|

وقتِ اشاعت :   December 9 – 2020

سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کے وکلا نے ان کے خلاف مقدمہ خارج کرنے کے لیے تحریک جمع کرادی جس میں کہا گیا ہے کہ سعودی ولی عہد کے خلاف اس دعوے کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ انہوں نے سابق سعودی انٹیلی جنس عہدیدار کے قتل کے لیے ہِٹ اسکواڈ کو حکم دیا، جبکہ امریکی عدالت میں الزامات سے انہیں استثنیٰ حاصل ہے۔

106 صفحات پر مشتمل یہ مقدمہ اگست میں سابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن نائف کے جلاوطن سابق ساتھی سعد الجبری کی طرف سے دائر کیا گیا تھا۔

شہزادہ محمد بن نائف کو 2017 میں شاہی محل میں بغاوت کے دوران برطرف کردیا گیا تھا، جس کے بعد شہزادہ محمد بن سلمان ملک کے عملی طور پر حکمران بن گئے تھے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق سعد الجبری نے دعویٰ کیا کہ انہیں بطور معاون اور اعلیٰ انٹیلی جنس عہدیدار کے طور پر کچھ ایسی معلومات ملی جو محمد بن سلمان کے لیے خطرہ بن سکتی تھی، جس پر سعودی ولی عہد نے نام نہاد ‘ٹائیگر’ ہٹ اسکواڈ کے ذریعے ان پر قاتلانہ حملہ کرایا۔