کوئٹہ: پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی صدر وسینیٹر عثمان خان کاکڑ نے کہاہے کہ موجودہ وفاقی حکومت کاایجنڈا وطن عزیز برائے فروخت ہے جبکہ وفاقی کابینہ میں شامل منسٹرز آج بھی الطاف حسین کی قیادت میں کام کررہے ہیں ،بلوچستان اور سندھ کی زمین میراث نہیں کروڑوں والی وارث موجود ہے ،آئین کی بات کرنے والے جب خود آئین روندتے ہیں تو خاموشی اختیار کرتے ہیں ۔
حکومت میں کوئی آر ومعیار نہیں کل کودوبارہ آئین کی خلاف ورزی کرکے آرڈیننس لاسکتے ہیں ،بلوچ غیرت مند قوم جو غیر کے ایجنڈے کی بجائے بلوچ عوام ،اپنے حق اور وطن کے ایجنڈے پر کاربند ہے ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے ایوان بالا میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ سینیٹرعثمان کاکڑ نے کہاکہ جزائر ایک اہم ایشو ہے ،وفاق کا بنیادی مقصد کیا ہوتاہے وفاق فیڈریٹنگ یونٹ ہوتاہے ۔
جس میں پنجاب ،سندھ ،بلوچستان اور خیبرپشتونخوا شامل ہے یہ اکائیاں آئینی معاہدے کے تحت وفاق کے زیراہتمام گزشتہ 73سالوں سے موجود ہے ،ہر وفاقی یونٹ کی ہزاروں سال پر محیط تاریخ ہے جب پاکستان نہیں تھا تویہ جزائر سندھ اور بلوچستان کے تھے اگر بلوچ پاکستان میں نہ ہوتا تو گوادر کی ملکیت کا دعویٰ کیسے کرتے ،جزائر کی ملکیت بلوچستان وسندھ کا حصہ جس پر وہاں کی عوام ملکیت ہے۔
جزائر پانی نہیں بلکہ زمین ہے اور ہر وفاقی یونٹ کے ایک ایک انچ پر یونٹوں کا حق ہے ،آئین کے آرٹیکل 152میں وفاقی یونٹوں کی حدود واضح ہے اور اختیار صوبوں کا ہے ،وفاق یا کوئی وفاقی محکمہ صوبوں میں کام کرناچاہیے تو فیڈریٹنگ یونٹ سے زمین اجازت یا لیز پر لیکر کام کرسکتی ہے بغیر اجازت کے کوئی محکمہ کام نہیں کرسکتا، 31اگست2020ء کو آئی لینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے نام سے صدارتی آرڈیننس جاری ہوا جو سراسر غلط ہے۔
منسٹرز کہتے ہیں کہ اجلاس نہ ہو توپھر آرڈیننس جاری ہوتے ہیں ہم اس کی گواہ ہے کہ اجلاس جاری ہونے کے باوجود آرڈیننس جاری کئے جاتے ہیں ،صدارتی آرڈیننس بنڈار اور ڈنگی پر قبضے کاآغاز تھا 3سو کم وبیش چھوٹے بڑے جزائر ہیں ،انہوں نے کہاکہ بلوچستان اور سندھ اسمبلی نے قراردادیں پاس کیں اور اکائیوں کی فیڈریشن میں اہمیت حاصل ہے ۔
آئین میں میری ٹائم ایکٹ میں واضح لکھاہے کہ 12نائیٹکل میلز کے اندر جو معدنیات ہو اس پر صوبوں کا حق ہے اگر تیل نکلتا ہے تو50،پچاس فیصد ہے ،میری دعویٰ ہے کہ موجودہ منسٹر آج بھی الطاف حسین کی قیادت میں کام کررہے ہیں ،مشرف کے کابینہ میں شامل ہوکر ان کی حمایت کررہے تھے آپ کل درست تھے یا آج میں تو کہتاہوں کہ آپ کل بھی غلط تھے آج بھی غلط تھے ،وکیل ہوکر سب کچھ معلوم ہونے کے باوجود وہ اس کی خلاف ورزی کررہے ہیں۔