|

وقتِ اشاعت :   March 27 – 2021

کوئٹہ: سپریم کورٹ بار ایسوسیشن کے سابق صدر سینٹر(ر)امان اللہ کنرانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یوسف رضا گیلانی کی سینٹ میں ‘‘سرکاری’’ اپوزیشن لیڈر کی تقرری 2003 میں جنرل پرویز مشرف کی جانب سے قومی اسمبلی کے اندر حقیقی اپوزیشن لیڈر مخدوم امین فھیم مرحوم کی بجائے مولانا فضل الرحمن صاحب کو قائد حزب اختلاف مقرر کرنے کی یاد تازہ و پیروی کی مماثلت ہے ۔

جس سے یوسف رضا گیلانی ذاتی طور پر جبکہ پیپلز پارٹی سیاسی طور پر ملک بھر کے سیاسی کارکنوں کے لئے قصہ پارینہ بن کر پنجاب سمیت ملک بھر سے اس کا صفایا ہوجائے گا جس سے ان کا اعتبار و بھروسہ ختم ھوگیا ہے اس سے غیر مرء قوتوں کو تقویت ملی ہے وہاں پیپلز پارٹی تنہا ئی کا شکار ہوجائے گی مگر اس سے اصولوں کی سیاست پر کو اثر نہیں پڑے گا یہ سرکاری انتظام حکومت کی خوف کی علامت اور مصنوعی سانس کے ذریعہ قائم رکھنے کی کوشش ہے ۔

آج PPP نے پی ڈی ایم کا عددی و اخلاقی،قانونی،سیاسی جواز کے ساتھ جیتی ھوئی چیئرمین سینٹ کا الیکشن محض لیڈر آف اپوزیشن کی معمولی عہدے کی قیمت پر جناب سنجرانی کے قدموں تلے ھار دیا ہے۔

ایک غیر قانونی و طلسماتی و دن دھاڑے ڈاکہ زنی کے ذریعے چیئرمین سینٹ کے متنازعہ و مشکوک الیکشن کو اپنے ہی ہاتھوں قانونی جواز فراھم کردیا ہے جو پی ڈی ایم کے اعتماد کو دھچکہ سمیت آئین و قانون و سیاست کی اخلاقیات پر ایک بے رحمانہ و مجرمانہ ناقابل معافی وار ہے۔