کوئٹہ: اسپیکر بلوچستان اسمبلی میر عبدالقدوس بزنجو نے کہاہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال مضبوط ،اپوزیشن کا تحریک عدم اعتماد ناکامی سے دوچار ہوگی ،اسمبلی عوام کا بہت بڑا فورم جہاںمنتخب نمائندے اپنے لوگوں کے مسائل اجاگر کرتے ہیں بحیثیت کسٹوڈین ہائوس چلانا میرا کام ہے تاہم حکومتی وزراء اور اپوزیشن دونوں ہائوس کو سنجیدہ نہیں لے رہے ہیں،بلوچستان پاکستان کامستقبل ہے۔
میڈیا کا نارواسلوک افسوسناک ہے ،احتجاج ،جلسہ جلوس پی ڈی ایم کاجمہوری حق ،بلوچستان حکومت نے کسی کو احتجاج سے نہیں روکا ،تاہم یہ سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ سرکاری ونجی املاک کو نقصان نہ پہنچائیں بلکہ حکومت کے ساتھ تعاون کرے ،پی ڈی ا یم جلسے میں کورونا ایس او پیز کا خیال رکھیں ۔انہوں نے سیکرٹری اسمبلی کو ہدایت کی کہ اسمبلی میں میڈیا ہال میں سہولیات کی کمی کو پورا اور ضرورت کا تمام تر سامان فراہم کی جائے۔
ان خیالات کااظہارانہوں نے بلوچستان اسمبلی میں میڈیا روم کے دورہ کے موقع پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا اس موقع پر اسپیکر کو اسمبلی حال میں سہولیات ودیگر امور سے متعلق بریفنگ دی بلکہ تجویز دی کہ اسمبلی میں میڈیا کیلئے روسٹروم بنایا جائے تاکہ صحافیوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے اور حکومتی واپوزیشن اراکین روسٹروم پر پریس کانفرنس کریں ۔
اس موقع پر سیکرٹری اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ، ظہور احمد، اسپیشل سیکرٹری عبدالرحمن، اسٹاف آفیسر یونس مینگل ودیگر بھی موجود تھے ۔میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ اسمبلی میں بہت چیزوں کو بہتر بنائے ہیں بلکہ میڈیا کے ساتھیوں کو درپیش مسائل کے حل کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں گے،انہوں نے سیکرٹری اسمبلی کو ہدایت کی کہ اسمبلی میں میڈیا حال میں سہولیات کی کمی کو پورا اور ضرورت کا تمام تر سامان فراہم کی جائے۔
انہوں نے کہاکہ قومی میڈیا کابلوچستان کے ساتھ نا روا سلوک جاری ہے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ قومی میڈیا پر کوریج کا ہمیں ہمارا حق ہے نہیں دیا جا رہا بلوچستان پاکستان کا مستقبل ہے اورآئندہ وقتوں میں پورا پاکستان یہاں آکر آباد ہوگا جب مستقبل میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا تو کیوں نہ آج ان مسائل کے حل کیلئے اقدامات کیے جائیں ،انہوں نے کہاکہ پہلے پہل دوسرے صوبوں میں اگر کوئی گائے بھی نالے میں گرتی۔
تو تین گھنٹے تک اس کی کوریج ہوتی تاہم اب تبدیلیاں آرہی ہے میڈیا کی جانب سے مثبت چیزوں کو کوریج مل رہی ہے ، امید ہے کہ قومی میڈیا دیگر صوبوں کی طرح بلوچستان کے پارلیمان اور یہاں کے سیاسی قیادت کو ان کا حق دیںگے ،صحافیوں کے پوچھے گئے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے اسپیکر میر عبدالقدوس بزنجو نے کہاکہ اسمبلی عوام کا بہت بڑا فورم ہے۔
جہاں صوبے کے دوردراز کے علاقوں سے منتخب نمائندے اپنے لوگوں کے مسائل اجاگر کرتے ہیں بدقسمتی سے حکومتی وزراء اور اپوزیشن دونوں ہائوس کو سنجیدہ نہیں لے رہے ہیں اس سلسلے میں ان کے خلاف لیٹرز لکھے گئے ہیں بلکہ وزیراعلیٰ بلوچستان سے بھی بات کی ہے ،انہوں نے کہاکہ حکومت پارلیمان کا رونق اور اپوزیشن اس کا محور ہے ،ہونا تو یہ چاہیے کہ وزراء اور اپوزیشن اراکین اپنی ذمہ داری پوری کرے تاہم خامیاں موجود ہے۔
اس سلسلے میں اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے ،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ احتجاج ،جلسہ جلوس پی ڈی ایم کاجمہوری حق ،بلوچستان حکومت نے کسی کو احتجاج سے نہیں روکا ،تاہم یہ سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ سرکاری ونجی املاک کو نقصان نہ پہنچائیں بلکہ حکومت کے ساتھ تعاون کرے ،یہ ملک اور صوبہ دونوں ہمارا ہے اگر ہم نقصان پہنچائیںگے تو اثرات ہم پر ہی مرتب ہوںگے ،انہوں نے کہاکہ عالمی وباء کورونا سے دنیا متاثر ہے۔
ہمیں احتیاط برتنے کی ضرورت ہے اگر پی ڈی ایم دو تین ماہ کیلئے احتجاج ملتوی کردی تو اس میں کوئی حرج نہیں تھی اپوزیشن جماعتیں کوشش کرے اور ایس او پیز کا خصوصی خیال رکھیں ،کورونا پھیلائو کی ذمہ داری ہر مکتبہ فکر پر عائد ہوتی ہے ،انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان کے ساتھ تعلقات سے متعلق سوال کے جواب میں کہاکہ وزیراعلیٰ بلوچستان کے ساتھ تعلقات اچھے ہے۔
اگر خراب ہوتے تو میں اسمبلی میں اسپیکر نہیں ہوتا اراکین اسمبلی کی جانب سے اعتماد کااظہار کرنے پر ان کاشکر گزار ہوں ،انہوں نے کہاکہ تحریک عدم اعتماد اپوزیشن کا حق ہے میں کسٹوڈین ہوں اور میری ذمہ داری ہے کہ میں ہائوس چلائو تاہم اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کا نہیں لگتا کہ کامیابی ہوگی ،وزیراعلیٰ بلوچستان مضبوط ہے ،انہوں نے تجویز دی کہ کورونا وائرس کے باعث شہید ہونے والے ڈاکٹرز،پیرامیڈیکس ،نرسز ودیگر کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے اسمبلی میں یادگار شہدا بنایا جائے۔