|

وقتِ اشاعت :   January 9 – 2021

تربت: مکران میڈیکل کالج پروجیکٹ آفس کے کنٹریکٹ ملازمین نے مکران میڈیکل کالج تربت میں گزشتہ مہینہ کے آخرمیں کئے گئے20افراد کی غیرقانونی پوسٹنگ پر اپنی تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ ان بھرتیوں میں تمام تر قواعد وضوابط کو پامال کرتے ہوئے بغیر اشتہار،بغیر ٹیسٹ وانٹرویو اوربغیر کسی سلیکشن کمیٹی کے ریٹائرلوگوں کوبھرتی کرکے قانون کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں۔

جبکہ ہم گریڈ1سیگریڈ16کے 33پروجیکٹ کنٹریکٹ ملازمین 2014ء سے مخدوش وپرخطر حالات میں خدمات سرانجام دیتے آرہے ہیں مگرہمیں یکسر نظر اندازکرکے گریڈ 1سے گریڈ4کی آسامیوں پر من پسند اور اوورایج افراد کو پوسٹ کیاگیا ہے انہوں نے کہاکہ 20 جون 2014ء سے ہم 33 کنٹریکٹ ملازمین مکران میڈیکل کالج کی پروجیکٹ پر کام کرتے آرہے ہیں ۔

اس وقت کیا حالات تھے اورکن نامساعد ومخدوش حالات میں ہم کام کرتے رہے ہیں یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے،یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی طرف سے مکران میڈیکل کالج کے ساتھ ساتھ خضدار اورلورالائی میں بھی میڈیکل کالجز کی منظوری ہوئی تھی وہ دونوں میڈیکل کالجز ابھی تک چاردیواریوں سے آگے نہیں بڑھ سکے ہیں ۔

مگرمکران میڈیکل کالج پروجیکٹ اسٹاف کی شبانہ روز محنت و کوششوں سے مکران میڈیکل کالج تربت کے طلباء وطالبات تیسرے سال کا امتحان دے چکے ہیں انہوں نے کہاکہ 2016 میں جب ڈاکٹرسیدعبدالرؤف شاہ پرنسپل تعینات ہوئے تو انہوں نے 8اگست2018ء کو میڈیکل کالج کی139خالی آسامیوں کی بھرتیوں کاپہلا اشتہار شائع کرایا تو پروجیکٹ کے تمام اسٹاف اس امید کے ساتھ پرنسپل کی خدمت میں پیش ہواکہ اشتہار کے مطابق 139آسامیاں خالی ہیں۔

جبکہ پروجیکٹ کے صرف33کنٹریکٹ ملازم ہیں جو سائیٹ پر کام کررہے ہیں مگر انہوں نے پروجیکٹ کے کنٹریکٹ ملازمین کو لینے سے صاف انکارکردیا کہ یہ پروجیکٹ والوں کی آسامیاں نہیں ہیں جس پر پروجیکٹ کے کنٹریکٹ ملازمین نے عدالت میں پٹیشن دائرکرکے بھرتیاں رکوادیں، 2سال بعد پرنسپل نے پروجیکٹ کنٹریکٹ ملازمین کو یہ یقین دہانی کرائی کہ آپ عدالت سے کیس واپس لیں ۔

میں سیکرٹری صحت کے ذریعے آپ تمام کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کرانے کی درخواست کروں گا جس پر کنٹریکٹ ملازمین نے سردست کیس واپس لینے کے بجائے درخواست دیکر کیس رکوادیا تاکہ اگر پرنسپل کی یقین دہانی پر عملدر آمد ہوگی توپھر کیس واپس لیاجائے گا مگر اس دوران پرنسپل نے 24دسمبر2020ء کو تمام تر قواعد وضوابط کے برخلاف کلاس4کے 20ملازمین کے آرڈرجاری کردئیے ہیں ۔

جن میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جواوورایج ہیں یہ ہمارے ساتھ صریح ناانصافی ہے اس حق تلفی کے خلاف کسی صورت خاموش نہیں رہیں گے، انہوں نے صوبائی وزیرخزانہ میر ظہور احمد بلیدائی اور سیکرٹری صحت بلوچستان نور الحق سے درخواست کی کہ وہ ہمارے تجربات کے مطابق ایم ایم سی تربت میں ہماری مستقل کرانے کیلئے سنجیدہ اقدام کریں، انہوں نے مکران ڈویڑن سے تعلق رکھنے والے وفاقی وصوبائی وزراء اور ارکان اسمبلی سے اپیل کی کہ وہ ہماری دادرسی کرانے کیلئے آوازاٹھائیں۔