|

وقتِ اشاعت :   December 9 – 2020

خضدار: خضدار کے رہائشی مولا بخش مینگل حافظ عبدالباسط شاہوانی نیک محمد شاہوانی ابوبکر شاہوانی ودیگر قبائل مینگل زہری سمالانی محمد حسنی کے معتبرین نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ موضع سنی میں واقع ہماری اراضی گزشتہ پانچ سال سے قانونی پیچیدگیوں کے مراحل کو طے کرنے کے بعد بالآخر تکمیل کو پہنچی اورڈپٹی کمشنر خضدار طفیل بلوچ ضلعی انتظامیہ کے سربراہ کی جانب سے این او سی جاری کیا گیا۔

این او سی جاری ہونے کے بعد ہم نے تعمیرات کا آغاز کیا تو چندروز قبل رات کی تاریکی میں چند نامعلوم افراد نے تقریبا دو ہزار فٹ طویل چار دیوار کومشینری کے ذریعے گرادیا ، جس سے ہماری محنت اور لاکھوں روپے کا نقصان ہوا ۔ہم نے متعلقہ پولیس تھانہ کے ایس ایچ او کو کارروائی کے لئے درخواست دی لیکن تاحال ہماری داد رسی نہیں ہوئی ہے۔

جس کے بعد دوروز قبل ہم نے چار سال پرانی چار دیواری کی تعمیرات شروع کی کچھ مسلح افراد آئے اور کام روکنے اور لیبر کو اسلحہ کے زور پر ڈرانے اور دھمکانے کی کو شش کی اور پیغام دیا کہ اگر کام کیاتو سنگین نتائج بھگتنے کے لئے تیا ہوجائیں انہوں نے کہا مسلحہ لوگ خود کو قبائلی شخصیت کے نائبین کہتے ہیں اور آج بھی وہیں لوگ مذکورہ اراضی کے قریب مسلح ہوکر بیٹھے ہیں۔

انہوں نے وزیر اعلی بلوچستان کور کمانڈر بلوچستان کمشنر قلات اور ڈپٹی کمشنر خضدار سے پر زور اپیل کی کہ وہ ہماری اراضی پر مسلح افراد کی مداخلت بند کرائیں اور ہماری جان و مال کو تحفظ دیں ہم نہیں چاہتے کہ مقامیہ انتظامیہ کو کوئی مشکل میں ڈال دیں اگر ہمیں کام سے کسی نے روکنے کی کوشش کی تو ہم قانون کے دائرہ میں رہ کر سخت سے سخت احتجاج کرنے پر مجبور ہونگے ۔جس میںقومی شاہراہ بلاک کرنے کا آپشن بھی موجود ہے ۔