|

وقتِ اشاعت :   January 7 – 2021

کوئٹہ: تحریک نفاذفقہ جعفریہ بلوچستان کے صدر انجینئر ہادی عسکری،جنرل سیکرٹری طارق جعفری نے کہا ہے کہ مچھ میں کی جانے والی دہشت گردی کو نسلی یا مکتبی امتیازات کے عدسوں کے ذریعے دیکھنا بند کیا جائے کیونکہ ایسا کرنا دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے درکار قومی عزم کو کمزور اوردہشت گردوں کو قوت فراہم کرنے کے مترادف ہے ،ماضی کی طرح ہماری لاشوں پرسیاست اور بیک ڈور ڈیل کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

ہم حکومت پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ سانحہ مچھ کے شہدا کے حقیقی وارث انکے لواحقین ہیں نہ کہ مذہب و مسلک کے نام پر سیاست چمکانے والے مفا پرست عناصر ہیں لہذا حکومت صرف ہزارہ شہدا کے لواحقین سے بات کرے اور انہی کے ساتھ طے پانے والی بات قابل قبول تصور کی جائے گی۔یہ بات انہوں نے جمعرات کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ وطن عزیز پاکستان دہشت گردی کی آگ کے شعلوں میں جل رہا ہے اور ہماری ہزارہ قوم کے مرد و زن ،بزرگ اوربچے مچھ میں کوئلہ کان میں دہشت گردوں کے ہاتھوں انتہائی سفاکی اوربے دردی سے قتل کئے جانے والے اپنے پیاروں کی لاشیں سڑکوں پر رکھے بیٹھے ہیں جبکہ انکی آہیں۔

سسکیاں اورآنسو حکمرانوں ،سیاستدانوں اورسیکورٹی اداروں سمیت ارباب اختیاروذمہ داران سے سوال کر رہے ہیں کہ کیا وجہ ہے کہ ہرسانحے کے بعد دہشت گردی کی بیخ کنی کے بارے میں دلائی جانے والی یقین دہانیاں اور کئے جانے والے وعدے محض طفل تسلیاں ثابت ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں اسلامی نظریہ کی بنیاداورایٹمی قوت کی حامل واحد ریاست پاکستان کو روزاول سے ہی عالمی استعمار ی قوتوں اورازلی دشمن بھارت کی سازشوں اورجارحیت کا سامنارہا ہے ۔

جو کسی نہ کسی صورت وطن عزیز پاکستان کو غیر مستحکم اورتقسیم کرنے کی پالیسی پرعمل پیرا ہیں جبکہ پاکستان کا یہ المیہ رہاہے کہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی وفات کے بعد اسے حقیقی لیڈر شپ میسرنہ آسکی اوراگر کوئی رہنما ملا بھی تواسے راستے سے ہٹاکرملک کی باگ دوڑ ان کانگریسی پٹھوں کے ہاتھوں تھمادی گئی جو ماضی میں قیام پاکستان کے مخالفین اورنظریہ اکستان سے یکسر غیرمتفق تھے اورانہی۔

عناصر کے زیراثرپالیسیوں کے باعث سرزمین پاکستان غیرملکی قوتوں کے سیاسی عزائم کی تکمیل اور مفادات کی جنگو ں کا اکھاڑہ بنی۔انہوں نے کہا کہ قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے نظریہ پاکستان کے تحفظ اورآئین کی پاسداری کا علم بلند کرتے ہوئے منافرت انگیزی اورتشدد کی بھر پوراورعملی مخالفت کی اور انہوں نے 1985ء میں دہشت گردی کی جو مناسب ترین تعریف بیان کی اسے بعدا زاں اقوام متحدہ نے بھی اختیار کیا۔

دہشت گرد کو دشمن انسانیت قراریتے ہوئے آغا موسوی نے کہا تھا کہ دہشت گردکو کسی ملک ،مذہب یا مکتب و مسلک سے نتھی نہ کیا جائے دہشت گرد کسی ملک و مذہب کا نمائندہ نہیں بلکہ فقط دہشت گرد ہے لہذا اسے اسی تناظر میں دیکھا اور نمٹا جائے۔انہوں نے کہاکہ کالعدم قراردی جانے والی تنظیموں کے خلاف کارروائی نہ ہونا حکومت اورقانون نافذ کرنے والے اداروں کیلئے سوالیہ نشان ہے۔

تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کا ہمیشہ یہ مطالبہ رہاہے کہ کالعدم تنظیموں کے خلاف بلاتفریق کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی میں ملوث ہونے کے باعث کالعدم قراردی گئی تنظیمیں آج تک کیوں متحرک ہیں اورانکے کام کرنے پر پابندی کیوں نہیں لگائی گئی،کالعدم تنظیموں کے سربراہوں اورعہدیداروں کے نام شیڈول فور سے کیوں نکالے گئے۔

جبکہ انکی جماعتیں تاحال کالعدم ہیں ؟کالعدم گروپوں کے عہدیداران نظریاتی کونسل ،رویت ہلال کمیٹی ،امن کمیٹیوں علماء بورڈ سمیت تمام سرکاری اداروں میں کیوں براجمان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک نفا ذ فقہ جعفریہ بلوچستان میں سیکورٹی فورسز اورایف سی پر ہونے والے حملوں کی بھی مذمت کرتی ہے۔

اوراس بات کاعہد کرتی ہے کہ مادر وطن پاکستان کی سالمیت اورقومی یکجہتی کے فروغ کیلئے ہمہ وقت مصروف عمل رہیں گے اور قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی کی پالیسی کے مطابق دین و وطن کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