کوئٹہ: گورنر بلوچستان امان اللہ خان یاسین زئی نے انسدادِ بدعنوانی کے عالمی کے موقع پر اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ بلا شک وشبہ کرپشن ایک معاشی قتل اور دہشت گردی کی ایک قسم ہے جسکا مکمل خاتمہ کئے بغیر نہ تو کوئی ملک ترقی کر سکتا ہے اور نہ ہی عوام کو انکے حقوق پہنچا سکتے ہیں. لہٰذا 9 دسمبر کا دن ہم سب کیلئے تجدید عہد کا دن ہے. اس دن کی مناسبت سے آج ہمیں بدعنوانی کے خلاف تجدید عہد کرنا ہوگا۔
کہ ہمیں اپنی صفوں سے کرپٹ عناصر کو الگ کر کے ترقی یافتہ اور خوشحال پاکستان کی سچی بنیادیں استوار کرنا ہوں گی۔گورنر یاسین زئی نے کہا کہ معاشرے سے کرپشن کے خاتمے اور انصاف کا بول بالا کرنے کیلئے حکومت اور قومی احتساب بیورو کے ساتھ ساتھ عوام نے اپنی ذمہ داریاں نبھانی ہوگی. اور معاشرے کو سدھارنے کیلئے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں موجود دیانتدار اور قابل ماہرین اور محققین کے علم وتجربہ سے بھی بھرپور استفادہ کرنا اشد ضروری ہے۔
گورنر یاسین زئی نے کہا کہ وقت آپہنچا ہے کہ ہم عوام کی فلاح و بہبود اور بنیادی سہولتوں کی ضرورت کے مطابق ترسیل کو حقیقی شکل دینے کیلئے مالیاتی نظم وضبط اور انتظامی حکمرانی میں شفافیت قائم کریں. انہوں نے کہا کہ صوبے کے انتظامی اور مالیاتی نظم ونسق کو موجودہ حکومت نے بہتر بنایا ہے تاہم گڈگورننس کو یقینی بنانے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔
گورنر بلوچستان نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ غریب عوام آج معمولی بیماریوں سے متعلق ادویات بازار سے خریدنے پر مجبور ہیں جبکہ سرکاری ہسپتالوں میں وہی ادوایات موجود نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی عدم دستیابی ہم سب کیلئے لمحہ فکریہ ہے. قومی احتساب بیورو کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے گورنر نے کہا کہ قومی احتساب بیورو چھوٹے بڑے سب کا احتساب کر رہا ہے۔
اس طرح اقدامات سے عوام کا اداروں پر مزید اعتماد بحال ہو جائے گا اور اداروں کی کارکردگی پر مثبت اثرات مرتب ہونگے۔ گورنر نے دینی علماء اکرام، میڈیا پرسنز اور معاشرے کے تمام ذی فہم افراد پر زور دیا کہ وہ آگے آئیں اور کرپشن سے پاک ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