نصیرآباد: بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پجار وحدت بلوچستان کے جنرل سیکریٹری عابد عمر بلوچ اور اراکین مرکزی کمیٹی گہنور بلوچ اور طارق بلوچ نے اپنے ایک جاری کردہ بیان میں صوبائی حکومت کی شہریوں کے بنیادی حقوق اور تعلیمی ادارے نہ دینے پر کہا کہ نصیرآباد جیسے گرین بلٹ میں بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے جو ایک منظم سازش اور غیر اخلاقی سوچ کے مطابق جان بوجھ کر اس ڈویڑن کو پسماندگی کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔
جو نہ صرف عوام دشمنی ہے بلکہ ملک کے آئین کے منافی ہے کہی مہینوں اور سالوں سے وہاں کے باشعور عوام ایک میڈیکل کالج کے لیئے ہر فورم پر اپنی بنیادی حقوق کے لیئے آواز اٹھا رہے ہیں جو آرٹیکل 25A کے مطابق انکے بنیادی حق ہے جس پر ریاست ذمہ دار ہے کہ وہ اس آرٹیکل پر من و عن عمل کرے مگر ان نا اہل حکمرانوں کو کون سمجھائے۔ ان نا اہل حکمرانوں کی وجہ سے بلوچستان کے تعلیمی ادارے تباہی کی طرف گامزن ہیں ۔
جسے بی ایس او پجار کسی بھی صورت نہ قبول کریگی اور نہ برداشت۔ انہوں نے مزید کہا نصیر آباد جیسے گرین بلٹ میں میڈیکل کالج نہ ہونا المیہ ہے جو اس بلٹ کے نوجوانوں کو تعلیم سے دور رکھنے کی سازش ہے اور طلباء و طالبات میڈیکل کالج نہ ہونے کی وجہ سے دور دراز جاکر اپنے تعلیمی سرگرمیوں کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
جو حکومت سمیت وہاں کے نمائندوں کے لیئے سوالیہ نشان ہے۔ 21 ویں صدی جو علم، سائنس و ٹیکنالوجی کی صدی ہے مگر افسوس ان نا اہل نمائندوں کی وجہ سے نصیر آباد میں تعلیمی درسگاہیں موجود نہیں۔