|

وقتِ اشاعت :   November 29 – 2020

کوئٹہ : آل پرائیویٹ اسکولز ایکشن کمیٹی کے عہدیداروں نے متنبہ کیاہے کہ اگر نجی تعلیمی اداروں کو بند کرنے کی کوشش کی گئی تو ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی ، ایک طرف انٹرنیشنل اسکوائش اوپننگ سرمنی میں وزیراعلی بلوچستان سمیت ڈیرھ سو سے زائد لوگ شریک ہوتے ہیں۔

بلکہ جامعات میں امتحانات بھی جاری ہیں تو دوسری جانب کورونا کا کہہ کر نجی تعلیمی اداروں میں تعلیمی سرگرمیاں اور امتحانات لینے پر پابندی عائد کرنا نجی تعلیمی اداروں کے معاشی قتل کے مترادف ہے حکومت اور بلوچستان ایجوکیشن فائونڈیشن کے ایسے کسی بھی فیصلے کو تسلیم نہیں کریگے۔

ان خیالات کا اظہار آل پرائیویٹ سکولز ایکشن کمیٹی کے ڈپٹی کنونیئر حافظ نعمت اللہ ، دائود شاہ کاکڑ ، ٹکری شفقت لانگو ، زاہد اختر بلوچ و دیگر نے کوئٹہ پریس کلب میںپریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ انہوںنے کہا کہ رواں سال بلوچستان میں پہلے6مہینے سے زائد تک تمام تعلیمی ادارے بند کئے گئے تھے اور اب ایک مرتبہ پھر کورونا پھیلائو کے خدشے کے پیش نظر تعلیمی اداروں کو بند کرنے کے نوٹیفکیشنز جاری کئے گئے ہیں ۔

بلکہ بلوچستان ایجوکیشن فائونڈیشن کی جانب سکولوںکو بند کرنے کے حوالے سے کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جسے کسی صورت بھی قبول نہیں کرسکتے ۔ انہوںنے کہا کہ ایک طرف اس وقت بھی بلوچستان کے جامعات اور کالجز میں امتحانات کا سلسلہ جاری ہے بلکہ وزیراعلی بلوچستان خود گزشتہ روز سکوائش اوپنگ سرمنی میں شریک رہے جس میں ڈیڑھ سو سے زائد لوگ شریک تھے اور وہاں کورونا پھیلائو کا کوئی خدشہ نہیں تھا۔

مگر دوسری جانب سے نجی تعلیمی اداروں کو بند کرنے کے لئے نوٹیفکیشنز جاری کئے گئے ہیں جو کہ تعلیم دشمنی پر مبنی اقدام ہے ۔ گزشتہ 9مہینے سے حکومت کی جانب سے نجی تعلیمی اداروںکے ساتھ کوئی تعاون نہیں کیا گیا ہے انہوں نے الزام عائد کیا کہ نجی تعلیمی اداروںکے لئے مختص ایک ارب 11کروڑ روپے بلوچستان ایجوکیشن فائونڈیشن کے ایم ڈی و دیگر کی جانب سے نجی بینک کو انٹرسٹ(سود)کے لئے دیئے گئے ہیں۔

جس کی ہم پرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ نجی تعلیمی ادارے اس وقت مالی بحران کے شکار ہیں ، عمارتوںکے کرایہ اور اساتذہ کی تنخواہیں ادا کرنے کے لئے ان کے پاس فنڈز موجود نہیں مگر حکومت بجائے نجی تعلیمی اداروں کے لئے فنڈز مختص کرے تعلیمی ادارے بند کرنے پر تلی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر سکولوں کو بند کرنے کی کوشش کی گئی اور ان کے مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو ملک گیر سطح پر احتجاجی تحریک شروع کریں گے ۔