|

وقتِ اشاعت :   November 29 – 2020

تربت: سماجی شخصیت زاہد حسین دشتی نے کہا ہے کہ حکومت نے 26 نومبر سے 10 جنوری تک تعلیمی اداروں کی بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تمام سرکاری بند کیے گئے ہیں اور صوبائی حکومت نے باقاعدگی طور پر اسکولز بند کرنے کی نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔ مگر بدقسمتی سے مکران ڈویڑن میں کئی پرائیوٹ اسکول ایسوسی ایشن نے حکومتی فرمان کو کچل ڈالا۔ان کی من مانیا جاری ہیں۔

اسکول باقاعدگی باقاعدہ طور پر کھلے ہیں۔ مکران ڈویڑن میں کورونا کی دوسری لہر خطرناک ہوچکی ہے۔اس مہلک مرض سے کئی لوگ لقمہ اجل بن گئے ہیں۔ تربت میں تقریباً ایک ہفتے میں 8 سے 15 اموات ہوتی ہیں مگر ٹیسٹ کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے بیماری کا پتا نہیں چلتا۔ کئی نوجوان لوگوں کو آرٹ اٹیک ہو رہی ہے یہ بھی کورونا کی ایک قسم ہے۔مگربدقسمتی سے پرائیویٹ اسکولوں باقاعدگی طور پر کھلے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق پرائیویٹ اسکولز کی کئی اسٹاف کورونا سے مبتلا ہیں۔ مکران ڈویڑن میں کورونا کی ٹیسٹ کی سہولت موجود نہیں۔ پرائیویٹ سکولز کی طلبا اور اسٹاف کورونا جیسے مہلک بیماری میں مبتلا ہیں۔ اسٹاف نے تشویش کا اظہار کی اور حکومت سے نوٹس لینے کا اپیل ہے۔

یاد رہے حکومت نے 26 نومبر کو تعلیمی اداروں کو بند کرنے کا نوٹس جاری کیا تھا مگر پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن اس پر عمل نہیں کر رہے ہیں کرونا کی دوسری لہر کے دوران پرائیوٹ اسکولوں کی من مانی جاری اسٹاف اور طلباء طالبات کی جان خطرے میں ڈال کر کمائی کرکے بچوں اور اسٹاف کی صحت پر کھیل رہے ہیں۔