کوئٹہ: صوبائی وزیر خزانہ میر ظہور احمد بلیدی اور رکن صوبائی اسمبلی احمد نواز بلوچ نے کہاہے کہ گلوبل پارٹنرشپ فار ایجوکیشن پروجیکٹ کے اساتذہ کومستقل کرنے کیلئے وزیراعلیٰ بلوچستان سے بات کی جائیگی ،پولیس کی جانب سے اساتذہ کے ساتھ روارکھا رویہ قابل افسوس ہے ،وزیراعلیٰ بلوچستان اور صوبائی وزیر داخلہ نے معاملے کانوٹس لے لیاہے ۔
ان خیالات کااظہار انہوں نے احتجاجی اساتذہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ میر ظہور احمدبلیدی نے پولیس کی جانب سے اساتذہ کے ساتھ روا رکھے گئے رویے پرافسوس کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ اس حوالے سے وزیراعلیٰ بلوچستان اور صوبائی وزیر داخلہ نے نوٹس لے لیاہے امید ہے کہ گرفتاری ساتھی بہت جلد رہا ہوجائیںگے ،اساتذہ کو حکومت بلوچستان نے بھرتی کیاہے گزارش ہے کہ تمام اساتذہ احتجاج ملتوی کرے اور کمیٹی تشکیل دیں۔
جس کے ساتھ بات کرسکیں ہم سے جوکچھ ممکن ہوسکا وہ ہم کریںگے ،انہوں نے کہاکہ مستقلی اساتذہ کا حق ہے حکومت بلوچستان ملازمین کو ان کے حقوق دیںگے ،وزیراعلیٰ بلوچستان سے خود بات کروں گا ہم مسئلے کے حل کی کوشش کرینگے ،یہ اساتذہ اپنے حق کیلئے کھڑے ہیں ،احتجاج جائز ہے ہم عوامی نمائندے ہیں عوام کے مسائل اجاگرکرنا اور حل کرنا ہمارافرض ہے ،بلوچستان نیشنل پارٹی کے رکن اسمبلی احمد نواز بلوچ نے کہاکہ اساتذہ کیلئے اسمبلی فلور پر آواز بلند کی گئی ہے اسپیکر اسمبلی کی رولنگ پر کمیٹی یہاں آئی ہے یہ کمیٹی اساتذہ کے ساتھ وزیراعلیٰ بلوچستان سے بات کرینگے ۔
شکیلہ نوید دہوار نے کہاکہ حکومت اور اپوزیشن پرمشتمل اراکین آئے ہیں ،اساتذہ کمیٹی بنائیں تاکہ ان کے ساتھ مذاکرات کئے جائیں احتجاجی اساتذہ نے کہاکہ اساتذہ کو کنٹریکٹ کی بجائے مستقل کرے ،ہم ایک پراپر طریقے سے بھرتی ہوئے ہیں 5سال سے مشکلات سے دوچارہیں ،گزشتہ پانچ دنوں سے ہم سراپااحتجاج ہیں حکومت کی طرف سے کوئی نہیں آیاہے۔
وزیراعلیٰ کے پاس ہماری سمری دو بار گئی ہے لیکن ان کی طرف سے ریجکٹ کی گئی ہے معاملے کو طول دینے کی بجائے حل کیاجائے ہمیشہ یقین دہانیوں سے کام لیاجارہاہے ۔اساتذہ کی طرف سے پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی جنہوں نے حکومتی واپوزیشن کمیٹی سے مذاکرات کئے ۔