کوئٹہ: پارلیمانی سیکرٹری صحت ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا ہے کہ شہری علاقوں سمیت دیہی سطح پر عوام کو صحت کی معیاری اور بہتر سہولیات کی فراہمی کے لئے پی پی ایچ آئی اور نیوٹریشن پروگرام قریبی رابطہ کاری کے عمل کو فعال کریں تاکہ صحت کے شعبے میں جاری اصلاحات کو بار آور بنایا جاسکے اور عوام صحت کی سہولیات سے بہتر استفادہ کرسکیں ان خیالات کا اظہار انہوں پی پی ایچ آئی اور نیوٹریشن پروگرام کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اجلاس میں پی پی ایچ آئی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عزیز جمالی نیوٹریشن پروگرام کے صوبائی سربراہ ڈاکٹر محمد امین مندوخیل اور دیگر دیگر افسران بھی موجود تھے پارلیمانی سیکرٹری صحت ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ صحت کے شعبے میں پی پی ایچ آئی اور نیوٹریشن پروگرام کی افادیت غیر معمولی نوعیت کی حامل ہے دنوں اداروں کا دائرہ کار پورے صوبے کے تمام اضلاع تک ہے لہذا دونوں پروگرامز کو قریبی رابطہ کاری اور مشاورت کے عمل کو مزید۔
بہتر بنانا ہوگا اور مشترکہ حکمت عملی مرتب کرکے درپیش مسائل کے حل کیلئے باہمی اقدامات تجویز کرنے ہونگے ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ ہمارا مقصد ایک ہی ہے عوام کو بہتر سے بہتر طبی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کرنے کے لئے ہم سب کو ساتھ ملکر پوری دیانتداری اور پختہ کمنٹمنٹ سے کام کرنا ہوگا انہوں نے کہا کہ گو کہ پی پی ایچ آئی ایک خود مختار ادارے کے طور پر طبی خدمات کی فراہمی پر معمور ہے۔
تاہم محکمہ صحت اس کو اپنے ہی ڈیپارٹمنٹ کا حصہ سمجھتا ہے اور تمام تر تعاون کی فراہمی کو یقینی بنایا جارہا ہے پارلیمانی سیکرٹری صحت ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے پی پی ایچ آئی اور نیوٹریشن پروگرام کی سروسز کو سراہتے ہوئے دونوں اداروں کی باہمی رابطہ کاری کے عمل کو مربوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔علاوہ ازیں پارلیمانی سیکرٹری صحت ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی کی زیر صدارت محکمہ صحت کے ڈویلپمنٹ پارٹنرز کا مشاورتی اجلاس بدھ کے روز ہیلتھ کمیٹی روم میں منعقد ہوا ۔
اجلاس میں ای پی آئی کے صوبائی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر محمد اسحاق پانیزئی , یونیسیف، ورلڈ بنک، گاوی، اور ڈبلیو ایچ او کے نمائندوں نے شرکت کی اجلاس کے دوران بلوچستان میں ای پی آئی پروگرام کے حوالے سے جاری پیش رفت پر بریفنگ دی گئی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پارلیمانی سیکرٹری صحت ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ بلوچستان میں جاری۔
ای پی آئی پروگرام پر موثر انداز میں عمل درآمد کے لئے انتظامی زمہ داریوں کا از سر نو تعین اہداف کے حصول میں معاون ثابت ہوگا اور ضلعی سطح پر محکمہ صحت کے روٹین معاملات اور ای پی آئی پروگرام کی علحیدہ علیحدہ دیکھ بھال ممکن ہوگی۔