کوئٹہ: حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے کہاہے کہ وفاقی حکومت ملتان جلسہ گاہ کو قرنطینہ مرکز قرار دے شرکاء کو اس وقت تک واپس جانے نہ دے جب تک انکے کورونا ٹیسٹ منفی نہیں آتے،پیپلزپارٹی کا اپنے یوم تاسیس کے موقع پر کارکنوں کو کورونا کی بھٹی میں جھونکنا افسوسناک ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو کوئٹہ میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ لیاقت شاہوانی کا کہنا تھا کہ پہلی بار اپنے یوم تاسیس پر پیپلز پارٹی کورونا کی بھٹی میں کارکنوں کو جونک رہی یے لیڈر شپ اور کارکنان کے درمیان خلا ہے پہلے ہی کہ دیا تھا کہ اجتماعات میں ایس او پیز ہر عمل مشکل ہوتا یے اس لئے ان سے گریز کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں پی ڈی ایم 25اکتوبر کے جلسے کے بعد کورونا کیسز تین گناہ بڑھے تھے۔
ملتان جلسے میں پورے پاکستان کے سیاسی کارکن جائیں گے جوواپس جاکراپنے علاقوں میں کورونا لائیں گے۔حکومت بلوچستان نے 22فروری کو ایران کی سرحد اسی خدشے کے پیش نظر بند کی تھی کہ ایران سے کورونا سے متاثرہ افراد پاکستان میں نہ آئیں اب بھی قومی امکان ہے کہ ملک مختلف صوبوں میں جلسے کورونا کو مزید پھیلائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے بھی پی ڈی ایم سے گزارش کی تھی کہ جلسے موخر کئے جائیں سردی کے موسم میں کورونا زیادہ پھیل سکتاہے۔
پنجاب حکومت،خیبر پختونخواہ نے بھی جلسے موخر کرنے کی استدعا کی تھی۔ گیلانی خاندان کے پاس لوگ ہیں کورونا کی دوسری خطرناک لہر میں طاقت کا مظاہرہ کیا معنی رکھتا ہے اپوزیشن ویڈیو لنک کے ذریعے جلسے کرنے کا شوق پورا کرسکتی ہے حکومت کی گزارشات کے باوجود وہ بات نہیں سنتے تو وفاقی حکومت کورونا ایس او پیز کے بین لاقوامی تقاضوں کے مطابق جلسہ گاہ کو قرنطینہ مرکز بنائے۔
انہوں نے کہا کہ جلسے سے واپس آنے والوں کے ٹیسٹ لئے جائیں اس وقت تک گھر نہ جانے دیا جائے جب تک کورونا ٹسیٹ منفی نہ آئے سیاسی کارکن پی ڈی ایم لیڈر شپ کے رویے کی وجہ سے کورونا جسی حقیقت کا مزاق اڑا رہے ہیں گوجرانہ جلسے کے بعد دو ہفتوں میں کورونا کیسز بڑھے تھے۔