|

وقتِ اشاعت :   March 24 – 2021

بلوچستان میں تعلیمی ادارے بند نہ کرنے کا فیصلہ

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی زیر صدارت این سی او سی کا آن لائن اعلی سطحی اجلاس 

 وزیر اعظم کے مشیر برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان،  صوبائی وزراء صحت و تعلیم اور سیکرٹریز کی شرکت، بلوچستان میں تعلیمی ادارے بند نہ کرنے کا فیصلہ

این سی او سی کے اجلاس میں بلوچستان سے پارلیمانی سیکرٹری صحت ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے نمائندگی کی اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر علی ناصر بگٹی، کوویڈ سیل بلوچستان کے سربراہ ڈاکٹر نقیب اللہ نیازی، سیکرٹری ثانوی تعلیم بلوچستان شیر خان بازئی اور سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن ہاشم غلزئی نے بھی آن لائن شرکت کی 

بلوچستان میں کوویڈ پوزیٹو ریٹ 3 سے 3 اعشاریہ آٹھ کے درمیان ہے ،

 بلوچستان میں بہت تعلیمی حرج ہوچکا ، محکمہ صحت صوبے کے تعلیمی ادارے بند کرنے کی ایڈوکیسی نہیں کرسکتا ،


 ائیر پورٹ،  ریلوے اسٹیشن،  بس ٹرمنلز پر دیگر صوبوں سے آنے والے مسافروں کی اسکریننگ کررہے ہیں


 این سی او سی کی گزشتہ میٹنگ کے فیصلے کے مطابق صوبے کے گرم اور سرد علاقوں میں  کوویڈ پھیلاؤ کی صورتحال کو کلوزلی مانیٹر کیا گیا

بلوچستان میں حالات کنٹرول میں ہیں صوبے میں کہیں بھی لاک ڈاون یا سمارٹ لاک ڈاون نہیں اور نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے 


خدانخواستہ کوویڈ پھیلاو کی صورت میں این سی او سی کی گائیڈ لائن کے مطابق اسٹریٹیجی بنائیں گے تعلیمی ادارے بند کرنے کے حق میں نہیں،  ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گاکسی بھی بیماری،   وباء یا ناگہانی صورتحال میں تعلیمی شعبے سے متعلق کلئیر اسٹانس ہونا چاہیے،

 ناگہانی صورتحال میں کیمرج کی طرز پر تعلیمی تسلسل و اپ گریڈیشن کا واضح تعین ضروری ہے   وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود اور وزیر اعظم کے مشیر برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کا بلوچستان کے موقف سے اتفاق ، بلوچستان کے تعلیمی ادارے بند نہیں ہونگے ، بلوچستان ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے مانیٹرنگ جاری رہے گی این سی او سی میں فیصلہ