کوئٹہ: نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر سینیٹر میر کبیر احمد محمد شہی نے کہا ہے کہ تلہ کنگ جیسے پرامن علاقے میں ملزمان چادر وچار دیواری کو پامال کرتے ہوئے ایوب ملک کی گھر اور گاڑی کو نذر آتش کرتے ہیںلیکن انتظامیہ خواب غفلت کا مظاہرہ کرتی ہے آگ سے زیادہ ضلع انتظامیہ کی مجرمانہ خاموشی و رویہ قابل مذمت ہے۔
گزشتہ روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میرکبیراحمدمحمدشہی نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 9بالکل واضح ہے کہ ریاست عوام کی جان ومال اور حقوق کی تحفظ کا ضامن ہے۔لیکن بدقسمتی سے اس سے ہمیشہ روگردانی کی جاتی رہی ہے۔ایوب ملک کی گھر و گاڑی کو نذر آتش کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچانے تک نیشنل پارٹی خاموش نہیں رہے گی انہوں نے کہا کہ چونکہ میرا تعلق بلوچستان سے ہے۔
تو میں یہاں کہنا چاہوں گا کہ بلوچستان امن و امان کے حوالے سے شدید متاثر رہا ہے عوام کا اعتماد قانون نافذ اور انصاف کرنے والوں اداروں سے اٹھ چکا ہے پولیس اسٹیشن میں پوسٹنگ زیادہ بولی کی بنیاد پر ہوں تو کون پولیس اسٹیشن پر اعتبار کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام پھر بھی دستور پاکستان کو تسلیم کرتے ہیں اور آئین و قانون کے مطابق اپنا حق چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تلہ کنگ جہاں برسوں سے کوئی قتل و غارت سمیت کوئی بھی واقع نہیں ہوا۔
جہاں لوگ خود کو محفوظ تصور کرتے تھے۔ جس کی مثال دیا جاتا رہا ہے وہاں اتنا بڑا واقع ہوتا ہے اور انتظامیہ اب تک ایف آئی آر درج کرنے سے قاصر ہے۔تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ نیشنل پارٹی اور ایوب ملک کی ملک میں جمہوریت کی جدوجہد کی پاداش میں ایسے منفی اور گھناونے کھیل کھیلا جارہا ہے ۔ہم ملک کے عوام کو باور کراتے ہیں کہ نیشنل پارٹی عوامی بالادستی آئین و قانون کی حکمرانی جمہوریت کی فروغ کی جدوجہد میں ہر اولین دستے کا کردار ادا کریگی۔
انہوں نے کہا کہ بحیثیت سینیٹر ڈی ایس پی ڈی پی او اور پولیس سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن وہ رابطہ میں نہیں آسکے جو کہ افسوس ہے انہوں نے کہا کہ مقدمہ درج نہ کرنے کا مقصد شواہد کو مٹانے جیسے منفی عمل ہوسکتا ہے جس کو کسی طور پر قبول نہیں کیا جاسکتا۔اس لیے ہمارا مطالبہ ہے کہ فوری طور پر مقدمہ درج کرکے شواہد کے زریعے اصل محرکات کو سامنے لایا جائے۔