|

وقتِ اشاعت :   March 27 – 2021

کوئٹہ: جوائنٹ ایکشن کمیٹی جامعہ بلوچستان کے زیراہتمام جامعہ بلوچستان کو درپیش سخت مالی ،انتظامی بحران کے خلاف جاری تحریک کے سلسلے میں آ ج بروز جمعہ کو بھی بہت بڑا احتجاجی ریلی اور ایڈمنسٹریشن بلاک کے سامنے احتجاجی مظاہرہ منعقد ھوا،۔احتجاجی جلسے سے اکیڈ مک سٹاف ایسوسی ایشن جامعہ بلوچستان کے صدر پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ، ایمپلائزایسوسی ایشن کے صدر شاہ علی بگٹی، فرید خان اچکزئی،ڈاکٹر شبیراحمد شاہوانی اور سید بابر نے خطاب کیا۔

مقررین نے صوبائی حکومت کے کابینہ میں جامعہ بلوچستان سمیت دیگر جامعات کے ایکٹس میں ترامیم کے فیصلے پر سخت تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ تعلیم ،تحقیق و صوبہ دشمن ترامیم کی کسی بھی صورت اجازت نہیں دی جاسکتی، انھوں نے کہا کہ جنرل مشرف دور کے آمرانہ ماڈل یونیورسٹی آرڈیننس کے طرز پر ترامیم سے جامعات کے پالیسی ساز اداروں خصوصا سینڈیکت ،اکیڈمک کونسل، فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی اور سینٹ سے اساتذہ کرام۔

ممبران صوبائی اسمبلی اور طلبا کی منتخب نمائندگی ختم کر کے جمہوری کلچر اور اظہار رائے پر پابندی کے مترادف ہوگی جو آمرانہ سوچ کی عکاس ہے،اور جنرل مشرف کے دور میں ہی صوبائی اسمبلی نے اس آمرانہ تعلیم و تحقیق دشمن ماڈل یونیورسٹی آرڈیننس کو مسترد کردیاتھا مقررین نے کہا کہ ک افسوس سے کہنا پڑا رہا ہے کہ جامعہ میں کئی روز سے ملازمین اپنے بنیادی حق مکمل تنخواہ کی ادائیگی، ہائوس ریکوزیشن ،یوٹیلٹی الاونسس، پینشنرز کو وقت پر پینشن کی ادائیگی۔

سینڈیکت کے 87واں اور 88واں اجلاس میں کئے گئے فیصلوں جس میں اساتذہ کو اسسٹنٹ پروفیسر و دیگر کی پوزیشنز پر پرانے طریقہ کار کے مطابق اجازت دینے، آفیسرز اور ملازمین کو پروموشن اور ٹائم دینے، اساتذہ کو ایم فل اور پی ایچ ڈی کلاسسز و امتحانات و تمام ملازمین کو گروپ انشورنس، پری میچور انکریمنٹس دینے کے لئے سراپا احتجاج ہیں لیکن بدقسمتی سے جامعہ کے انتظامی سربراہان اور خزانہ افیسر نے مجرمانہ خاموشی اختیار کی ہے۔

جو قابل گرفت عمل ہے، مقررین نے کہا کہ جامعہ کے انتظامی سربراہان اور خزانہ افیسر نے مرکزی اور نہ صوبائی حکومت کو جامعہ کے لئے مطلوبہ فنڈز جاری کرنے کے لئے راضی نہیں کیا بلکہ ان کی اس بابت کوئی دلچسپی بھی نہیں ہیں، فنڈز لانا تو کجا الٹا جامعہ ایک ارب بیس کروڑ روپے سے زائد قرض دار ھوچکی ہے جبکہ دوسری جانب چور دروازے سازشی ہتکھنڈوں کے ذریعے جامعہ بلوچستان کے 1996 کے ایکٹ میں تعلم دشمن ترامیم میں مصروف ہے۔

جسکی کسی صورت اجازت نہیں دی جاسکتی، مقررین نے مسلط شدہ وائس چانسلر کو خبردار کیا کہ وہ اس تعلیم و صوبہ دشمن اقدام سے باز رہیں ۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں، صوبائی وزرا و اسمبلی کے ممبران وکلا و طلبا تنظیموں سے پر زور اپیل کی کہ جامعہ بلوچستان اور دیگر جامعات کے ایکٹس میں آمرانہ اور تعلیم دشمن ترامیم کو روکنے کے لئے عملی طور پر میدان میں نکل آئے۔

انھوں نے اعلان کیا کہ بروز بدھ کو پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا، جبکہ جامعہ کے مین گیٹ و دیگر جگہوں پر احتجاجی بینرز آویزاں کئے جا ئنگے اور جامعہ کے مین گیٹ پر علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ بھی لگایا جائیگا ۔