|

وقتِ اشاعت :   November 29 – 2020

کوئٹہ: محکمہ داخلہ بلوچستان نے 2007سے 2018تک صوبے میں دہشت گردی کے واقعات کی رپورٹ جاری کردی،12سا ل میں دہشت گردی کے 3613واقعات رونما ہوئے جن میں 3789افراد جان بحق جبکہ7899 زخمی ہوئے،صوبائی حکومت نے ان واقعات میں جان بحق والے عام شہریوں کے لواحقین،زخمیوں اور املاک کے نقصان کے مد میں 4 ارب 24کروڑ سے زائد معاوضہ دیا گیا۔

بلوچستان پچھلے پندرہ سال سے دہشت گردی کے واقعات کی لپیٹ میں رہا ہے تاہم زیادہ واقعات2007سے 2018 کے درمیان پیش آئے ان واقعات سے جہاں صوبے میں جانی نقصانات ہوئے وہاں صوبے کو مالی نقصان بھی اٹھا نا پڑا ہے۔بلوچستان کے محکمہ داخلہ نے اس حوالے سے تفصیلی رپورٹ جاری کردی ہے جس کے مطابق صوبے میں 2007سے 2018تک 12 سال میں۔

دہشت گردی کے 3613واقعات رونما ہوئے جن میں سیکورٹی اہلکاروں سمیت 3789افراد جان بحق جبکہ7899 زخمی ہوئے دہشت گردی کے واقعات میں سب سے بھاری سال 2013ثابت ہوا جس میں دہشت گردی کے 247واقعات میں 531افراد لقہ اجل بنے جبکہ 1162 افراد زخمی ہوئے حکومت بلوچستان نے 2010سے دہشت گردی کے واقعات میں جان بحق کے عام شہریوں کے لواحقین اور زخمیوں اور املاک کے نقصانات کا معاوضہ کی ادائیگی۔

کا سلسلہ شروع کیا اور 2018 تک چار ارب 24کروڑ،45لاکھ،52ہزار روپے سے زائد کی رقم معاوضے کی صورت میں ادا کی جبکہ ان واقعات میں شہید ایف سی،پولیس،لیویز اور دیگر فورس کے اہلکاروں کو ان کے محکموں کی جانب سے معاوضے کی ادائیگی کی گئی۔ محکمہ داخلہ کی رپورٹ کے مطابق 2015 سے 2019تک صوبے کے پندرہ اضلاع میں بارودی سرنگ پھٹنے کے 176واقعات میں اٹھارہ افراد ہلاک جبکہ 168زخمی ہوئے۔