|

وقتِ اشاعت :   January 9 – 2021

کوہلو: شہیدا مچ کے خلاف نیشنل پارٹی سراپاء احتجاج ،نیشنل پارٹی نے ضلعی جنرل سیکرٹری علی نواز کی سربراہی میںضلعی سیکرٹری سے ریلی نکالی جو شہر کے مختلف راستوں سے ہوتے ہوئے بینک چوک پہنچ گئی جہاں پارٹی کے رہنماوں علی نواز ، مرزا غالب ،نورخان دشتی ،میر ولی سمیت دیگر نے ریلی کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ میچ میں ایف سی اور لیویز فورس کی سیکورٹی کے باوجود کان کنوں کی بے دردی سے قتل کا دلخراش واقعہ قابل مذمت ہے ۔

جس وقت اتنے بے دردی سے ہزارہ قبیلے کے مزدوروں کو ذبع کیا جارہا تھا مگر اس وقت ہماری ریاست کے ادارے نہ جانے کہاں سو رہے تھے اور اب جب جاگ گئیں ہیں بھی بجائے شفاف تحقیقات کرنے کے انہوں نے ڈپٹی کمشنر اور ایس پی کو ٹرانسفر کرکے مسئلے کو حل کرلیا ہے یہاں پر سیکورٹی کے کئی سولات نے جنم لیا ہے اس طرح کے واقعات ماضی میں بھی ہوئے ہیں۔

جن پر شفاف تحقیقات نہیں ہوسکے جس کی بنا پر یہ واقعہ ایک بار پھر رونما ہوا۔ہمارے سیکورٹی اداروں کی غفلت کی وجہ سے آئے روز اس طرح کے واقعات کا جنم لینا باعث تشوش ہے عوام موجودہ نالائق حکومت سے پوچھتی ہے کہ اس واقعے کے ملزمان کی گرفتاری کب تک سامنے آئے گی اور اس میں سیکورٹی اداروں کی ناکامی اور کوتاہی کا کون جواب دے گا ۔

جن کی ڈیوٹی امن وامان اور علاقے کی حفاظت تھا یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ۔دہشت گرد آکر رات کے وقت ہمارے کان کنوں کے ہاتھوں کو باندھ کر ذبع کرتے ہیں اور چلے بھی جاتے ہیں یہ ہماری سیکورٹی کی ناکامی نہیں تو اور کیا ہے اور ان دہشت گردوں کو ہمیشہ گلے کاٹنے کیلئے بلوچ،پشتون اور ہزارہ کیوں ملتے ہیں ہزارہ برداری کے دوہزار افراد کو قتل کردیا گیا ہے۔

اس صوبے میں مگر آج تک واقعات کے ملزمان کی گرفتاری سامنے نہ آنا باعث افسوس ہے اس میں کوئی شق نہیں کہ بھارت اور دیگر بیرونی طاقتیں حالات کو خراب کرنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں ۔

جن کے عزائم کو ماضی میں بھی خاک میں ملا دیا تھا اور آئندہ بھی ہم سب نے پاک فوج کے ساتھ مل کر متحد اور منظم ہوکر مقابلہ کرنا ہوگا نیشنل پارٹی اعلیٰ عدلیہ سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اس مسلئے شوزکاز نوٹس لیکر معصوم ہزارہ برداری کے قاتلوں کو گرفتار کرنے اور اس واقعے کی شفاف تحقیقات میں مدد کریں تاکہ جو ملزمان اس واقعے میں ملوث ہوں ان کو کیفرکردار سزا دی جائے اور آئندہ اس طرح کے واقعات رونما ہونا بند ہوجائیں ۔