کوئٹہ: ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئر مین صوبائی مشیر کھیل و ثقا فت عبدالخالق ہزارہ نے کہا ہے کہ آج جو پارٹیاں ہمارے غم میں شریک ہورہی ہیں کل انہی پارٹیوں کے دور میں بھی ہم پر حملے ہوتے رہے ہیں۔
احتجاج سب کا حق ہے مگر میتوں کے ہمراہ احتجاج نامناسب ہے اس بار کے دھرنے میں لواحقین اور منتظمین کے مطالبات الگ الگ ہیں کچھ مطالبات آئین سے ٹکرائو کا باعث ہیںہم لواحقین کے مطالبات کو مانتے ہیں منتظمین کے مطالبات کو نہیں مذہبی عناصر کسی اور ایجنڈے کی تکمیل کے لئے شہداء کو استعمال کر رہے ہیں مذہبی شدت پسندی کو فروغ دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔
یہ بات انہوں نے جمعرات کو ہزا رہ ٹائون میں امام با رگاہ ولی عصرمیں پر یس کا نفر نس کر تے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہاکہ سانحہ مچھ دہشتگردی کے حوالے سے اپنی نوعیت کا انوکھا واقعہ ہے اس واقعہ نے انسانیت کا سر شرم سے جھکا دیا ہے جس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں واقعہ کے روز ہی ہزارہ برادری کے نمائندہ قادر نائل اور احمد علی کوہزاد مچھ گئے ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے تمام اسٹیک ہولڈرز نے شہداء کی تد فین کے معاملے پر مشاورت کی۔
جس میں یہ طے پایا تھا کہ اگلے روز ایک بجے میتوں کی تدفین کی جائے گی کچھ پارٹیوں کا یہ فیصلہ تھا کہ ہمیں دھرنا دینا چاہیے ہم نے کہا کہ تدفین کے بعد ہم دھرنا دینگے جبکہ اراکین اسمبلی بلوچستان اسمبلی میں تحاریک پیش کرینگے مشیر کھیل عبدالخالق ہزارہ نے کہا کہ اگلے روز کچھ لوگوں نے زبردستی جنازوں کو اٹھا کر سڑک پر دھرنا دے دیا دھرنے میں کہا جارہا ہے کہ لواحقین کی یہ خواہش تھی۔
مگر بیچارے لواحقین اس بارے میں نہیں جانتے دھرنے میں جو مطالبات کئے جارہے ہیں لواحقین کا ان سے کوئی سروکار نہیں ہے انہوں نے کہا کہ شہداء کے غم زدہ لواحقین کے ہر دکھ درد میں ہم انکے ساتھ ہیں ہزارہ برادری پر دہشتگردی کے سینکڑوں واقعات ہوئے آج جو پارٹیاں ہمارے غم میں شریک ہورہی ہیں کل انہی پارٹیوں کے دور میں بھی ہم پر حملے ہوتے رہے۔
آج امن و امان میں واضح بہتری نظر آرہی تھی دشمن کبھی نہیں چاہے گا یہاں قومیں ایک دوسرے کے ساتھ برابری سے چلیں ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی نے پے درپے واقعات کے بعد بھی مذہبی ہم آہنگی اور بھائی چارے کی بات کی انہوں نے کہا کہ دشمن یہی چاہتا ہے کہ یہاں بدامنی کو فروغ ملے ہزارہ برادری کے دو ہزار شہداء میں ہمارے دور حکومت میں محض 20 لوگ شہید ہوئے۔
ماضی کی نسبت اب صورتحال میں بہت بہتری آئی ہے احتجاج سب کا حق ہے مگر میتوں کے ہمراہ احتجاج نامناسب ہے اس بار کے دھرنے میں لواحقین اور منتظمین کے مطالبات الگ الگ ہیں کچھ مطالبات آئین سے ٹکرائو کا باعث ہیںہم لواحقین کے مطالبات کو مانتے ہیں منتظمین کے مطالبات کو نہیں مذہبی عناصر کسی اور ایجنڈے کی تکمیل کے لئے شہداء کو استعمال کر رہے ہیں ۔
مذہبی شدت پسندی کو فروغ دینے کی کوشش کی جارہی ہے انہوں نے کہاکہ کچھ مطالبات کا تعلق عدالتوں میں جاری سماعتوں سے ہے دھرنے کا فائدہ کچھ اور قوتیں اٹھانا چاہ رہی ہیںمتحدہ اپوزیشن بھی اس دھرنے کو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنا چاہ رہی ہیں مجلس وحدت المسلمین نے اس دھرنے کی ذمہ داری لی جبکہ نام لواحقین کا لیا جارہا ہے ۔