|

وقتِ اشاعت :   December 15 – 2020

کوئٹہ: بلو چستان کے دارالحکومت کو ئٹہ سمیت شما لی اضلاع میںخون جما دینے والی یخ بستہ ہوائوں کی لہر بر قرار ،پیر کے روز پا رہ نقطہ انجماد سے 7ڈگری نیچے گر گیاہے ، شدید سرد مو سم میں شہر میں تجا رتی مراکز میں رونقیں ما ندپڑ گئی جبکہ شہریوں نے سرشام گھروں اور رہا ئشی مکا نا ت کا رخ کیا ،محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24گھنٹوں کے دوران موسم خشک اور سرد رہنے کا مکان ہے ۔

تفصیلا ت کے مطابق پیر کے روز کو ئٹہ سمیت شما لی بلو چستان کے اضلا ع ، قلات ، مستونگ ، منگو چر ،پشین ، قلعہ عبداللہ ، زیا رت ، مسلم باغ ، قلعہ سیف اللہ و دیگر میں یخ بستہ سائبیرین ہوائوں نے معمولا ت زندگی بری طرح متاثر کئے رکھے بلکہ تماان علا قوں میں دن بھر خون جما دینے والی سردی کے باعث تجا رتی مرا کز کی رونقیں معدوم رہی لو گوں کی بڑی تعداد نے گھروں میں رہنے میں ہی عافیت جا نی جبکہ تجا رت ، ملازمت و دیگر کے لئے تجا رتی مراکز اور دفاتر کا رخ کر نے والوں نے بھی سر شام گھروں اور رہا ئشی مکا نا ت و فلیٹوں کا رخ کیا ۔

شدید سردی کیوجہ سے صو با ئی دارالحکومت کو ئٹہ کے مختلف وسطی اور نواحی علا قوں میں صارفین گیس پریشر کی کمی کے باعث دوہرے عذاب سے دوچار رہے بلکہ پشین ، مستونگ ، قلات ، منگوچر و دیگر میں تو دن بھر گیس پریشر بحال نہ ہو سکا صا رفین کا کہنا ہے کہ ہمیشہ اس وقت گیس کی غیر اعلا نیہ لوڈشیڈنگ کر دی جا تی ہے جب سردی کی شدت میں اضا فہ ہو تا ہے گیس نہ ہو نے کے باعث میٹر نہیں چلتے جس پر صارفین کو مشکوک لسٹ کی نذر کر دیا جا تا ہے۔

اور بھا ری بھر کم بل بھیج دئیے جا تے ہیں ، صارفین نے سرد مو سم کے اثرات سے بچنے کے لئے لکڑی کا استعما ل شروع کر دیا ہے بلکہ لو گوں نے انگیھٹیاں جلا نا شروع کو دی ہیں موقع کا فائدہ اٹھا تے ہو ئے سوختی لکڑی کی قیمت میں من ما نہ اضا فہ کر دیا گیا ہے یہی نہیںگرم مشروبات کی ما نگ میں بھی زبردست اضا فہ ہوا ہیسرد مو سم کے باعث دمہ ،سانس اور آتھوپیڈک امراض میںمبتلا مریضوں کو سخت مشکلا ت کا سا منا رہا ۔

ادھر انڈوں اور مرغی کے گوشت کی قیمتوں میں ریکارڈ اضا فہ کے بعد مچھلی کی قیمتوں میں بھی زبردست اضا فہ ہوا ہے گزشتہ ہفتے 390روپے کلو ملنے والی مچھلی کی فی کلو قیمت 460روپے ہو گئی ہے ،دوسری جا نب خشک میوہ جا ت کی ما نگ میں بھی زبردست اضافہ ہوا ہے ۔ سرد مو سم کے باعث شہر کے مختلف علا قوں میں پا نی کی پا ئپ لا ئینیں جم جا نے کے باعث پھٹ پڑی ہیں جسے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضا فہ ہوا ہے۔

دریں اثنا ء محکمہ موسمیات نے سردی کی لہر کے بر قرار رہنے کی پیشنگوئی کر دی ہے ۔ دریں اثناء شدید سردی میں گیس لوڈشیڈنگ اور پریشر میں کمی پر خواتین اور بچے سراپا احتجاج بن گئے ، مغربی بائی پاس پر خواتین اور بچوں نے احتجاج کرتے ہوئے حکومت اور سوئی سدرن گیس کمپنی حکام سے اپیل کی ہے کہ منفی 8ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرات میں گیس لوڈشیڈنگ کا سلسلہ ختم اور پریشر بحال کی جائے ۔

تفصیلات کے مطابق پیر کو کوئٹہ کے علاقے مغربی بائی پاس پر خواتین اور بچے گیس پریشر میں کمی اور لوڈشیڈنگ کے خلاف سراپا احتجاج بن گئے ، مظاہرین نے شاہراہ بند کرکے سوئی سدرن گیس کمپنی حکام کے خلاف نعرے بازی کی ۔ اس موقع پر مظاہرین کا کہنا تھاکہ ہر سال سردی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی گیس پریشر میں کمی اور لوڈشیڈنگ کا سلسلہ شروع کردیا جاتا ہے ۔

جس کی وجہ سے ضعیف العمر افراد اور بچے بیماریوں میں مبتلا جاتے ہیں بلکہ شدید سردی میں گھریلو معاملات زندگی بھی بری طرح متاثر ہوتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ بارہاں سوئی سدرن گیس کمپنی حکام کو آگاہ کیا گیا ہے مگر کوئی شنوائی نہیں ہورہی جس پر انہیں مجبوراً سڑکوں پر آنا پڑا ۔ انہوں نے چیف جسٹس پاکستان اور حکومت سے اپیل کی ہے کہ سوئی سدرن گیس کمپنی حکام کے نوٹس لے کر شدید سردی میں کوئٹہ کے باسیوں کو گیس کی فراہمی کے لئے احکامات دی ۔