|

وقتِ اشاعت :   December 3 – 2020

کوئٹہ: مسیحی کمیونٹی کے زیراہتمام قمر بھٹی کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کے خلاف جمعیت علماء اسلام کے رہنما و بلوچستان اسمبلی میںاپوزیشن لیڈرملک سکندر خان ایڈووکیٹ کی قیادت میں کوئٹہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کے سبزہ زار سے ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی جو ڈاک خانہ چوک پر پہنچ کر جلسے کی شکل اختیارکرگئی۔

ریلی کے شرکاء سے بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرملک سکندرخان ایڈووکیٹ،بی این پی کے رکن بلوچستان اسمبلی ٹائٹس جانسن ،پشتونخواملی عوامی پارٹی کے رہنما وسابق رکن بلوچستان اسمبلی ولیم برکت،بی این پی کے رہنما غلام نبی مری، نیشنل پارٹی کے صوبائی ترجمان علی احمد لانگو،جمعیت علماء اسلام کے رہنما ناصر مسیح ،شہزاد کندن،پیرامیڈیکل اسٹاف سول ہسپتال کے صدر شفا مینگل۔

اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قمربھٹی کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ سے بلوچستان کے عوام کے سر شرم سے جھک گئے ہیں پولیس اوردیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے قمر بھٹی کے ساتھ ظلم کرنے والے ملزمان کو گرفتار کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بسنے والے تمام شہریوں کو برابرکے حقوق حاصل ہیںاسلام ہر مظلوم کی حمایت کا درس دیتا ہے لیکن سود خور مافیا نے قمر بھٹی کے ساتھ جو سلوک کیا وہ انسانیت کی تذلیل ہے۔

جس کی اسلام سمیت کوئی بھی مذہب اجازت نہیں دیتا۔انہوں نے کہا کہ قمر بھٹی کے ساتھ پیش آنے والاواقعہ ’’دو نہیں ایک پاکستان کا‘‘نعرہ لگانے والوں اورصوبائی حکومت کے منہ پرطمانچہ ہے صوبے میںآبادبلوچ اور پشتون اقوام کی اپنی روایات ہیں ہمیں دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ قمربھٹی کے ساتھ انسانیت سوز واقعہ پیس آیا جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ سود خوروں کے خلاف بلاتفریق کارروائی عمل میں لائے تاکہ آئندہ کسی کو بھی اس قسم کے واقعہ کی جرات نہ ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ قمر بھٹی کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کا ازخود نوٹس لیں اورانہیں انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ قمر بھٹی کے ساتھ واقعہ میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرنے کی بجائے انہیں تحفظ فراہم کررہے ہیں ۔

ملزمان کی فوری گرفتاری کو یقینی بنایا۔انہوں نے کہا کہ قمر بھٹی کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کو بلوچستان اسمبلی کے فلور پر بھی اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سود خوراورپے منٹ مافیا کے خلاف نصراللہ خان کاکڑ نے آواز بلند کی لیکن انہیں بھی قتل کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اوربلوچستان ہائیکورٹ قمر بھٹی کے ساتھ ناروا سلوک کے کیس کے لئے اسپیشل کورٹ تشکیل دے اور ایک ہفتے کے اندر اندر فیصلہ سناکر ملزمان کو نشان عبرت بنایا جائے۔

اس سے قبل مسیحی کمیونٹی کی جانب سے نکالی جانے والی ریلی کو پولیس نے کوئٹہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کے گیٹ بندکرکے آگے جانے سے روک دیاتاہم بعد میں ریلی کو آگے جانے کی اجازت دیدی گئی۔