|

وقتِ اشاعت :   August 29 – 2020

کوئٹہ+اندرون بلوچستان: بلوچستان میں حالیہ بارشوں نے تباہی مچادی۔ خضدار میں مسلسل دو روز سے جاری بارش سے کچی آبادی زیر آب آگئے، فصلات کو بڑے پیمانے پر نقصان، عوامی نمائندے غائب، نکاسی آب کے ناقص نظام نے شہریوں و تاجروں کوپریشانی سے دوچارکردیا مسلسل برسنے والی بارش سے گلیاں اور سڑکیں سمندر کا منظر پیش کرنے لگی ہیں۔

نکاسی آب کے ناقص انتظام نے میونسپل کارپوریشن کی نااہلی کو عیاں کردیا ہے، سیلاب سے متعدد مکانات منہدم اور خستہ دیواریں گر گئی ہیں، لسبیلہ میں کوئٹہ کراچی شاہراہ اور سبی شاہراہ بی بی نا نی پر بحالی کا کام جاری ہے تاہم ٹریفک بحال نہ ہوسکی ڈھاڈر کے دریائے ناڑی مٹھڑی ویئر کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے صوبائی حکومت اور سبی کی ضلعی انتظامیہ نے ایمر جنسی کی صورت میں علاقہ مکینوں کو محفوظ مکانات پر منتقل ہونے کی اپیل کی ہے۔

ڈیرہ اللہ یار کے قریب گوٹھ حاجی غلام رسول جتوئی کے مقام پر سم شاخ اور فلو 50 سے زائد مکانات زیر آب آگئے صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ کی ہدایت پر ہیوی مشینری کے ذریعے سم شاخ کے پشتے مضبوط بنا کر پانی کا بہاؤ روک دیا گیا،لہڑی اور ڈیرہ بگٹی سے آنے والے سیلابی ریلے نصیرآباد کے حدود میں داخل تحصیل چھتر کے متعد دیہات زیر آب ڈپٹی کمشنر نصیرآباد حافظ محمد قاسم کاکڑ نے ریونیو عملہ کے ہمراہ سیلابی پانی کا جائزہ لیا۔

اوستہ محمد وگردونواح کے علاقوں میں گزشتہ بارشوں نے ایک بار پھر علاقے میں تبائی مچا دی،کچے مکانات دوکانوں کی چھتیں گر گی،چاول کی کھڑی فصل کو نقصان ہونے کا خطرہ،پیپلز رائس مل کے گودام کی چھت گر نے سے لاکھوں روپے کا اناج اور دیگر سامان برساتی پانی میں ضائع ہوگئے، موا صلاتی نظام درھم، گھروں میں رکھے اناج پارش کی پانی میں ڈوب گئے۔تفصیلات کے مطابق خضدار میں مسلسل دو روز سے جاری بارش سے کچی آبادی زیر آب آگئے۔

فصلات کو بڑے پیمانے پر نقصان، عوامی نمائندے غائب، نکاسی آب کے ناقص نظام نے شہریوں و تاجروں کوپریشانی سے دوچارکردیا مسلسل برسنے والی بارش سے گلیاں اور سڑکیں سمندر کا منظر پیش کرنے لگی ہیں نکاسی آب کے ناقص انتظام نے میونسپل کارپوریشن کی نااہلی کو عیاں کردیا ہے، سیلاب سے متعدد مکانات منہدم اور خستہ دیواریں گر گئی ہیں، زیدی میں مال مویشی سیلابی ریلے میں بہہ گئیں دوسری جانب زیدی ڈیم میں سطح آب بلند ہونے سے شہری خوف کے مارے محفوظ مقامات پر منتقل ہوگئے ہیں، خضدار کے دیگر علاقوں وڈھ نال کرخ، مولہ زیدی، فیروزآباد، باغبانہ، زہری، وہیر، میں فصلات کو بے حد نقصان پہنچا اور وہاں انفراسٹرکچر بری طرح متاثر ہوا ہے۔

