کوئٹہ: پاکستان میں پہلی بار جزیرہ چرناکے قریب مونگے کی چٹانوں کی سفید ہونے کا معاملہ ، محکمہ تحفظ ماحولیات بلوچستان نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈائریکٹر ٹیکنیکل انجینئر محمد خان اتمانخیل کے سربراہی میں ماحولیاتی ٹیکنیکل ٹیم چرنا آئی لینڈ پہنچ گئی جوحب چائنہ پاور پلانٹ ،گڈانی سے پانی کے نمونے جمع کرکے لیبارٹری اور اس کے بعد تجزیاتی رپورٹ مرتب کریگی۔
اور ماحولیاتی تبدیلی اور مستقبل میں آبی حیات اور ماحول کو محفوظ بنانے کیلئے اپنی سفارشات متعلقہ حکام کو فوری ارسال کرئے گی۔پاکستان میں پہلی بار جزیرہ چرناکے قریب مونگے کی چٹانوں کی سفید ہونے کا معاملہ ،محکمہ تحفظ ماحولیات بلوچستان نے معاملے کا نوٹس لے لیا، چرنا جزیرہ بلوچستان کے علاقے حب میں واقع ہے صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ اور ماحولیاتی تبدیلی کے باعث سمندر کے درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے مونگے کی چٹانوں کو نقصان پہنچنے کا انکشاف ہوا تھا۔
چرنا جزیرے کے اطراف پرتھرمل پاور پلانٹ ،آئل ریفائنری ، پیٹرولیم مصنوعات کی وجہ سے مونگے کی چٹانوں کی سفید ہونے کی وجہ ہوسکتی ہے بلکہ سمندری آلودگی،صنعتی سرگرمیاں اور سمندر میں چھوڑے جانے والے جال چرنا آئی لینڈ کے حیاتیاتی تنوع کے لیے خطرہ ہیںپاکستان میں مونگے کی چٹانیں چرنا، استولا،اورماڑہ،گوداراور جیوانی کچھ مخصوص علاقوں تک محدود ہیںاورمونگے کی چٹانوں میں فوٹوسینتھیسزکے عمل کی وجہ سے بھی تبدیلیاں رونما ہوسکتی ہے۔
اس سلسلے میں محکمہ تحفظ ماحولیات بلوچستان کی جانب سے معاملے کانوٹس لینے کے بعد ڈائریکٹر ٹیکنیکل انجینئر محمد خان اتمانخیل کے سربراہی میں ماحولیاتی ٹیکنیکل ٹیم چرنا آئی لینڈ پہنچ گئی ۔ انجینئر محمدخان اوتمانخیل کے مطابق ٹیم میں میرین یونیورسٹی کے پروفیسرز،آبی ماہرین سمیت غوطہ خور شامل ہے جوحب چائنہ پاور پلانٹ ،گڈانی سے پانی کے نمونے جمع کرکے لیبارٹری بھیجوائی گی بلکہ لیبارٹری ٹیسٹ کے بعد ٹیم تجزیاتی رپورٹ مرتب کرئے گی ۔
انہوں نے کہاکہ ٹیم ماحولیاتی تبدیلی اور مستقبل میں آبی حیات اور ماحول کو محفوظ بنانے کیلئے اپنی سفارشات متعلقہ حکام کو فوری ارسال کرئے گی چرنا آئی لینڈ پر 5 سے 6 مقامات پر نمونے حاصل کیے جارہے ہیں۔
اور نمونوں سے صنعتی سرگرمیوں کے اثرات کا بھی جائزہ لیاجارہا ہے، سمندر کے 28 سے زائد درجہ حرارت پر مونگے کی چٹانیں مرسکتی ہیں،محمد خان اتمانخیل کے مطابق سمندر کا اب تک مختلف گہرائیوں سے 25 سے 27 ڈگری درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا، سمندر میں تیزابیت کی مقدار کو بھی جانچا جارہا ہے،کورل ریفس یامونگے سے متعلق آج تک کوئی تفصیلی ریسرچ نہیں کی گئی ،محمد خان اتمانخیل نے کہاکہ محکمہ ماحولیات بلوچستان پہلی مرتبہ مرین یونیورسٹی کے تعاون سے کورل ریفس پر ریسرچ کررہی ہے۔