|

وقتِ اشاعت :   December 5 – 2020

کوئٹہ: بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جناب جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس جناب جسٹس عبدالحمید بلوچ پرمشتمل ڈویژنل بینچ نے اسسٹنٹ سب رجسٹرار آفس میں وکلاء کے ساتھ پیش آنے و الی جیسی واقعات کی روک تھام کیلئے کمیٹی بنانے کا حکم دیاہے۔

ڈی سی وتحصیل آفس میں ہڑتال پر متعلقہ آفیسران نے معذرت کرتے ہوئے ہڑتال ختم کردیا۔معزز بینچ نے اسسٹنٹ سب رجسٹرار آفس میں وکلاء کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ اور ڈی سی وتحصیل آفس ملازمین کی ہڑتال سے متعلق درخواست کی سماعت کی ۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ کس قانون کے تحت ڈپٹی کمشنر وتحصیل آفس ملازمین ہڑتال کررہے ہیں ۔

جس پر کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے عدالت کوبتایاکہ بہت سی باتیں ہیں جو اوپن عدالت میں نہیں بتا سکتا جس پر چیف جسٹس نے پٹیشن کی سماعت اپنے چیمبر میں کی جس کے دوران کمشنر کوئٹہ ڈویژن ،ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ،کوئٹہ ڈسٹرکٹ بار کے صدر اقبال کاسی ایڈووکیٹ ،جنرل سیکرٹری علی احسن بگٹی ،بلوچستان بار کونسل کے وائس چیئرمین منیراحمدکاکڑ ایڈووکیٹ،سلیم لاشاری ایڈووکیٹ نے چیمبر میں چیف جسٹس کو بریفنگ دی۔

بعدازاں ڈی سی وتحصیل آفس میں ہڑتال پر متعلقہ آفیسران نے معذرت کرتے ہوئے ہڑتال ختم کردی۔ چیف جسٹس نے اس سلسلے میں 4رکنی کمیٹی جس میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ،ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اقبال کاسی ایڈووکیٹ ،جنرل سیکرٹری علی احسن بگٹی اور علی کاکڑ ایڈووکیٹ شامل ہیں اسسٹنٹ سب رجسٹرار آفس میں وکلاء کے ساتھ پیش آنے و الی جیسی واقعات کی روک تھام کیلئے ایک میکنزم تیار کریںگے۔

چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ ڈی سی آفس کے تمام کمروں میں کیمرے نصب کئے جائیں تاکہ ڈپٹی کمشنر اس کی نگرانی کرسکیں بلکہ تحصیل آفس کاریکارڈ کمپیوٹرائز کیاجائے ،عوام کو رجسٹرار آفس تک رسائی کیلئے اصلاحات لائے جائیں تاکہ لوگوں کومشکلات کاسامنا نہ کرنا پڑے ،بعدازاں عدالت نے درخواست کو نمٹا دی ۔