کوئٹہ: پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ کے پریس ریلیز میں وفاقی وزیر تعلیم کی جانب سے صوبوں میں تعلیمی معاملات میں اپنی مرضی ومنشاء کے مطابق چلانے اور انتہائی بیجا مداخلت کی پرزورمذمت کرتے ہوئے دراصل اسے اس صوبہ اور خصوصاً جنوبی پشتونخوا کی تعلیمی صورتحال کو تباہی کے دہانے پہنچانے کی طرف ایک سازش قرار دیا ہے ۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ 18ویں ترمیم کے بعد عملاً وفاقی حکومت کا صوبوں کے تعلیمی معاملات پر دیگر محکموں کی طرح کوئی آئینی حق حاصل نہیں لیکن وفاقی وزیر تعلیم مسلسل ایسے اقدامات اور عملیات کرتے رہے ہیں اور آئندہ کیلئے بھی انتہائی تباہ کن اقدامات کی جانب گامزن ہے ۔
جس سے ہمارے صوبے کی بدترین تباہی ہوگی۔ ہمارے موسمی حالات اور زمینی حقائق کے برخلاف تعلیمی سیشن کو ملک کے گرم علاقوں کے ہمنوا بنانے کی سازش کی جارہی ہے کہ جس سے مارچ کی بجائے تعلیمی سیشن اگست میں شروع ہوا کریگا جبکہ میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات مارچ اور اپریل کی بجائے جون میں لینے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔
جو کسی بھی طور پر درست اور حقیقت پر مبنی عمل نہیں اور اس سے ہمارے طلباء کا دوسرا سال بھی ضائع ہوگا۔ اور اگر اس منصوبہ پر عمل کیا جاتا ہے تو تعلیمی سیشن اگست میں شروع ہونے کے بعد شدید سردی اور موسمی حالات کی بناء پر نومبر تا مارچ چلانا ممکن نہیں ہوگا۔
جس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہمارے طلباء کو سال بھر میں صرف چار یا بمشکل چھ مہینے تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے کا موقع مل سکے گا۔ گرم علاقوں میں چونکہ سردیوں کی تعطیلات جنوری فروری میں صرف 15یوم کی ہوتی ہے جس کا اطلاق ہم پر موسمی حالات کی بدولت ممکن نہیںہوگا۔ کیونکہ نومبر کے آخر تا مارچ کے اوائل تک تعلیمی اداروں میں تعلیمی سلسلے کا جاری رہنا ممکن نہیں ہوتا۔