|

وقتِ اشاعت :   December 5 – 2020

چمن : صوبائی وزیر داخلہ میرضیاء اللہ لانگو نے کہاہے کہ افغانستان ہمارا برادر اسلامی ہمسائیہ ملک ہے جس کے ساتھ غلط فہمیاں دورکرکے بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں تاکہ کاروباری افراد کو سہولت مل سکے ۔بارڈر واقعہ میں شہید ہو نے والے افراد کی اہل خانہ کو پندر ہ پندرہ لا کھ جبکہ زخمیوں کو پا نچ پا نچ لا کھ روپے اور علا ج و معالجہ کی سہولیات دیں گے ۔میڈیابریفنگ کے دوران ان کا کہنا تھا کہا۔

نہوںنے مزیدکہاکہ پاک افغان بابددوستی پرپیش آنے والے واقعات کی روک تھام کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ اس طرح کے واقعات رونماء نہ ہو اور پاک افغان سرحدپر آنے جانے کیلئے ایک میکنزم بنانے کیلئے کوشش کررہے ہیں جو کہ انشاء اللہ جلد میکنزم مکمل ہوگا انہوںنے میڈیا بریفنگ میں مزیدکہاکہ چمن کو اکنامک زون میں آتاہے۔

جس پر یہاں پر روزگار کے مواقع بہتر ہونگے جبکہ لیویز فورس کو ہم نے جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے کوشاں ہیں اورلیویز فورس کی بجٹ کو ہم نے اربوں میں لایاہے لیویز فورس کے پاس گاڑیوں کی کمی تھی جس کو ہم پوراکررہے ہیں اور ان کیلئے بیس کروڑ روپے کا اسلحہ بھی ہم نے ہی دیاہے ہماری گورنمنٹ نے لیویز فورس کو جدید خطوط پر استوارکرلیاہے۔

اور ان کیلئے بہتر تفتیش کی سہولت مہیاء کررہے ہیں اور ان کو اپنا انٹیلی جنس بناکردے رہے ہیں جس میں ان کیلئے مزید آسانیا ں ہونگی اس موقع پر عوامی نیشنل پارٹی کے عہدیدار بھی موجود تھے ۔

اس سے قبل وزیرداخلہ بلوچستان میرضیاء اللہ لانگو ایم پی اے وپارلیمانی لیڈر اصغرخان اچکزئی ، ڈپٹی اسپیکر بلو چستان اسمبلی بابر خان موسیٰ خیل نے چمن میں پاک افغان سرحد پرپیش آنے والے واقعے میں شہید مطیع اللہ اور شہید ہونے والے بچے کے گھر جاکر اظہار تعزیت کی اور اس موقع پر انہوںنے اعلان کیا کہ شہید ہونے والوں کے لئے پندرہ پندرہ لاکھ روپے جبکہ 23 زخمیوں کو پانچ ،پانچ لاکھ روپے فی کس دینے اور زخمیوں کو علاج معالجہ کی بہترین سہولیات دینے کا اعلان کیا ۔