آمد و رفت میں لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ اس مشکل گھڑی میں خضدار کے عوامی نمائندے منظرعام سے غائب ہیں تین ایم پی اے، ایک ایم این اے اور ایک سینیٹر کا کوئی خاصا کردار نظر نہیں آرہا ہے عوام کو بے یارومددگار چھوڑ کر یہ نمائندے نہ جانے کہاں غائب ہیں۔ لسبیلہ میں کوئٹہ کراچی شاہراہ اور سبی شاہراہ بی بی نا نی پر بحالی کا کام جاری ہے تاہم ٹریفک بحال نہ ہوسکی ڈھاڈر کے دریائے ناڑی مٹھڑی ویئر کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے صوبائی حکومت اور سبی کی ضلعی انتظامیہ نے ایمر جنسی کی صورت میں علاقہ مکینوں کو محفوظ مکانات پر منتقل ہونے کی اپیل کی ہے۔

صوبے کے 9اضلاع میں سیلاب ایمرجنسی نافذ کر دی گئی تھی لسبیلہ کے مختلف دیہاتوں میں بارشوں کے باعث کئی دیہات زیر آب آگئے لسبیلہ میں کوئٹہ کراچی شاہراہ پر بھی بحالی کا کام جاری،شاہراہ پر ٹریفک بحال نہ ہو سکی بلوچستان کے ضلع کچی کے علاقے بولان بی بی نانی میں قومی شاہراہ پر سیلابی ریلے سے متاثرہ پل کی بحالی کا کام جاری ہے ضلعی انتظامیہ کے مطابق سبی شاہراہ پر متاثرہ پل پر سے ہلکی ٹریفک کو جزوی طور پر بحال کردیاگیاہے۔

پل کی مکمل بحالی کے بعد شاہراہ پر ہیوی ٹریفک کو بھی جلد بحال کردیاجائیگا۔ڈھاڈر کے دریائے ناڑی مٹھڑی ویئر کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے ایکسیئن کے مطابق دریائے ناڑی میں بھی 130000 ہزار کیوسک کا سیلابی ریلہ گزر رہا ہے بولان کے علاقے مٹھڑی، حاجی شہر،بھاگ شہر کو سیلاب سے شدید خطرہ ہے ڈی سی بولان مراد خان کاسی کے مطابق بولان مذکورہ علاقوں کے دیہات زیر آب آنے کا خدشہ ہے ایمرجنسی صورت حال علاقہ مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کیلئے کہا گیا ہے ضلعی انتظامیہ، ایریگیشن کی ہیوی مشینری ہائی الرٹ کردی گئی ہیں۔

ڈیرہ اللہ یار کے قریب گوٹھ حاجی غلام رسول جتوئی کے مقام پر سم شاخ اور فلو 50 سے زائد مکانات زیر آب آگئے صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ کی ہدایت پر ہیوی مشینری کے ذریعے سم شاخ کے پشتے مضبوط بنا کر پانی کا بہاؤ روک دیا گیا،گزشتہ روز سم شاخ میں طغیانی آنے کے بعد پانی کا دباؤ بڑھ گیا اور سم شاخ اور فلو ہونے کے باعث میر نصراللہ خان رند حاجی عبدالغفور جتوئی عبدالبشیر جتوئی اول خیر جتوئی سمیت 50 سے زائد مکانات زیر آب آگئے ہیں۔

مقامی لوگوں کے گھریلو سامان بھی پانی میں بہہ گئے دیہات زیر آب آنے کی اطلاع پر صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ و بین الصوبائی امور میر عمر خان جمالی کی خصوصی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ متحرک ہوگئی اسسٹنٹ کمشنر بلال شبیر قانونگو حاجی عبدالغنی چاچڑ اور پی ایس زاہد گل جمالی نے فوری طور پر ایکسیویٹر مشین کے ذریعے سم شاخ کے گوٹھ حاجی غلام رسول جتوئی کے مقام پر پہنچ کر پشتے مضبوط کروا کر دیگر گھروں کو زیر آب آنے سے بچا لیا۔

سم شاخ اور فلو ہونے کا میونسپل کمیٹی کے چیف آفیسر محمد سلیم ڈومکی نے بھی معائنہ کیا مقامی دیہاتیوں نے میر نصراللہ رند رئیس اول خیر جتوئی کی قیادت میں صوبائی وزیر میر عمر خان جمالی اور ضلعی انتظامیہ کے حق میں نعرے بازی کی اور شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی وزیر میر عمر خان جمالی اور ضلعی انتظامیہ کی بروقت کوششوں سے سم شاخ کے پشتے مضبوط بنا کر دیگر گھروں کو زیر آب آنے سے محفوظ بنا لیا گیا۔

