مستونگ: مستونگ کے نواحی علاقوں میں گیس کا بحران مزید شدت اختیار کر گیا۔گیس پریشر مکمل طور پر ختم، عوام کا کوئی پرسان حال نہیں، سوئی سدرن گیس کمپنی کے صوبائی حکام کو عوام کی تکلیف سے کوئی سروکار نہیں۔تفصیلات کے مستونگ کے نواحی علاقوں کلی تیری، پڑنگ آباد مستونگروڈ کلی ریک کاریز سیف اللہ کلی جہیون کلی سربند و دیگر کلیوں میں گیس کی حالیہ بحرانی کیفیت مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔
سردیوں کی سیزن شروع ہوتے ہی گیس کی انتہائی نا قصں اور لو پریشر کے باعث گیس کے چہولہے تو درکنار گیس کے بلب بھی جلنے کی قابل نہیں ہے نواحی علاقوں میں صبح اور شام کے اوقات میں گیس کی عدم دستیابی کے باعث خواتین کو امور خانہ داری میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔متاثرہ علاقوں کے عوامی حلقوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے کہا کہ ہمارے علاقوں کے لیے ایک الگ پی آر ایس وال منظور ہونے کے باوجود جسکی تنصیب نہیں کی جا رہی ہے۔
اس سلسلے میں بار کئی بار گیس کمپنی کے صوبائی جنرل مینجر و دیگر آفیسران کو اس سنگین صورتحال کے بارے میں آگاہ کر کے درخواست کی لیکن کوئی ٹس سے مس تک نہیں ہوئے انھوں نے کہا کہ گیس بلوں کی ریگولر ادائیگی کے با وجود اس سخت سردی میں ہمیں دانستہ طور پر گیس کی نعمت سے محروم رکھ کے سخت تکلیف اور پریشانی میں دھکیل دیا گیا ہے۔۔ انھوں نے کہا کہ نواحی علاقوں میں گیس نا پید ہونے سے لوگوں کی معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
سردی کے باعث بچے اور ضیف العمر اشخاص مختلف بیماریوں کا شکار ہو رہے ہے ایک طرف ہمارے علاقوں میں گیس بلکل نایاب ہوچکے ہے اور دوسری جانب گیس کمپنی صارفین کو ہزاروں اور لاکھوں روپے کی بل بھیجنے میں کوِئی کسر نہیں چھوڑ رہے ہے انھوں نے کہا ہم سوئی سدرن گیس کمپنی کے صوبائی جنرل مینجر سے مطالبہ کرتے ہے کہ مستونگ کے مزکورہ علاقوں میں گیس پریشر کی بہتری کے لیے ایک PRS وال کی تنصیب کو فوری یقینی بنائیں۔
تاکہ عوام کو اس عزاب سے چھٹکارہ مل سکیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر عملی اقدامات نہ اٹھائیں گئے تو گیس بلوں کی ادائیگی روک کر کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر خواتین و بچوں کے ہمراہ دھرنا دے کر روڈ کو غیر معینہ مدت تک بلاک کر دینگے اور جسکی تمام تر زمہ داری گیس کے صوبائی حکام پر عائد ہو گئی۔