کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے ارکان اسمبلی نے پارٹی کے مرکزی نائب صدرآغا موسیٰ جان بلوچ کی اراضیات پر قبضے کی کوششوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے بلوچستان کوبڑے قبائلی تنازعے کی جانب دھکیلنے کی سازش قرار دادیتے ہوئے متعلقہ قبیلے اور بلوچ قوم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایسے عناصر کا سوشل بائیکاٹ کریں ،یہ بات منگل کے روز بلوچستان اسمبلی میں پارٹی کے پارلیمانی لیڈر ملک نصیر احمد شاہوانی، ثناء بلوچ ۔
اختر حسین لانگو ، میر محمد اکبر مینگل ،بابو رحیم مینگل ، میر حمل کلمتی ،احمد نواز بلوچ، شکیلہ نوید دہوار، زینت شاہوانی اور ٹائٹس جانسن نے اپنے مشترکہ بیان میں کہی۔بی این پی کے پارلیمانی اراکین نے مزید کہا کہ پارٹی کے مرکزی نائب صدر پِرنس آغا موسیٰ جان کی اراضیات پر قبضہ کرنے کی کوششیں کرنے والے اسے قبائلی تنازعے کی شکل دے کر صوبے کو بڑی قبائلی رنجش کی جانب دھکیلنے کی سازش کررہے ہیں ۔
بلوچ قوم سماج دشمن عناصر کو ان کی سازشوں میں کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دے گی ، انہوں نے کہا کہ آغا موسیٰ جان بلوچ کی اراضیات پر قبضے کیلئے آنیوالے اسلحہ بردار افراد جو بلوچستان کے حالات خراب کرنا چاہتے ہیں ان کیخلاف حکومت کی جانب سے تاحال کارروائی نہ کرنا معنی خیز ہے ، بلوچستان حکومت کو قبضہ مافیا کیخلاف کارروائی سے اجتناب کرکے ان کی پشت پناہی کرنے کی بجائے۔
ان کیخلاف کارروائی کرنی چائیے۔ انہوں نے کہا کہ منفی ہتھکنڈے ،سیاسی انتقامی کارروائیوں کے ذریعے پارٹی کو قومی حقوق کی جدوجہد سے نہیںروکا جاسکتا ہے۔ انہوں نے بلوچ قوم اور متعلقہ قبیلے کے افراد سے مطالبہ کیا کہ وہ صوبے کے ایک معتبر گھرانے کیخلاف سازشیں کرکے بلوچستان کوبڑے قبائلی تنازعے کی جانب دھکیلنے والے عناصر کا سوشل بائیکارٹ کریں۔