لہڑی اور ڈیرہ بگٹی سے آنے والے سیلابی ریلے نصیرآباد کے حدود میں داخل تحصیل چھتر کے متعد دیہات زیر آب ڈپٹی کمشنر نصیرآباد حافظ محمد قاسم کاکڑ نے ریونیو عملہ کے ہمراہ سیلابی پانی کا جائزہ لیا، مون سون کی شدید بارشوں کے بعد لہڑی اور ڈیرہ بگٹی کے پہاڑوں سے آنے والا سیلابی پانی نصیرآباد میں داخل ہوگیا ہے جس سے علاقے میں سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے سیلابی پانی سے تحصیل چھتر کے معتدد دیہات زیر آب آگئے اور کئی گھر سیلابی میں ڈوب گئے لوگ محفوظ مقامات پر منتقل ہونا شروع ہوگئے ہیں اور چھتر کے کئی دیہاتوں کا زمینی رابطہ بھی منقطع ہوگئے ہیں۔

سیلابی پانی آنے کے بعد ضلعی انتظامیہ بھی محترک ہوگئی ہے سیلابی ریلوں کو آبادی والے علاقوں سے بچانے کے لیے بھرپور کوششیں کی کر رہی ہے ڈپٹی کمشنر نصیرآباد حافظ محمد قاسم کاکڑ نے ریونیو عملہ کے ہمراہ سیلابی پانی کا جائزہ لیا اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے کہاکہ سیلابی پانی کا رخ موڑ کر ربیع کینال اور پٹ فیڈر کینال میں کردیا گیا ہے جبکہ پٹ فیڈر کینال کے پانی کو دو روز قبل ہی گڈو بیراج سے بند کرادیا گیا تھااور بھاری مشینری کو ربیع کینال کے دونوں اطراف کام پر لگا دیا ہے جو کہ کسی بھی ایمرجنسی کے لیے بروقت کام کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ تحصیل چھتر کے دیہات زیر آب ائے ہیں وہاں امدادی سرگرمیاں شروع کردی گئیں ہیں۔اوستہ محمد وگردونواح کے علاقوں میں گزشتہ بارشوں نے ایک بار پھر علاقے میں تبائی مچا دی،کچے مکانات دوکانوں کی چھتیں گر گی،چاول کی کھڑی فصل کو نقصان ہونے کا خطرہ،پیپلز رائس مل کے گودام کی چھت گر نے سے لاکھوں روپے کا اناج اور دیگر سامان برساتی پانی میں ضائع ہوگئے، موا صلاتی نظام درھم، گھروں میں رکھے اناج پارش کی پانی میں ڈوب گئے،بالاحکام اور اوستہ محمد انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ بارش سے متاثرہ علاقوں میں مالی امداد دے متاثریں کی اپیل تفصیلات کے مطابق گزشتہ بارشوں نے جہاں علاقے میں تباہی مچا دی۔

وہی گزشتہ دونوں ہونے والے موسلادار بارشوں نے علاقے میں مزید تباہی مچادی بارش کی وجہ سے تحصیل گنداخہ کے علاقہ ہیڈ باغ سمیت دیگر علاقوں کو شدید نقصان ہوچکا ہے اوستہ محمد اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں ایک بار پھر موسلادار بارش نے تباہی مچا دی بارش کی وجہ سے کچے مکانات دوکانوں کی چھتیں گر گئی چاول کی کھڑی فصل کو نقصان ہونے کا خطر لائق ہوچکا ہے۔

موا صلاتی نظام درھم ہونے کی وجہ سے عوام کو مشکلات کا سامنہ کرنا پڑہ رہا ہے گھروں میں رکھے اناج پارش کی پانی میں ڈوب گئے مال مویشی اور لوگوں کی اناج بھی ضا ئع ہوچکی ہے بارشوں سے متاثرین نے وزیر اعلی بلوچستان، اوستہ محمد انتظامیہ پر زور اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اوستا محمد اور گنداخہ بارش سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان پہچانے کے لئے جلد از جلد عملی اقدامات کریں تاکہ اس مشکلات وقت میں انکو مزید مشکلات کا سامنہ نہ کرنا پڑے۔