے میں مدد ملی
، انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت میں ڈاکٹروں، پی جی ایم آئی،فاطمہ جناح ہسپتال کوئٹہ میں سینکڑوں آسامیاں پیدا کی گئیں صوبے کے 11ڈی ایچ کیوز کو ٹیچنگ ہسپتال کا درجہ دیا گیا ہے ادویات کی خریداری کو ڈی سینٹرلائز کرکے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ضرورت کے مطابق خریداری کا اختیار دیا گیا ہے جس سے صوبے میں ادویات کی کمی کو دور کیا جارہا ہے
، انہوں نے کہا کہ صوبے میں 79انٹر کالجز کو ڈگری کالجز بنایا جارہا ہے رواں سال فنانشل مینجمنٹ ایکٹ کے تحت اب اسکیمات کو پی ایس ڈی پی میں شامل کرنے سے پہلے منظور کروانا ضروری قرار دیا گیا ہے 10،10سال سے تاخیر کا شکار اسکیمات کو بجٹ سے نکالا گیا ہے، اب بجٹ کی ہر اسکیم کے لئے ایک تہائی الوکیشن رکھنا لازم ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں معدنیات کے شعبے کی بہتری کے لئے مائنز اینڈ منرل پالیسی 2019بنائی گئی ہے جو بھی کمپنی یا شخص مائن الاٹ کریگا اسے کے لئے کام کرنالازم ہوگا جبکہ گوادر کے ماسٹر پلان کو تما م سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے منظور کیا گیا اور علاقے کی مقامی آبادی کے تحفظ کے لئے آبادی کا تناسب 20لاکھ رکھا گیا ہے انہوں نے کہاکہ زراعت اور لائیو سٹاک کے شعبوں کے فنڈز بڑھائے گئے ہیں ان شعبوں میں ایسے منصوبے لائے جارہے ہیں
جن سے عوام کو براہ راست فائدہ پہنچے صوبے میں پہلی بار لائیوسٹاک ایکسپو کروائی گئی مراعات دیکر سرمایہ کاروں کو راغب کیا جارہا ہے تا کہ وہ یہاں اپنی صنعت لگائیں انہوں نے کہا کہ صوبے میں پہلے قانون سازی کا فقدان تھا حکومتوں کی توجہ صرف ٹرانسفر پوسٹنگ تک محدود تھی
ہم نے لینڈ لیز پالیسی، مائنز اینڈ منرلز پالیسی سمیت دیگر اہم قانون سازیاں کی ہیں، میر ظہور بلیدی نے کہا کہ صوبے میں غیر ملکی افراد کو زمین بیچنے کی بجائے کرائے پر دی جائیگی تاکہ اسکی آمدن حکومت کو حاصل ہو گوادر میں 300میگا واٹ کے پاور پلانٹ کی زمین پر بھی کمپنی کو حکومت کو کرائے کی ادائیگی کا پابند کیا گیا ہے
سینڈک اور ریکوڈک سمیت دیگر منصوبوں کے معاملات کے حوالے سے بلوچستان مائننگ کمپنی بھی بنائی گئی ہے، انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت نے وفاقی حکومت سے پی ایس ڈی پی میں 900ارب روپے کی غیر منظور شدہ اسکیمات کو منطور کروایا ہے ہوشاب آواران، بیلہ جھاؤ روڈ، 65ارب کی لاگت سے ژوب کچلاک روڈ، جعفرآباد مغربی بائی پاس روڈ،نوکنڈی ماشکیل روڈ، 2ارب کی لاگت سے تربت یونیورسٹی سمیت دیگر منصوبے منظور کئے گئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ صحت کا بجٹ 17فیصد بڑھایا گیا ہے
گوادر کو 50لاکھ گیلن پانی یومیہ فراہم کیا جارہا ہے پہلی بار گوادر کے پانی کا مسئلہ حل کیا گیا بابر کچھ،برج عزیز ڈیم سمیت دیگر منصوبوں کی تکمیل سے کوئٹہ سمیت دیگر علاقو ں میں پانی کی کمی کا مسئلہ حل کیا جائیگا، انہوں نے کہا کہ تربت واقعہ انتہائی دلخراش تھا جس پر صوبے کا ہر شخص رنجیدہ ہے میں خود تربت میں حیات بلوچ کے گھر گیا اور انکے لواحقین سے افسوس کرنے کے ساتھ ساتھ انصاف فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی حیات بلوچ پر فائرنگ میں ملوث شخص کو گرفتار کرلیا گیاہے اسے کیفر کردار تک پہنچایا جائیگا
