|

وقتِ اشاعت :   November 28 – 2020

پنجگور: پنجگور چیدگی بارڈر کے مکینوں اور کاروباری افراد نے آل ٹرانسپورٹ سپریم کونسل پنجگور کے صدر آغا شاہ حسین، کارباری شخصیت حاجی محمد ایوب دہواری، سابق ممبر ڈسٹرکٹ کونسل پنجگور محمد جان بلوچ، سابق چیئرمین یوسی کلگ فہد عطاء، مْلافرہاد بلوچ،عبداللہ محمدزئی اور دیگر نے بس ٹرمینل میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجگور کے عوام کا زریعہ معاش بارڈر کاروبار سے وابستہ ہے۔

پنجگور ایک پسماندہ علاقہ ہے قحط سالی سے زراعت بھی تباہ ہے خلیجی ممالک میں بھی روزگار بند ہوا ہے انہوں نے کہا کہ لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت گاڑیاں خریدی کہ بارڈر پر روزگار کریں گے لیکن بارڈر پر باڑ لگانے سے اب لوگوں کا روزگار متاثر ہوا ہے اب نانِ نکفہ کے محتاج ہوکر رہے گئے ہیں اور انکے بچوں کا تعلیم بھی ختم ہوگیا ہے انہوں نے کہا ہمارا واحد زریعہ بارڈر ہے جس کے زریعے ہم دو وقت کی روزی روٹی کا حصول ممکن بناتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ یہاں کے لوگ پرامن ہین اور دہشت گردی اور منشیات اور اسلحلہ کلچر کو سپورٹ نہیں کرتے انہوں نے کہا کہ حکومت اور مقامی زمہ دار چیدگی اور پروم بارڈر پر لوگوں کو کاروبار کرنے کی اجازت دیں انہوں نے کہا کہ جنرل سرفراز کو ترقی پر مبارکباد دیتے ہیں اور ان سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ بارڈر کی صورت حال پر مناسب اقدامات کا حکم دیں گے انہوں نے کہا کہ کسٹم چیدگی بارڈر سے سالانہ اربوں روپے ٹیکس کی مد میں کماتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹائل پر ٹیکس ختم کیا جائے اور پروم میں فورسز کے ہاتھوں لوگوں کی تذلیل روکا جائے فورسز کے اہلکار غریب ڈرائیوروں پر تشدد کرتے ہیں انہوں نے کہاکہ ایک طرف روزگار بند کردیا گیا ہے دوسری طرف ہم پر تشدد کیا جارہا ہے جو غیر مناسب عمل ہے انہوں نے کہا کہ بارڈر پر پابندیوں کی وجہ سے لوگ بھوک وافلاس کا شکار ہیں لوگ جب بے روزگار ہونگے تو مجبورا غلط راہ چلیں گے انہوں نے کہا کہ پروم میں جو لوگوں کو محدود اجازت ہے۔

اس کا دائرہ بڑھا کر چیدگی اور گر کے علاقوں میں مذید گیٹ کھولے جائیں انہوں نے کہا کہ پورا بلوچستان پنجگور بارڈر سے دو وقت کی روٹی کا حصول ممکن بناتے ہیں جب سے بارڈر پر پابندی ہے ہزاروں افراد بے روزگار ہوکر گھروں میں بیٹھ گئے ہیں انہوں نے کہا کہ ماضی کی طرح موجودہ دور میں لوگوں کو کاروبار کرنے دیں عوام انتہاہی کسمپرسی کا شکار ہیں ہزاروں نوجوان ایران بارڈر سے جْڑے ہوئے ہیں۔

جب انھیں روزگار نہیں ملے گا ظاہر ہے وہ غلط راستہ اختیار کریں گے انہوں نے کہا کہ بارڈر کی بندش سے لوگوں پر گاڑیوں کے قرضے بھی چڑھ چکے ہیں انہوں نے کہا کہ میت اور باراتیوں کو بھی دو دو دن بارڈر پر روکا جاتا ہے یہ کونسا انصاف ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کے احساسات کا خیال رکھیں اور بارڈر گیٹ میں مذید اضافہ کریں انہوں نے کہا کہ بارڈر پورے بلوچستان کا مسلہ ہے اور اس سے لوگوں کی معاشی ضروریات جڑی ہوئی ہیں. اگر ہمارے جائز مسلے پر دایاں نہیں دیا گیا تو پنجگور کی سیاسی جماعتوں سے ملکر ائندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے۔