|

وقتِ اشاعت :   December 5 – 2020

خضدار: جھالاوان کے قبائلی معتبرین سماجی شخصیات میر محمد ایوب گنگو ،میر جاوید احمد سوز مینگل ،میر عبدالرحیم جاموٹ اور دیگر نے وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی ترقیاتی ویژن کی بھر پور حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی قیادت میں بننے والی حکومت کی بدولت آج جھالاوان کے مختلف علاقوں میں کروڑوں روپے کی ترقیاتی اسکیمات جاری ہیں۔

ہم صوبائی حکومت اور وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی ان خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے اس امید کا اظہار کرتے ہیں کہ وہ اسی طرح جھالاوان کے عوام کی خدمت کرنے میں پیش پیش رہیں گے ان خیالات کا اظہار جھالاوان کے مختلف قبائل کے معتبرین نے خضدار پریس کلب میں پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر دیگر قبائلی معتبرین حاجی محمد عمر گنگو ،عبید اللہ گنگو ،حاجی محمد لقمان جاموٹ ،منیر احمد جاموٹ ،وڈیر ہ محمد صالح جاموٹ ،غلام حیدر زہری ،ٹکری عبدالرشید گنگو ،میر محمد اسلم گنگو ،میر عرفان گنگو ،حاجی محمد قاسم گنگو سمیت دیگر بھی موجود تھے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب جام کمال خان عالیانی بلوچستان کے وہ واحد شخصیت ہیں جس نے حکومت سنبھالتے ہی بلوچستان کے تمام علاقوں کی طرح خصوصاً خضدار اور عموماً خضدار کے ان علاقوں کی تعمیر و ترقی کو اہمیت دی ہے جنہیں پہلے والے حکمرانوں نے ہمیشہ نظر انداز کیا ہے فیروز آباد سے لیکر سندھ کے بارڈر پیر ابراہیم تک جام کمال خان کی ترقیاتی اسکیمات نظر آ رہے ہیں۔

جن میں فیروز آباد میں 20 کروڑ کے ڈیم اور اسٹیڈیم ،معروف پکنک پوائنٹ چٹوک کے لئے 14 کروڑ ،پیر ابراہیم کے روڈ کے لئے 18کروڑ ڈیم کے لئے 12 کروڑ اس کے علاوہ تعلیمی اداروں کی اپ گریڈیشن سمیت دیگر ترقیاتی اسکیمات شامل ہیں ہم جھالاوان کے قبائلی معتبرین وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کے ترقیاتی ویژن کی بھر پور حمایت کا اعلان کرتے ہوئے یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان اور جھالاوان کے عوام کے درمیان دراڑیں ڈالنے کی جو کوشش کی جا رہی ہے۔

اسے ناکام بناتے ہوئے اس عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ ہم جھالاوان کے عوام بھر پور طریقے سے وزیر اعلیٰ بلوچستان اور ان کے ترقیاتی ویژن کے ساتھ ہیں جھالاوان کے قبائلی معتبرین نے ہم وزیراعلیٰ بلوچستان میر جام کمال خان عالیانی ہمار ے محسن ہیں جس نے مختصر مدت میں جس طرح کی خدمات پیش کی ہیں ہم اس کے معترف اور گواہ ہیں، خضدار فیروز آباد سے لیکر کرخ اور مولہ تک بڑے پیمانے پر اسکیمات جن کی لاگت اربوں روپے ہیں۔

یہ سب کام گزشتہ دو سالوں کے دوران ہوئے ہیں۔ ماضی کے ادوار میں ہمیں ایسا کوئی کام نظر نہیں آتا ہے، فیروز آباد میں آبادی کو بچانے کے لئے ایک سیلابی ڈیم تعمیر کیا گیا، اسی طرح خضدار کے دوسرے تمام علاقوں میں ڈیمز تعمیر کیئے گئے ہیں۔