البتہ ایک واقعہ کی ذمہ داری پورے ادارے پر ڈالنا مناسب نہیں ہم سب حیات بلوچ کے لواحقین کو انصاف کی فراہمی میں کردار ادا کریں گے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا کام مخالفت کرنا ہے حکومت کا کام صوبے کی ترقی کے لئے کام کرنا ہے کسی بھی غیر منتخب شخص کے ذریعے اسکیمات نہیں دی گئیں اپوزیشن اراکین تنقید کرتے تھکتے نہیں پھر بعد میں انہی اسکیمات کا افتتاح کرتے ہیں
صوبے میں 15ارب روپے کے فلیگ شپ منصوبوں کے تحت کم آمدن والے افراد کے لئے ہاؤسنگ اسکیم، آسان اقساط پر بلا سود قرضے، قیدیوں کے معاوضے کی ادائیگی کے لئے 50کروڑ، قدرتی آفات سے نمٹنے کے لئے 2ارب روپے مختص کئے گئے ہیں،صوبے میں اے جی آفس سے پینشن کا نظام ضلعی اکاؤنٹس آفیسر کو منتقل کردیا گیا ہے ۔
پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر صوبائی وزیر تعلیم سردار یارمحمد رند نے کہا کہ مجھے 20منٹ پہلے پریس کانفرنس کے بارے میں بتایا گیا جسکی وجہ سے اعداد و شمار نہیں لا سکا، وزیر خزانہ کی یاداشت اور کارکردگی قابل تعریف ہے انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ جام کمال خان کی قیادت میں حکومت نے صوبے کی ترقی کو ترجیح دی ہے ترقیاتی بجٹ اگرچہ توقعات سے کچھ کم رہا لیکن امید ہے اس میں بھی بہتر ی آئے گی،انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا منشور،تعلیم اور روزگار ہیں ان دونوں شعبوں پر بھی توجہ دی جارہی ہے حکومت آئندہ تین سال میں تعلیم کے شعبے میں بہتری لائے گی انہوں نے کہا کہ جو لو گ آج بلوچستان کے دکھ کی آواز بلند کررہے ہیں انہوں نے تعلیم کے ساتھ جو زیادتیاں کیں وہ سب کے سامنے لاؤنگا محکمہ تعلیم میں ہزاروں گھوسٹ ملازمین کی تحقیقات جاری ہیں صوبے میں 12نئے ڈگری کالجز بنائے جائیں گے میری کوشش تھی کہ ہر ضلع میں ایک ریذڈنشل اسکول تعمیر کیا جائے تاہم منصوبہ تکنیکی بنیادوں پر التواء کا شکار ہے سیاسی مداخلت کی وجہ سے محکمہ تعلیم اپنے اصل مقاصد سے ہٹ گیا انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے کشمیر کاز بھی ہمیشہ آواز بلند کی ماضی میں جن دو بڑی جماعتوں نے حکومتیں کیں انہوں نے مسئلہ کشمیر کو پس پشت ڈالا جسکی وجہ سے یہ مسئلہ کسی بھی عالمی فورم پر نہیں اٹھا پی ٹی آئی حکومت نے اس مسئلے کو ہر فورم پر بلند کیا ہے، انہوں نے کہا کہ کچھی اور شوران میں پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لئے 8انچ کی پائپ لائن ڈال رہے ہیں بابر کچھ ڈیم بنانے سے سبی اور کچھی تباہ ہوجائیں گے اسکی تعمیر پر تحفطات پر وزیراعلیٰ کو آگاہ کرونگا، انہوں نے کہا کہ 2008سے 2013کے درمیان میں رکن صوبائی اسمبلی تھا لیکن ہمارے حلقے میں کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوئے تاہم ہر چور اور ڈاکو کو ایک ایک کروڑ روپے میں کمیونٹی سینٹر بنا کر دئیے گئے جو آج گھروں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔صوبائی وزیر خوراک سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی کی حکومت نے کسی کو بھی سیاسی انتقام کا نشانہ نہیں بنایا آج صوبے کے ہر ضلع میں ضرورت کی بنیاد پر ترقیاتی منصوبے جاری ہیں صوبے میں گزشتہ دو سالوں میں کرپشن کا عنصر کم ہوا ہے محکمہ خزانہ اور پی اینڈ ڈی میں اسکیمات کی خرید و فروخت کا سلسلہ بند کیا گیا ہے
انہوں نے کہاکہ آج اسمبلی میں ایک قد آور شخصیت تقریریں کرتی ہے لیکن انکے دور میں 150،150جنازے سڑکوں پر رکھ کر لوگ روتے تھے لیکن حکومت کی جانب سے کسی کو بھی تسلی نہیں دی گئی آج صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان فوڈ اتھارٹی اور محکمہ خوراک بہتر انداز میں کا م کر رہے ہیں ہم نے پالیسی بنا کر شفاف طریقے سے گندم کی خریداری کی ہے آج محکمہ خوراک بینک سے قرض لینے کی بجائے حکومت سے فنڈز لیکر کام کر رہا ہے جس سے اخراجات میں کمی آئی ہے صوبے میں گندم کا کوئی بحران نہیں صوبے بھر میں سستے داموں گندم فروخت کی جارہی ہے
انہوں نے کہا کہ 2013-18تک حکومت کرنے والے قوم پرستوں کا نعرہ تعلیم اور صحت کی بہتری تھا لیکن انہوں نے ان دونوں محکموں کا بیڑہ غرق کردیا، انہوں نے کہا کہ ہماری مخلوط حکومت صوبے میں کچھ کر کے جائے گی۔بی این پی عوامی کے صوبائی وزیر سماجی بہبود میر اسد اللہ بلوچ نے کہا کہ ہم اپنی حکومت کی مخالفت نہیں کرتے صوبے کے 33اضلاع میں 1ہزار سے زائد غریب و نادار افراد کو 7مہلک بیماریوں کے علاج کے لئے 1ارب روپے فراہم کئے گئے صوبے میں معذور افراد کو موٹر سائیکل اور 10ہزار بے روزگاروں کو چنگچی رکشہ فراہم کریں گے
،انہوں نے کہا کہ مسائل زیادہ اور سائل کم ہونے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑھ رہا ہے پانچ سال مکمل ہونے پر ہم اپنی حکومت کا وائٹ پیپر جاری کریں گے اور عوامی عدالت میں انتخابات کے لئے جائیں گے۔ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئر مین اور مشیر برائے کھیل و ثقافت عبدالخالق ہزارہ نے کہا کہ سابقہ ادوار کی نسبت آج دہشتگردی میں کمی آئی ہے بلوچستان کے نوجوانوں کو مذموم عزائم کے حصول کے لئے استعمال کیا گیا اور انہیں منفی سمت میں ڈالا گیا مخلوط حکومت کی جانب سے صوبے میں 36اسپورٹس کمپلکس بنائے جارہے ہیں 20ہزار 200نودارات صوبے میں لاکر انہیں جلد عجائب گھر میں رکھا جائیگا ہر ضلع میں آرٹ کے اینڈ کلچر سینٹر بنانے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ صوبے کی تمام ثقافتوں کو اجاگر کرنے کے لئے ثقافتی دن منائے جائیں گے، انہوں نے کہا کہ آرٹسٹ کے لئے 20کروڑ روپے کا انڈومنٹ فنڈ رکھا گیاہے۔
دو سالوں کے دوران بلوچستان میں کرپشن میں کمی اور محکمے اپنے پاؤں پر کھڑے ہورہے ہیں،صوبائی وزراء
![]()
وقتِ اشاعت : August 19 – 2020