کوئٹہ: بلوچستان بار کونسل کے وفد کا وائس چیئرمین بلوچستان بار کونسل قاسم علی گاجزئی کے سربراہی میں وکلا وفد نے گلوبل پارٹنرشپ آف ایجوکیشن کے احتجاجی کیمپ خواتین اساتزہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔
وفد میں بلوچستان بار کونسل کے چیئرمین بین الصوبائی راحب خان بلیدی ایڈووکیٹ کو ئٹہ بار کے جرنل سیکرٹری علی حسن بگٹی لائبریرین سیکریٹری صبا زاہد کوئٹہ بار کے سابق جرنل سیکرٹری خوشحال خان کاسی کاسی امین اللہ غرشین ایڈووکیٹ ذاکر کاکڑ ایڈووکیٹ امان اللہ جعفر فداحیسن بلوچ ایڈووکیٹ کے علاوہ دیگر وکلا شامل تھے وکلا وفد نے احتجاج میں بیٹھے خواتین اساتزہ کو یقین دلایا کہ بلوچستان بار کونسل اس مشکل وقت میں اساتذہ کے ساتھ ہے۔
وکلا وفد نے اپنے گفتگو اور خطاب میں حکومت بلوچستان پر کڑی نکتہ چینی کی اور کہا کہ نااہل صوبائی حکومت کے وجہ سے آج خواتین بچے دھرنہ دئیے بیٹھے ہیں اس وقت بلوچستان تعلیم کے حوالے سے پسماندہ صوبہ ہے تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی شدید کمی ہے اس کے باوجود بھی انہیں مستقل نہ کرنا صوبائی حکومت کی نااہلی ہے وکلا وفد نے خواتین اساتزہ کو یقین دلایا کہ وہ خواتین کے مستقلی جدوجہد میں ان کے ساتھ ہیں۔
وکلا نے جونئیر ٹیچرز کے تادم مرگ بھوک ہڑتالی کیمپ میں موجود اساتذہ سے بھی اظہار یکجہتی کیا اور ان کے ساتھ بھی بھر پور تعاون کا یقین دلایا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ انہیں فوری طور پر پروموشن دیکر اساتزہ کے تمام جائز مطالبات کو منظور کیا جائے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان ہائیکورٹ آف بلوچستان اور سروس ٹریبونل کے فیصلے کے مطابق انہیں پروموشن دیا وکلا وفد نے کمیونیکیشن اینڈ ورکس ڈیپارٹمنٹ کے قائم بھوک ہڑتالی کیمپ کے شرکا سے اظہار یکجہتی کیا اور انہیں ہر قسم کے تعاون کا یقین دلایا۔